فرانسیسی بچے دنیا کے تمیز دار ترین بچے قرار، پاکستانی بچوں کے مقابلے میں ان کی تریبت میں کیا فرق ہے؟ جانیں

 بچوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان سے شیطان بھی پناہ مانگتا ہے اگرچہ ان کی شرارت ان کی ذہانت کی نشانی ہوتی ہے مگر اس میں بدتمیزی نہ ہو تو وہ سب ہی کو اچھی لگتی ہے- یہی وجہ ہے کہ ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بچوں کی ایسی تربیت کریں جو ان کو تمیز دار بنائے- عام طور پر دنیا بھر کے بچوں میں فرانس کے بچوں کو سب سے زیادہ تمیز دار بچہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ شاز و نادر ہی ضدی ، شریر یا تنگ کرنے والے ہوتے ہیں اور اس کا سبب ان کے والدین کا کچھ بنیادی امور پر ان کی تربیت کرنا ہوتا ہے جو ان کو تمیز دار بناتا ہے-ان پر عمل کر کے ہم بھی اپنے بچوں کی بہترین اور مثالی تربیت کر سکتے ہیں- بچے کا پہلا سالعام طور پر ہمارے ملک میں بچے کی پیدائش کے بعد ماں اپنے سارے کام چھوڑ کر بچے کی پرورش میں لگ جاتی ہے جب کہ فرانس میں ماں کو بچے کی پیدائش کے بعد صرف دس ہفتوں کی چھٹی ملتی ہے جو کہ تنخواہ اور دیگر مراعات کے ساتھ ہوتی ہے- اس سے زیادہ چھٹی کی صورت میں اس کو ایک جانب تو اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے اس کے علاوہ دیگر اخراجات بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں- اس وجہ سے فرانس کی مائيں دس ہفتوں کے بعد اپنی نوکری کو جوائن کر لیتی ہیں اور بچوں کو نرسری کے حوالے کر دیتی ہیں- جس وجہ سے بچہ عمر کے شروع میں ہی صرف ایک ماں کے بجائے دوسرے لوگوں سے مانوس ہونا شروع ہو جاتا ہے اور اس طرح زيادہ آزادی سے سیکھ سکتا ہے اور ابتدائی عمر ہی سے دوسرے لوگوں سے ہلنے ملنے لگتا ہے۔ یہ وہی نظریہ ہے جو کہ ہمارے بزرگ جوائنٹ فیملی میں رہتے ہوئے نئی بننے والی ماؤں کو سمجھاتے تھے کہ بچے کو صرف اپنے ساتھ اٹیچ مت کرو بلکہ دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی ہلنے ملنے دو- بچے کا بستر شروع سے الگ رکھتے ہیںفرانس میں بچے کو ہمیشہ سے الگ کمرے میں الگ بستر پر سونے کی عادت ڈالی جاتی ہے۔ جو اگرچہ ماں کے کمرے سے متصل ضرور ہوتا ہے مگر اس کو اس طرح اکیلے سونے کی عادت ڈالی جاتی ہے یہ عادت اس کو وقت سے پہلے بہادر اور میچور بنا دیتی ہے اگر کبھی بچہ رات میں روئے تو فرانسیسی ماں فوراً اس کے طرف بھاگ کر جانے کے بجائے کچھ دیر اس بات کا انتظار کرتی ہے کہ بچہ اگر عادتاً رو رہا ہے تو خود چپ ہو جائے- رفتہ رفتہ بچہ اس بات کا عادی ہو جاتا ہے اور ماں کے ساتھ چپکنے کے بجائے خود ہی اپنے حالات کو ڈیل کرنا سیکھ جاتا ہے- 

 بچے کو اپنے معاملات دیکھنے کی عادت دیںفرانسیسی والدین بچے کی شخصیت کی تعمیر کا پورا موقع فراہم کرتے ہیں اور اس کے ہر معاملے میں مداخلت نہیں کرتے ہیں یہاں تک کہ بچوں کو والدین جب پارک بھی لے کر جاتے ہیں تو اس کے ساتھ کھیلنے کے بجاۓ اس کو کھیلنے کی آزادی دیتے ہیں- یہاں تک کہ اگر اس کا کسی بچے کے ساتھ کوئی تنازعہ بھی ہو تو اس کو تمیز کے دائرے میں خود حل کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے- اس سے بچے کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کو اچھے اور برے کی شناخت خود اپنے تجربات کی بنیاد پر ہوتی ہے ۔ البتہ فرانسیسی والدین اس حوالے سے بہت سخت ہوتے ہیں کہ وہ بچے کی غلطی کو تسلیم کرتے ہیں اور اس پر اس کی باز پرس بھی کرتے ہیں- نانی دادی بچوں کو بگاڑتی نہیں ہیںفرانس کے اندر جوائنٹ فیملی کا نظریہ نہیں ہے ۔ لیکن ویک اینڈ پر اکثر فیملی گیدرنگ ہوتی ہے جس میں بزرگوں کو بچوں سے ملوایا جاتا ہے لیکن وہاں یہ نظریہ موجود نہیں ہے کہ بچہ غلطی کر کے نانی دادی کے پلو میں چھپ کر بیٹھ جائے- فرانس میں محبت کرنے اور لاڈ پیار کر کے بگاڑنے میں واضح فرق موجود ہے اس وجہ سے بچے بھی اپنے بزرگوں سے ایسے فوائد حاصل نہیں کرتے ہیں- بچوں کے لیے علیحدہ کھانا نہیں ہوتافرانس میں لنچ کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے اس کے لیے ہر فرد کو دو گھنٹے کا بریک ملتا ہے جس میں گھر کے سب افراد مل کر کھانا کھاتے ہیں۔ جس میں تمیز اور ایٹی کیٹ کا خاص خیال رکھا جاتا ہے فرانس میں بچوں کے لیے علیحدہ سے کھانا بنانے کا کوئی نظریہ نہیں ہے چھوٹی عمر سے وہ وہی سب کچھ کھاتے ہیں جو ان کے بڑے کھا رہے ہوتے ہیں اور اگر بچے اس کھانے کو ناپسند کریں تو والدین اسی کھانے کو کم از کم ایک بار چکھنے کا اصرار ضرور کرتے ہیں- بچے کو وہی کھانا کھانا پڑتا ہے اس کو الگ سے کسی کھانے کی امید نہیں ہوتی اس وجہ سے فرانسیسی بچے کھانے کے حوالے سے ماں باپ سے کوئی ضد نہیں کرتے کیوں کہ ان کو ایسی کوئی امید نہیں ہوتی ہے کہ ان کی ضد مانی جائے گی- 

 تمیز سکھانے پر بہت زور دیا جاتا ہےتمیز وہ اہم چیز ہے جس کی فرانسیسی معاشرت میں بہت اہمیت حاصل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ فرانسیسی والدین بچوں کو ابتدائی عمر ہی سے سلام دعا کرنا، مخاطب کرنے کا طریقہ اور شکریہ ادا کرنے کے طریقے نہ صرف سکھاتے ہیں بلکہ ان پر سختی سے عمل بھی کرواتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ تمام عادات بچوں کی فطرت میں شامل ہو جاتی ہیں اور وہ ان پر سختی سےعمل کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں- بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہےفرانس میں بچوں کی اکیڈمک تعلیم کا آغاز چھ سال کی عمر سے ہوتا ہے اس سے قبل بچے کی ماں ہی اس کی سب سے پہلی استاد ہوتی ہے اور ابتدائی تعلیم کا سلسلہ کسی درسگاہ کے بجائے گھر پر ہی کیا جاتا ہے- اور ماں اپنی دن بھر کی روٹین میں کچھ وقت لازمی طور پر بچے کو گھر پر پڑھانے کے لیے دیتی ہے- اس سے ایک جانب تو بچے کا اس کی ماں کے ساتھ تعلق مضبوط ہوتا ہے اس کے علاوہ بچے کی ابتدائی تربیت بھی مضبوط بنیاد پر استوار ہوتی ہے- بچے کو پاکٹ منی دی جاتی ہےعام طور پر بچوں کی تربیت کا سب سے اہم مظاہرہ شاپنگ کے دوران ہوتا ہے۔ فرانسیسی بچے شاپنگ کے دوران کسی چیز کی خریداری کے لیے اپنے ماں باپ سےکبھی ضد کرتے ہوئے نظر نہیں آئیں گے اور اس کا سب سے بڑا سبب یہ ہوتا ہے کہ سات سال کی عمر سے ہی فرانس میں بچوں کو باقاعدگی سے ان کی پاکٹ منی دی جاتی ہے اور ان کو اس کو خرچ کرنے کی آزادی ہوتی ہے- اس طرح ایک جانب تو بچے کو بچت کی عادت ڈالی جاتی ہے اس کےساتھ ساتھ اس کو اپنی خواہشات ماں باپ سے ضد کر کے پوری کروانے کے بجائے اپنی جیب خرچ سے پوری کرنے کی تربیت بھی دی جاتی ہے-

Source-https://hamariweb.com/articles/145662

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments