سیاسی رہنماءو ں سے سیکیورٹی واپس لینے کا معاملہ

تحریر: ۔ فضل عظیم قریشی

چند دن پہلے حکومت خیبر پختونخوا نے صوبے کے مختلف سیاسی جماعتوں بشمول حکو متی جماعت تحریک انصاف کے 29 رہنماءوں سے سیکیورٹی واپس لینے کے احکامات جاری کئے ۔ ان میں سے اس صوبے اور ملک کی بقاء کے لئے لڑنے والے اور 24 گھنٹے دہشت گردوں کے ہٹ لسٹ پر رہنے والے امیر حیدر خان ہوتی صاحب ، میاں افتخار حسین صاحب، آفتاب احمد خان شیرپاءو صاحب اور انجینئر امیر مقام صاحب بھی شامل ہیں ۔ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ مذکورہ حضرات پر کس قسم کے حملے ہوچکے ہیں اللہ نے ذاتی طورپر ان کو بچالیا ہے کیونکہ زندگی باقی تھی لیکن ان حملوں میں کتنے لوگ دہشت گردی کا شکار ہوکر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔ یہ بھی قابل غور بات ہے کہ جو لوگ ان حملوں کا شکار ہوگئے اللہ کو منظور تھا ورنہ اصل نشانہ اور اصل ہدف مذکورہ حضرات تھے ۔ پھر ان میں سے میاں افتخارحسین صاحب کے اکلوتے بیٹے میاں راشد حسین کی جوانی اس مٹی کے لئے اس کے باپ کی وکالت کی وجہ سے قربان ہوئی ۔ ان میں سے ایسے لوگوں کے نام بھی شامل ہیں جو کسی زمانے میں ایک یونین کونسل یا ویلج کونسل کے ناظم رہ چکے ہیں لیکن موجودہ حکومت میں ان کے رشتہ دار یا عزیز واقارب کسی عہدے پر فائز ہیں اس وجہ سے انہیں بھی سیکیورٹی دی گئی تھی جو صرف نمود و نمائش کی خاطر تھا واضح طور پر انہیں کوئی خدشہ نہیں ۔ ایسے لوگ بھی اس میں شامل ہیں جن کی وفات کو ایک سال سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے ۔ جس دن ان کی فوتگی واقع ہوئی اس کے تیسرے دن سیکیورٹی ہٹانے کے احکامات صادر فرماتے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کی وفات کے بعد انکی قبروں پر پہرہ دینے کے لئے سیکیورٹی کی سہولت دی گئی تھی.خیبر پختونخوا حکومت کی پیروی کرتے ہوئے دو دن بعد وفاقی حکومت نے بھی کئی موجودہ وزراء او ر افسر شاہی سے جزوی سیکیورٹی واپس لینے کا حکمنامہ جاری کیا ۔ تمہیدبالا باندھنے سے ہمارا مقصود یہ ہے کہ جن لوگوں کو سیکیورٹی کی ضرورت ہے انہیں ضرور دی جائے ۔ جن کو کوئی واضح خطرہ نہیں یا زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں تو انہیں سیکیورٹی دینے کا کوئی فائدہ نہیں اسے واپس لیا جائے ۔

خطے کے حالات کو دیکھ کر مذکورہ فیصلے پر افسوس کے بغیر کیا کیا جاسکتا ہے. ایک طرف ملک کے اندرونی حالات ایسے ہیں کہ لمحے ، لمحے کی فکر رہتی ہے دوسری افغانستان، انڈیا اور ایران کے ساتھ ہمارے ملک کے معاملات اس ڈگر پر چلے ہیں کہ بدامنی کا عنصر فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ ایک طرف تو اکثر سیاسی رہنماءوں کو وزارت داخلہ یا متعلقہ ڈپٹی کمشنر کی طرف سے نقل وحرکت محدود کرنے کا کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی جان کو خطرہ لاحق ہے جب کہ دوسری طرف ان سے سیکیورٹی واپس لی جاتی ہے ۔ جس دن میں اخبار میں یہ خبر پڑھ رہا تھا اس دن اس خبر کے ساتھ ہی دوسری متوازی خبر یہ تھی کہ ملک بھر میں دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری، سی ٹی ڈی نے دو خطرناک دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا ۔ کتنی افسوس کی بات ہے کہ ایک طرف دہشت گردی کی لہر بڑھنے کی باتیں ہو رہی ہیں اور دوسری طرف اہم سیاسی شخصیات سے سیکیورٹی واپس لینے کے احکامات جاری کئے جارہے ہیں ۔ کیا یہ ایک دیوانے کے خواب کے مترادف عمل نہیں حکمران وقت بشمول اپنے حمایتی کارندوں کے یہ تاویلیں پیش کررہی ہیں کہ عوام کا پیسہ سیاسی رہنماوں کے تحفظ پر کیوں صرف کیا جائے اور یہ کہ پولیس خیبرپختونخوا کے عوام کی حفاظت پر مامور رہے گی ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سیاسی رہنما خیبر پختونخوا کے باسی نہیں یا یہ عوام میں سے نہیں

میاں نواز شریف نے 1997 میں حکومت بنانے کے بعد یہ غلطی کی تھی کہ انہوں نے منتخب ممبران کے اختیارات میں میرٹ یقینی بنانے کے بہانے کمی لائی تھی جس کا اثر یہ پڑا کہ اب عوام کے چھوٹے چھوٹے کام بھی بڑے سے بڑے عہدہ دار کی سفارش سے نکلتے نہیں ۔ عمران خان کی حکومت کی ہر ایک پالیسی پر نظر ڈالنے سے بخوبی پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنے سب سے بڑے سیاسی مخالف نوازشریف کی نقش وقدم پر ہی چلنے کا ٹھان چکے ہیں ۔ ابھی دو مہینوں کی بات ہے پشاور میں ایک منتخب نمائندے اور ایک پولیس آفیسر کے درمیان پھڈا پڑ گیا تھا جو وزیراعلی کی مداخلت کے بغیر حل نہ ہوسکا ۔ اصلاحات کے نام پر کھیلے جانے والے کھیل نے بظاہر گتھی سلجھانے کا عندیہ دے کر حقیقتاً گتھی کو الجھا دیا ۔

چند سوالات پر غور کرکے معلوم ہوگا کہ سیکیورٹی کا معاملہ کتنا حساس ہے (۱) جن سیاسی رہنماءوں سے سیکیورٹی واپس لی گئی ہے کیا یہ اس ملک کے باسی نہیں (۲) کیا یہ لو گ اس ملک کے خزانے کو ٹیکس نہیں دیتے (۳) کیا ان کی زندگی مال غنیمت ہے جو پائے وہ کھائے اور حساب نہ دے. ان سوالات کا جواب اگر اثبات میں ہے تو حکومت وقت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ انہیں سیکیورٹی ضرور دے اگر نفی میں ہے تو پھر ٹھیک ہے ۔ بدقسمتی سے ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سے بھی مکمل سیکیورٹی واپس لی گئی ہے اس بات کی پرواہ کئے بغیر کہ ان کے فیصلے اور مافیا پر ہاتھ ڈالنے کا عمل اپنی جان کو شیر کے منہ میں ڈالنے کے مترادف ہے ۔

اے این پی کے اکابرین سے ایسے وقت میں سیکیورٹی لینے کے احکامات صادر فرمائے گئے جب وہ ایک بم دھماکے میں شہید ہونے والے اپنے بہادر سپوت ہارون بشیر بلور جو اس صوبے کی مٹی کو دہشت گردی کی عفریت سے پاک کرنے کا عزم لے کر شہید ہونے والے باپ بشیر احمد بلور کے صاحبزادے تھے کی برسی منا رہے تھے ۔ موجودہ حکومت کو معلوم نہیں اتنے احمقانہ مشورے کون دے رہا ہے ۔ یا تواس حکومت کو اپنے سیاسی مخالفین سے انتقام لینے نے اندھا کیا ہے یا انہیں کسی کی زندگی عزیز نہیں ۔ یہ بات اپنی جگہ کہ موت کا وقت مقرر ہے اسے ٹالا نہیں جا سکتا لیکن اپنے شہریوں کی زندگی کا تحفظ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومت کو اس ذمہ داری کو پوار کرنے کا کوئی شوق اور پرواہ نہیں ۔ سیکیورٹی کے باوجود تھوڑی سی بے احتیاطی نے بے نظیر بھٹو جیسی عظیم لیڈر کی جان لے لی جب سیکیورٹی صفر کے برابر ہو تو کیا ہوگا

سطوربالا کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت وقت کو فورا سے بیشتر اپنا فیصلہ واپس لینا چاہئے ایسا نہ ہو کہ کوئی بھی ناگفتہ بہ سانحہ رونما ہونے کے بعد عوام کو شک کے بجائے یقین ہوجائے کہ سیاسی رہنماءوں سے سیکیورٹی اس غرض سے لی گئی تھی کہ انہیں راستے سے ہٹایا جائے ۔ اس کے علاوہ انہیں سیکیورٹی دینا حکومت کی ذمہ داری اور سیاسی رہنماءوں کا حق ہے لہذا حکومت وقت نہ اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کرکے غفلت کا مظہر بن جائے اور نہ ا ن لوگوں سے اپنا حق چھینے اسی میں خیر ہوگی ۔ البتہ اگر حکومت وقت کو حالات خراب کا شوق ہے تو وہ الگ بات ہے ۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments