اس مہنگائی کے دور میں بھی کچھ فائدہ مند اشیا جو صرف 10 روپے میں مل سکتی ہیں

 بجث کے سامنے آتے ہی ملک بھر میں پہلے سے جاری مہنگائی کے حوالے سے بحث میں شدت آگئی ہے ۔ حکومتی حلقے یہ دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں کہ ملک میں مہںگائی میں خاطر خواہ کمی دیکھنے ميں آئی ہے جب کہ دوسری جانب اپوزیشن کا یہ الزام ہے کہ اس وقت ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان آیا ہوا ہے – اس وقت ملک میں جو سب سے چھوٹی مالیت کا نوٹ گردش کر رہا ہے وہ دس روپے کا نوٹ ہے جب کہ اس حوالے سے عام عوام کا یہ تاثر ہے کہ دس روپے کے نوٹ کی قدروقیمت اتنی کم ہو چکی ہے کہ اس کو لینا فقیر تک پسند نہیں کرتے ہیں- مگر آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ جس دس روپے کو ہم لوگ بے قیمت سمجھتے ہیں اس کی مالیت اتنی کم بھی نہیں ہے بلکہ بہت ساری چیزیں اب بھی اس سے خریدی جا سکتی ہیں – 1: کپڑے دھونے کا ڈٹرجنٹآج بھی ہمارے ملک میں مختلف کمپنیوں کے بنائے گئے دھلائی کے ڈٹرجنٹ دس روپے کے پیکٹ کی صورت میں دستیاب ہیں جو کہ ایک وقت میں کم از کم تین جوڑے آرام سے دھو سکتے ہیں۔ دس روپے کے پیکٹ کی صورت میں تمام نامور کمپنیوں کے ڈٹرجنٹ آسانی سے دستیاب ہیں اور اکثر گھروں میں خواتین ان کا استعمال بھی کرتی ہیں-

 2: قلمتعلیم اگرچہ دن بدن پرائیویٹ اداروں میں مہنگی ہوتی جا رہی ہے مگر اگر کوئی تعلیم سے تعلق جوڑنا چاہے تو ان کو لکھنے کا بال پوائنٹ یا پینسل آسانی سے دس روپے میں میسر آسکتا ہے جس سے وہ اپنے لکھنے لکھانے کے شوق کو پورا کر سکتا ہے-

 3: چاکلیٹمحبت کے اظہار کا سب سے بہترین تحفہ چاکلیٹ ہوتا ہے اور خوش قسمتی سے اب بھی یہ غریبوں کی قوت خرید میں ہے اور دس روپے میں چاکلیٹ خرید کر محبوب کو تحفے کے طور پر دی جا سکتی ہے یہ علیحدہ بات ہے کہ محبوب اتنی کم قیمت تحفے کو قبول کرے یا نہ کرے-

 4: ماچس کی ڈبیاآگ لگانے کے لیے چند جملے کی کافی ہوتے ہیں اس کا عملی مظاہرہ ہم لوگ اکثر اپنی اسمبلیوں اور ٹاک شوز میں دیکھتے ہیں جہاں ہمارے سیاست دان اپنے جملوں سے اکثر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں- مگر اس کے ساتھ ساتھ حقیقت میں آگ لگانے والی ماچس بھی دس روپے میں دستیاب ہے جس کو نہ صرف آسانی سے خریدا جا سکتا ہے بلکہ اس سےآگ بھی لگائی جا سکتی ہے-

 5: چپس کا پیکٹبہت ساری ہوا کے ساتھ بچوں کو خوش کرنے کے لیے چند دانے چپس کے اگر آپ دلوانا چاہیں تب بھی یہ دس روپے کا نوٹ آپ کو مایوس نہیں کرے گا اور آپ صرف دس روپے میں بچوں کو یہ چپس دلوا سکتے ہیں- یہ علیحدہ بات ہے کہ اس کی مقدار اتنی کم ہو گی جو کہ ایک بچے کی داڑھ بھی نہیں بھگو سکے گی-

 یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ حکومت وقت کی یہ ایک اہم ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں اگر سب سے کم قیمت نوٹ کا اجرا کرتے ہیں تو اس امر کو بھی یقینی بنائیں کہ اشیا کی قیمت اتنی ہونی چاہیۓ کہ یہ نوٹ اپنی وقعت نہ کھو بیٹھے –

Source-https://hamariweb.com/articles/144846

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments