پاکستان پر جنگ کے منڈلاتے سیاہ بادل

افغانستان میں حصول اقتدار کے لیے جاری خانہ جنگی کے اثرات پورا خطہ ارض پر رونما ہو رہے ہیں. پاکستان، چین، روس سمیت سبھی ممالک اس آسیب سے نبردآزما ہونے کے لیے تیاریوں میں مصروف عمل ہیں. امریکہ بہادر جو خود کو دنیا کی سپر پاور کہتا ہے. افغانستان سے دم دبا کر بھاگ گیا ہے. بھاگتے وقت اس نے اس نام نہاد حکومت کو بھی اعتماد میں لینا ضروری نہیں سمجھا. جس کے کندھوں پر بیٹھ کر یہ افغان عوام پر مظالم کے پہاڑ توڑتا رہا ہے. وہ بھی آج اس کی بے وفائی کا رونا رو رہی ہے. اقتدار کی کشمکش کے اس دلچسپ کھیل میں جو سب سے زیادہ نقصان میں رہا ہے. وہ ہے بھارت. امریکہ بہادر کے افعانسارن پر قبضہ کے ساتھ ہی بھارت نے ایک پلان ترتیب دیا. کہ وہ پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لیے خود کو افغانستان میں بہت زیادہ مضبوط کرے گا. اپنے اس مقصد کے حصول کے لیے اس نے افغانستان میں بھاری سرمایہ کاری کی. ماضی میں یہ افغان عوام کو بھلا پھسلا کر پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتا رہا ہے. دیہاتوں میں کھیت سے گھر تک اجناس منتقل کرنے کے لیے بیل گاڑی کا استعمال کیا جاتا ہے. آپ نے اکثر دیکھا ہوگا. کہ جب بیل گاڑی پر رکھے ہوئے بوجھ کو لیکر بیل چل رہے ہوتے ہیں. تو ایک آوارہ کتا ان بیلوں کے درمیان میں اپنی دم اٹھا کر اکھڑ کر چل رہا ہوتا ہے. وہ یہ تاثر دے رہا ہوتا ہے. کہ سارا وزن اس نے ہی اٹھایا ہوا ہے. یہی صورت حال بھارت کی ہے. وہ امریکہ کے آگے آگے ایسے چل رہا تھا. جیسے افغانستان میں جنگ یہی کر رہا ہے. افغانستان سے امریکہ کے انخلاء کے ساتھ ہی اس کی ہوا بھی ٹائٹ ہو گئ ہے. افغانستان کے طالبان نے اسے تنکی کا ناچ نچوا دیا ہے. اب خبریں موصول ہو رہی ہیں. کہ بھارت نے طالبان سے پنجہ آزمائی کے لیے بڑی تعداد میں اسلحہ بارود افغانستان منتقل کیا ہے. اس عقل کے اندھے سے کوئی پوچھے. کہ جب امریکہ دنیا کے جدید ترین اسلحہ کے باوجود افغانستان کے طالبان کا کچھ نہیں بگاڑ سکا. تو یہ پرانے اسلحہ کے بل بوتے پر طالبان کا مقابلہ کرنے چلا ہے. اسے شاید طالبان کے جذبہ ایمانی کا اندازہ نہیں. یہ تو خالی ہاتھ بھی دشمن پر جھپٹ پڑتے ہیں. طالبان نے قندھار میں بھارت کے سفارت خانہ پر حملہ کرکے اسے پیغام دیا ہے. کہ اگر تم نے ہماری سرزمین پر کوئی بزدلانہ کاروائی کی غلطی کی. تو ہم سے برا کوئی نہ ہو گا. ہم تمھارے گھر میں گھس کر تمھیں مارے گے. بھارت اور امریکہ کی آنکھوں میں پاکستان اور چین کا مشترکہ منصوبہ سی پیک چبھ رہا ہے. وہ کسی نہ کسی طرح اس منصوبہ کو سبکدوش کرنے کے لیے منصوبہ بندی کرتے رہتے ہیں. مگر انہیں ہر بار منہ کی کھانی پڑتی ہے. پاکستان میں اب کوئی بھی حکومت ہو. وہ سی پیک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی. بھارت کو ہوش کے ناخن لینے ہو گے. اس کی چھوٹی سی نادانی اس خطہ ارض کو جنگ میں دھکیل دے گی. یہ جنگ بھارت کو صفحہ ہستی سے مٹا دے گی. پاکستان کی عوام اور اس کی بہادر مسلح افواج ہر طرح کی جارجیت کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے. پاکستانی افواج خطہ میں ہر لمحہ بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں. بھارت افغانستان کی سر زمین سے پاکستان پر حملہ کرکے الزام طالبان پر لگانا چاہتا ہے. تاکہ پاکستان اور افغان طالبان آپس میں جھگڑ پڑے. نادان دشمن پاکستانی عوام اور اس کی مسلح افواج تمھاری ہر گھٹیا حرکت سے بخوبی واقف ہے. کوئی شرارت کرنے کی جرات نہ کر بیٹھنا. پھر نہ کہنا کہ بتایا نہیں. اس بار تمھاری ایسی درگت بنائی جائے گی. کہ دنیا کہا کرے گی. کہ ایک ملک ہوتا تھا. جس کا نام بھارت تھا. پاکستان کی امن کی خواہش کو کسی بھی طرح سے کمزوری تصور نہ کیا جائے. پاکستان ہر طرح کی جارجیت کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح سے تیار ہے. ملکی دفاع کے معاملہ پر تمام سیاسی جماعتیں بھی ایک ہی صفحہ پر متحد ہیں. پاکستان ایک امن پسند ملک ہے. نہ کسی کے خلاف جارحیت کرتا ہے. اور نہ اپنے خلاف برداشت کرتا ہے. بھارت اور اس کے آقا اس بات کو اچھی طرح سے ذہن نشین کر لیں.امریکہ نے اپنی طاقت کے نشہ میں جب ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت افغانستان پر حملہ کیا تھا. تو اس وقت بھی پاکستان کی ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہوئے اسے منع کیا تھا. کہ جلد بازی میں کوئی بھی قدم نہ اٹھایا جائے. کیونکہ جنگ کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہوتی. مگر امریکہ کے سر پر طاقت کا نشہ چڑھا ہوا تھا. اس نے پاکستان کی بات سننے کی بجائے اسے دھمکایا دینا شروع کردی. کہ ہمارا ساتھ دو یا پھر پتھر کے زمانہ میں جانے کے لیے تیار ہو جاؤ. پاکستان نے نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی مدد کی. امریکہ کو جلد اپنی غلطی کا احساس ہو گیا. اور اس نے واپسی کے لیے پاکستان سے مدد طالب کی. مگر اس دوران پاکستان کو  بھاری جانی و مالی نقصان برداشت کرنا پڑا. اب کی بار پاکستان نے دنیا پر واضح کر دیا ہے. کہ وہ کسی کا بھی آلہ کار نہیں بنے گا. اور نہ ہی اپنی سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال ہونے دے گا. یہ پاکستان کی امن پسند خواہش ہے. جس کو دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے. پاکستان اس وقت ترقی کے سفر پر گامزن ہے. یہ کسی کی لڑائی میں پڑ کر اپنا امن و سکون برباد نہیں کر سکتا. مگر بھارت پاکستان کی ہر امن پسند خواہش کو نست ونابود کرنے پر تولا ہوا ہے. بھارت احساس کمتری کا شکار ہے. وہ ہر قوم  کے خلاف جارحیت پر آمادہ نظر آتا ہے. اس کی یہی سوچ اسے تباہ و برباد کر کے رکھ دے گی. پاکستان ایک ذمہ دار قوم ہے. اور یہ دنیا میں قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی.

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments