ڈالر کا ماجرائے عجیب‘ خورشید شاہ کی گفتگوئے غریب

عجیب ماجرا ہوا ہے کہ ڈالر دو روز میں چودہ پندرہ روپے سستا ہو گیا ہے اور مزید عجیب معاملہ یہ بتایا جا رہا ہے کہ مہینے کے اندر اندر اتنا سستا ہو جائے گا کہ دو سو روپے سے بھی کم پر آجائے گا۔ اس ماجرائے عجیب کی تشر یحیں بھی عجیب ہیں۔ ایک مزید پڑھیں

نئی روحانی توانائی اور حکمت عملی کی تلاش

میری سوئی بسااوقات کچھ ایسے واقعات پر ضرورت سے زیادہ اٹک جاتی ہے جنہیں مجھ جیسے ”تجزیہ کار“ کہلاتے افراد خاص توجہ کے قابل نہیں سمجھتے۔ منگل کی صبح برسوں کے انتظار کے بعد الیکشن کمیشن نے اپنا فیصلہ سنادیا۔عمران خان صاحب اور ان کی جماعت پر اس فیصلے نے بھاری بھر کم ”ممنوعہ فنڈنگ“ مزید پڑھیں

عمران خان جان لیں کہ چوری کسے کہتے ہیں!

تحریر۔سید مجاہد علی الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کو ممنوعہ ذرائع سے پارٹی فنڈ جمع کرنے اور پارٹی چیئرمین عمران خان کو جھوٹا تصدیقی سرٹیفکیٹ جمع کروانے کا مرتکب قرار دیا ہے۔ اس معاملہ پر اب سیاسی مباحث اور قانونی رسہ کشی تو ہوتی رہے گی لیکن یہ واضح ہو چکا ہے کہ مزید پڑھیں

ممنوعہ فنڈنگ کا فیصلہ، عمران خان کی صداقت و دیانت پر سوالات

تحریر۔نصرت جاوید اس موضوع پر مزید لکھنے سے قبل واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو قانونی موشگافیوں کی بدولت ”کالعدم“  ٹھہراتے ہوئے سیاسی اعتبار سے بے اثر نہیں بنایا جاسکتا۔ 1970ء کی دہائی میں بھٹو حکومت نے ولی خان کی چلائی نیشنل عوامی پارٹی کے مزید پڑھیں

سیلاب کو سیاسی ہوتے دیر نہیں لگتی

تحریر۔وسعت اللہ خان رفتہ رفتہ تباہ کاری کی کتاب ورق در ورق کھلتی جا رہی ہے۔ آخری پنے تک پہنچتے پہنچتے جانے املاکی و جانی و مواصلاتی تباہی کی کیا تصویر بنے۔ آثار یہی بتا رہے ہیں کہ دو ہزار دس کے بعد آنے والا یہ سب سے ظالم مون سون ہے۔ تب خیبر پختون مزید پڑھیں

شادی سے بھاگنے والی لڑکیوں کا انجام

تحریر۔حاشر ابن ارشاد سترہ سالہ عنبرین کو سزا دینے کے لیے تیرہ بزرگوں کا جرگہ بیٹھتا ہے۔ الزام کیا ہے۔ عنبرین نے اپنی ایک سہیلی کو اس کی مرضی کے خلاف رشتہ ہونے پر گھر سے فرار ہونے میں مدد دی تھی۔ فیصلہ سنایا جاتا ہے۔ چیختی چلاتی بے بس عنبرین کے گلے میں پھندا مزید پڑھیں

دلبر چچا کا چاپڑ

تحریر۔وسعت اللہ خان یہ نصف صدی پہلے کا مضمون ہے جو نصف صدی بعد باندھا جا رہا ہے۔ تب کلو نے سیر کو بے گھر نہیں کیا تھا۔ تب بھینس کا گوشت کوئی نہیں کھاتا تھا۔ ہوتا ہو گا بیف اور مٹن بھی کہیں نہ کہیں۔ پر ہمارے ہاں بڑے کا مطلب گائے یا بچھیا مزید پڑھیں

اچھے دنوں کی امید اور بھارت کی ناکامی

تحریر – محمد اکرام چودھری کبھی عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی عمران خان کے لیے گایا کرتے تھے کہ “اچھے دن آئے ہیں، اچھے دن آئے ہیں” وہ دن اچھے تھے یا برے اس کا فیصلہ تو تاریخ نے کرنا ہے کیونکہ پاکستانیوں کی زندگی میں ایسے دن ابھی نہیں آئے کہ وہ اچھے اور مزید پڑھیں

قصور چھوٹے کا نہیں تھا 

تحریر – عبداللہ طارق سہیل بڑے کی عمر دس گیارہ سال تھی، چھوٹا چھ سال کا تھا۔ دونوں کو کراچی سے ان کے مفلس ماں باپ نے نوکری کے لیے ڈیفنس لاہور کے ایک بڑے گھر میں بھیجا تھا۔ 24 گھنٹے کی نوکری کے عوض دونوں کو ملا کر بارہ ہزار روپے کی تنخواہ ملتی مزید پڑھیں

سری لنکا کو اب کون سنبھالے گا 

تحریر – نصرت جاوید جارج آرول ایک مشہور برطانوی لکھاری تھا ۔ جب اس کا ملک ہمارے خطے میں سامراج کی حیثیت میں مسلط تھا تو پولیس میں بھرتی ہوگیا۔برما میں تعیناتی کے دوران اس نے ان تمام ہتھکنڈوں کو خوب سمجھ لیا جو محکوم انسانوں کی جبلت کو ’’خوئے غلامی‘‘ میں بدل دیتے ہیں۔ مزید پڑھیں