16 کروڑ کا ایک انجیکشن ہے، آپ کی بیٹی 6 ماہ سے زیادہ زندہ نہیں رہے گی کیونکہ۔۔۔ ننھی بچی اور اس کے والدین کی رلا دینے والی کہانی

ماں باپ دنیا کی وہ عظیم ہستیاں ہیں جو اپنے بچوں کے لیے جان بھی دینے سے دریغ نہ کریں، ایسے میں جب ان کے بچے کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح بچہ اس تکلیف سے باہر نکل آئے۔

ایسا ہی کچھ تیرا کے والدین نے کیا۔ جی ہاں! بھارت سے تعلق رکھنے والی ننھی تیرا جو محض 5 ماہ کی ہے، جب پیدا ہوئی تو بالکل تندرست تھی۔

اس کے والد مہر کامت نے بتایا کہ ”پیدا ہوتے وقت اس نے بہت شور کیا۔ جب وہ اپنی پیدائش کے بعد روئی تو آواز پورے اسپتال میں گونج رہی تھی۔ اس کا دماغ عام بچوں سے زیادہ تیز تھا۔ اس کا سر تیر کی طرح تھا، یہ ہی وجہ تھی کہ ہم نے اس کا نام تیرا رکھا”۔

مہر کامت کا کہنا تھا کہ ”پیدائش کے بعد تیرا گھر آ گئی اور دیکھنے میں سب کچھ ٹھیک تھا، لیکن جلد ہی ہمیں محسوس ہوا کہ تیرا والدہ کا دودھ پیتے ہوئے اپنا دم گھٹتے ہوئے محسوس کرتی تھی”۔

بچی کے جسم میں پانی کی کمی تھی۔ ایک مرتبہ جب اس کی سانسیں کچھ سیکنڈ کے لیے رُکی تو اس کے ماں باپ کو لگا کہ تیرا انتقال کر چکی ہے۔

تاہم نیورولوجسٹ کو چیک کروانے کے بعد پتہ چلا کہ بچی کو ایس ایم اے ٹائپ 1 نامی مرض ہے۔ دراصل انسانوں کے جسم میں ایک جین موجود ہوتا ہے، جو پروٹین بناتا ہے اور اسی کے ذریعے پٹھوں اور اعصاب کو زندہ رکھا جاتا ہے۔ لیکن یہ جین تیرا کے جسم میں موجود نہیں تھا۔

یہ پروٹین تیرا کے جسم میں نہ بننے کی وجہ سے اس کے اعصاب مردہ ہونے لگے تھے جبکہ دماغ بھی سست اور بے جان ہونے لگا تھا۔

تاہم رواں ماہ تیرا کو اسپتال میں داخل کیا گیا جس کے بعد اس کے پھیپھڑوں نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا جس کے بعد اسے وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا۔

تیرا کے والد مہر ایک آئی ٹی سروس کمپنی میں کام کرتے ہیں جبکہ ماں پرینکا مصور ہیں۔

ڈاکٹرز نے بچی کے والدین کو بتایا کہ ”آپ کی بیٹی چھ ماہ سے زیادہ زندہ نہیں رہے گی، کیونکہ بھارت میں اس مرض کا کوئی علاج نہیں”۔

اس کے علاج کے لیے جو انجیکشن درکار ہے وہ امریکہ سے لیا جا سکتا ہے لیکن اس انجیکشن کی قیمت 16 کروڑ انڈین روپے کے لگ بھگ ہے۔

مہر کا کہنا تھا کہ ”میں نے اپنی بیوی کو پہلے دن بتایا تھا۔ میں نے کہا اگر آپ رونا چاہتی ہیں تو اب نہ رونا کیونکہ ابھی ایک طویل جدوجہد آگے ہے”۔

مہر نے بتایا کہ ”ہم نے اپنی بچی کی کہانی سوشل میڈیا پر شئیر کی، بہت سے لوگوں نے ہم سے رابطہ کیا اور ہماری مدد بھی کی یہ ہی وجہ ہے کہ آج ہمارے پاس تقریباً 16 کروڑ روپے جمع ہو چکے ہیں لیکن یہ رقم تو صرف انجیکشن کی قیمت ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی اخراجات ہیں”۔

دوسری جانب ڈاکٹروں نے بھی امریکہ سے انجیکشن لینے کا عمل شروع کر دیا ہے، مگر اس میں وقت لگے گا۔

لیکن ان سب مشکلات کے بعد بھی تیرا کے والدین پر امید ہیں کہ ان کی بیٹی جلد مکمل صحت یاب ہو جائے گی اور عام لوگوں کی طرح زندگی گزارے گی۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments