کیا افغانستان کی فوج طالبان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟

 “ہم نے لگ بھگ تین لاکھ افغان فوجیوں کو گزشتہ 20 برس کے دوران ہر طرح کی جدید تربیت اور ہتھیاروں سے لیس کیا ہے۔ مجھے اس بات پر زور دینے دیں کہ ہر وہ جدید ہتھیار جو کسی بھی ماڈرن فوج کے پاس ہوتے ہیں لہذٰا افغان فوج با آسانی تقریباً 75 ہزار طالبان جنگجوؤں کا مقابلہ کر سکتی ہے۔” یہ الفاظ ہیں امریکہ کے صدر جو بائیڈن کے جن کا اپنے حالیہ بیان میں کہنا تھا کہ افغان فورسز اور پولیس کی جس معیار کے تحت تربیت کی گئی ہے طالبان صلاحیت کے لحاظ سے اس کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتے۔ صدر بائیڈن کے افغان فوج پر اعتماد کے باوجود افغانستان میں طالبان کی حالیہ پیش قدمی اور افغان فورسز کی کئی علاقوں میں پسپائی کی اطلاعات کے بعد افغان فورسز کی استعداد کار اور طالبان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پر سوال اُٹھائے جا رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں امریکی نشریاتی ادارے ‘سی این این’ پر 22 افغان کمانڈوز کی طالبان کے ہاتھوں ہلاکت کی مبینہ ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد جہاں طالبان کے خلاف غم و غصہ میں اضافہ ہوا ہے وہیں کئی علاقوں میں افغان فورسز کی پسپائی پر بھی سوال اُٹھائے جا رہے ہیں۔ خیال رہے کہ چند روز قبل ‘سی این این’ نے ایک ویڈیو نشر کی تھی جس میں افغان صوبے فریاب کے شہر دولت آباد میں ہتھیار ڈالنے کے باوجود طالبان جنگجوؤں نے مبینہ طور پر 22 افغان کمانڈوز کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ طالبان نے ‘سی این این’ کی اس ویڈیو کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کمانڈوز کی ہلاکت سے اظہارِ لاتعلقی کیا تھا۔ امریکہ اور اتحادی افواج کے انخلا کے دوران طالبان کی پیش قدمی اور افغان فورسز کے ساتھ لڑائی کے دوران لگ بھگ ایک ہزار سے زائد افغان فوجی تاجکستان میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے تھے۔ البتہ افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ افغان سیکیورٹی فورسز بھرپور عزم کے ساتھ طالبان کا مقابلہ کر رہی ہیں اور مختلف کارروائیوں میں سیکڑوں طالبان جنگجوؤں کو ہلاک بھی کیا جا چکا ہے۔ 

 افغان فوج کی تعداد اور وسائلافغان نیشنل آرمی کی ازسر نو تشکیل کی بنیاد افغانستان پر امریکہ کے قبضے کے بعد دسمبر 2002 میں جرمنی کے شہر بون میں ہونے والی کانفرنس میں رکھی گئی تھی۔ افغانستان میں سابق صدر حامد کرزئی کی قیادت میں بننے والی نئی عبوری حکومت اور امریکہ سمیت کانفرنس میں شریک دیگر ممالک نے افغان فورسز کی بنیاد رکھنے کی منظوری دی تھی۔ ابتداً 70 ہزار فوجیوں کو بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جن کی تربیت کی ذمے داری امریکی فوج کو دی گئی تھی جب کہ بون کانفرنس میں شریک دیگر ممالک نے بھی افغان فورسز کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔ افغان فورسز کے قیام کے وقت بہت سی ملیشیاز بھی اس میں ضم ہو گئی تھیں جن کے ہزاروں جنگجوؤں کو بھی افغان فوج میں بھرتی کیا گیا۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران افغان فورسز کی تعداد اور اُنہیں جدید اسلحے سے لیس کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ کابل میں مقیم سینئر تجزیہ کار نجیب اللہ آزاد کے مطابق افغان نیشنل فورسز کی کل تعداد اب بڑھ کر تین لاکھ 50 ہزار سے زائد ہو چکی ہے جن میں افغان فوج، ایئر فورس اور پولیس کے اہل کار بھی شامل ہیں۔ افغان فوج میں لگ بھگ 4500 کے قریب خواتین فوجی اہل کار بھی ہیں۔ سن 2002 میں افغان فورسز کے لیے بھرتیوں کا آغاز ہوا تو امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک نے ریکروٹس کی تربیت کی ذمے داری لی۔ اس دوران کابل اور دیگر بڑے شہروں میں بیسز اور انفراسٹرکچر تعمیر کیا گیا۔ کابل میں امریکہ نے ڈرل انسٹرکٹر اسکول قائم کیا جب کہ برطانیہ نے نان کمیشنڈ افغان فوجیوں کی ابتدائی اور ایڈوانس ٹریننگ کا بیڑہ اُٹھایا تھا۔ 

 یونائیٹڈ اسٹیٹس ملٹری اکیڈمی، نیو یارک کے تحقیقی ادارے ‘کامبیٹنگ ٹیررازم سینٹر’ کے مطابق افغان فوج کی مجموعی تعداد تین لاکھ 52 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ سینٹر کے مطابق چھٹیوں پر جانے والے اور ‘گھوسٹ سولجرز’ یعنی ڈیوٹی پر آئے بغیر تنخواہیں لینے والے فوجیوں کی تعداد نکال دی جائے تو فرائض انجام دینے والے اہل کار ایک لاکھ 85 ہزار کے لگ بھگ بنتے ہیں۔ ‘کامیٹنگ ٹیررازم سینٹر’ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں پولیس اہل کاروں کی کل تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے۔ افغان فورسز کی ‘چین آف کمانڈ’افغان فورسز کی ملک میں پانچ ریجنل کمانڈز یا کورز ہیں جو وزارتِ دفاع اور چیف آف جنرل اسٹاف کے ماتحت آتی ہیں۔ ان میں کابل، گردیز، ہرات، قندھار اور مزار شریف کورز شامل ہیں۔ افغانستان کے آئین کے مطابق افغان فورسز کے چیف آف کمانڈ یا سپریم کمانڈر افغانستان کے صدر ہوتے ہیں جن کے پاس فوج میں اہم عہدوں پر تعیناتیوں کا اختیار ہوتا ہے۔ افغانستان کی فوج کے موجودہ سربراہ جنرل ولی محمد ہیں جنہیں حال ہی میں اشرف غنی نے جنرل یسین ضیا کی جگہ تعینات کیا تھا۔ آرمی چیف کے بعد وائس چیف اور پھر چیف آف پرسنل، چیف آف انٹیلی جنس، چیف آف آپریشنز، چیف آف لاجسٹکس اور انسپکٹر جنرل ہوتے ہیں جو میجر جنرل یا لیفٹننٹ جنرل رینک کے افسران ہوتے ہیں۔ دیگر ممالک کی ایئر فورس کے افسران کے رینکس کے برعکس افغانستان میں میجر جنرل محمد شعیب نوری افغان ایئر فورس کے سربراہ ہیں۔ افغان ایئر فورسافغان ایئر فورس کے پاس 200 سے زائد لڑاکا طیارے، ہیلی کاپٹرز اور ٹرانسپورٹ جہاز ہیں جن میں سے زیادہ تر امریکی ساختہ بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز، لٹل برڈ ایم-ڈی 530 ہیلی کاپٹرز، ٹرانسپورٹیشن کے لیے سی-130 طیارے ہیں جب کہ اس کے پاس روسی ساختہ ایم-آئی 17 ہیلی کاپٹرز بھی ہیں۔ امریکہ نے افغان ایئر فورس کو حالیہ برسوں کے دوران 20 سے زائد A-29 سپر ٹیکانو لڑاکا طیارے بھی فراہم کیے ہیں۔ 

 افغان پائلٹس کی تربیت اور طیاروں کی مرمت اور دیکھ بھال کا انحصار بھی امریکہ اور نیٹو مشن پر تھا۔ رپورٹس کے مطابق گزشتہ 10 برس کے دوران امریکہ نے افغان ایئر فورس کو لڑاکا طیاروں سے لیس کرنے اور دیگر تیکنیکی مدد کے تحت آٹھ ارب ڈالرز سے زائد خرچ کیے ہیں۔ افغان ایئر فورس کے پاس اے-29 سپر ٹیکانو اور اے سی 208 کاروان نامی طیارے جب کہ امریکہ کی جانب سے فراہم کیے گئے بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز ہیں جن کی مرمت انتہائی مشکل سمجھی جاتی ہے۔ یہ طیارے فضا سے زمین پر موجود اہداف پر لیزر گائیڈڈ میزائلز سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسپیشل آپریشنز فورس، کمانڈوزتجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کے لیے عام افغان فوجیوں کا مقابلہ کرنا قدرے آسان ہے، تاہم جدید کمانڈو تربیت حاصل کرنے والے افغان کمانڈوز اُن کے لیے دردِ سر بنے ہوئے ہیں۔ افغان کمانڈوز مغویوں کی بازیابی، اہم سرکاری تنصیبات کی حفاظت اور دیگر خصوصی آپریشنز کرتے ہیں اور اسی بنا پر انہیں افغان فورس کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جاتا ہے۔ ‘کامیٹنگ ٹیررازم سینٹر’ کے مطابق ان کمانڈوز کی تعداد 20 سے 25 ہزار ہے۔ حالیہ دنوں میں افغان صوبے قندھار میں افغان فورسز اور طالبان کے خلاف ہونے والی گھمسان کی لڑائی میں ان کمانڈوز نے ہی حصہ لیا تھا۔ طالبان نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ اُنہوں نے صوبہ قندھار میں پاکستان کی سرحد سے ملحقہ علاقے اسپن بولدک کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ تاہم بعدازاں افغان فورسز نے طالبان سے یہ علاقہ واگزار کرانے کا دعویٰ کیا تھا۔ 

 افغان پولیس کا تنازع میں کیا کردار ہے؟افغان تجزیہ کار نجیب اللہ آزاد کے مطابق افغان پولیس کا کردار بھی ایک طرح سیکیورٹی فورسز جیسا ہی ہے۔ اُن کے بقول بظاہر اُن کا کام شہریوں کے جان و مال اور املاک کا تحفظ ہے، لیکن افغانستان میں گزشتہ 20 برس سے جس نوعیت کی لڑائی جاری ہے اس میں پولیس، سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ لڑتی رہی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پولیس اہل کاروں کی کل تعداد لگ بھگ ایک لاکھ سات ہزار ہے جن میں بارڈرز پولیس بھی شامل ہے جو چاروں طرف خشکی سے گھرے افغانستان کے بارڈرز پر بھی تعینات ہے۔ نجیب اللہ آزاد کہتے ہیں کہ افغانستان میں شہروں میں ہونے والے دھماکوں اور دہشت گردوں کے اچانک حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پولیس بھی پیش پیش رہی ہے۔ 

 افغان حکومت کی ملیشیاز سے لڑائی میں شامل ہونے کی اپیلطالبان کی پیش قدمی اور افغان فورسز کے بعض علاقوں سے پسپائی کے باعث ماضی میں طالبان کے خلاف نبرد آزما رہنے والی ملیشیاز اور مسلح گروہوں پر بھی سب کی نظریں ہیں جنہوں نے تاحال کسی بھی فریق کی جھولی میں اپنا وزن نہیں ڈالا۔ افغان حکومت نے گزشتہ ماہ ‘نیشنل موبلائزیشن’ کے نام سے رضا کاروں کی بھرتی کا عمل بھی شروع کیا تھا تاکہ وہ افغان فورسز کے ساتھ مل کر طالبان کا مقابلہ کر سکیں۔ افغان صدر اشرف غنی نے بھی ملک میں موجود ملیشیاز پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوں اور ملک کا دفاع کریں۔ امریکی جریدے ‘دی ویک’ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق عوامی سطح پر طالبان کے خلاف کئی گروہ منظم ہوئے ہیں۔ تاہم سوویت جنگ اور نوے کی دہائی میں ہونے والی خانہ جنگی میں لڑنے والی ملیشیاز کھل کر ابھی سامنے نہیں آئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پشتون، ہزارہ، ازبک اور تاجک جنگجو دھڑے ملک میں موجود ہیں۔ سابق افغان وزیرِ اعظم گلبدین حکمت یار، شمالی افغانستان کے صوبہ بلخ کے سابق گورنر محمد عطا نور، صوبہ جوزجان میں مارشل عبدالرشید دوستم، صوبہ ہرات میں محمد اسماعیل خان اور صوبہ میدان وردک میں عبدالخانی علی پور اور عبدالرسول سیاف جیسے جنگجو کمانڈرز اب بھی ملک میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ تجزیہ کار نجیب اللہ آزاد کے مطابق ان بڑے گروپس میں سے بیشتر طالبان کے بڑے مخالف رہے ہیں اور ضرورت پڑنے پر وہ لڑائی میں شامل ہو سکتے ہیں۔ البتہ ان میں سے بیشتر فی الحال صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ افغان صوبے ہلمند میں سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ ‘سنگوریان’ نامی ملیشیا کے جنگجو بھی طالبان کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ امریکہ اور اتحادی ممالک کا افغان فورسز کے ساتھ تعاونامریکی حکومت کے اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن (سگار) نے چند روز قبل جاری کی جانے والی رپورٹ میں کہا تھا کہ امریکہ نے افغان سیکیورٹی فورسز کی تربیت اور استعداد کار بڑھانے پر گزشتہ 20 برس کے دوران 88 ارب ڈالرز خرچ کیے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گو کہ امریکی حکام افغان فورسز کی استعداد کار اور طالبان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے پرامید رہتے ہیں۔ لیکن افغان فورسز کی صلاحیتوں کو جانچنے کا نظام مبہم ہے۔ ‘سگار’ امریکہ کی جانب سے افغانستان میں کی جانے والی تعمیرِ نو کی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے قائم سرکاری ادارہ ہے جو ہر تین ماہ بعد اپنی رپورٹ پیش کرتا ہے۔ 

 رپورٹ میں کہا گیا ہے افغانستان سے امریکی مشن کے اختتام اور افغان فورسز کے لیے امریکی فوجی تعاون ختم ہونے کے بعد افغان فورسز کی کارکردگی کیا ہو گی اس کا جواب بظاہر مشکل نظر آتا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) پر اُمید ہے کہ جدید سہولیات اور اسلحے سے مزین افغان فورسز طالبان کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ پینٹاگون کے پریس سیکریٹری جان کربی نے گزشتہ بدھ کو ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ افغان فورسز کے پاس طالبان سے زیادہ وسائل ہیں۔ اُن کے پاس گراؤنڈ اور ایئر فورس کے بھی زیادہ وسائل ہے اور اُنہیں امریکہ کی مالی اور لاجسٹک مدد بھی حاصل ہے۔ افغان فورسز کے ساتھ بھارت کا تعاونامریکہ اور اتحادی ممالک کے علاوہ بھارت بھی افغان فورسز کی تربیت اور ایئر فورس کی معاونت کرتا رہا ہے۔ نئی دہلی میں افغان سفیر فرید ماموند زئی نے حال ہی میں تصدیق کی تھی کہ بھارت نے لڑاکا ہیلی کاپٹرز اور دیگر فوجی سازو سامان کی فراہمی کے علاوہ سیکڑوں افغان فوجیوں کو تربیت بھی دی تھی۔ بھارتی اخبار ‘انڈین ایکسپریس’ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق بھارت نے افغانستان کو 285 فوجی گاڑیوں کے علاوہ افغانستان کی زبوں حال ایئر لائن ‘آریانہ’ کے آپریشنز کی بحالی کے لیے ایئر انڈیا کے تین طیارے بھی دیے تھے۔ بھارت کی جانب سے افغانستان کی فوجی معاونت پر امریکی حکام بھی بھارت کے معترف رہے ہیں۔ افغان فورسز کی خواتین کمیشنڈ ریکروٹس، بھارت کے شہر چنائی کی فوجی اکیڈمی میں تربیت حاصل کرتی رہی ہیں۔ چند روز قبل نئی دہلی میں افغان سفیر فرید ماموند زئی نے ایک انگریزی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر طالبان کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوئے اور جنگ جاری رہی تو افغانستان بھارت سے بھی فوجی مدد لے سکتا ہے۔ خیال رہے کہ افغانستان میں طالبان اور افغان فورسز کے درمیان لڑائی کے باوجود قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں۔
 افغان فورسز کو درپیش چیلنجزرواں برس کے آغاز پر انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن جان ساپکو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکی اور غیر ملکی کانٹریکٹرز کے جانے کے بعد افغان ایئر فورس زیادہ دیر تک اپنے طیاروں کی دیکھ بھال نہیں کر سکے گی۔ امریکی جریدے ‘پولیٹیکو’ کی ایک رپورٹ کے مطابق بڑی تعداد میں کانٹریکٹرز کے جانے کے بعد افغان ایئر فورس کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کیوں کہ ملک سے جانے والے کانٹریکٹرز ‘زوم’ یا دیگر ویڈیو ایپس کے ذریعے افغان ایئر فورس کے انجینئرز کی مدد کر رہی ہیں جس کا بظاہر زیادہ فائدہ نہیں ہو رہا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے افغان ایئر فورس کے لیے ملک کے مختلف حصوں میں طالبان کے خلاف نبرد آزما افغان فوجیوں کی مدد کرنا بظاہر مشکل نظر آتا ہے۔ جھڑپوں کے مقامات سے لاشوں یا زخمیوں کو نکالنے یا طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت بھی امریکی فضائیہ کی عدم موجودگی میں متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ افغان تجزیہ کار نجیب اللہ آزاد اس تاثر کو رد کرتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ افغانستان کی ایئر فورس اب بھی فعال ہے اور طالبان کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ اُن کے بقول اب بھی کچھ کانٹریکٹرز افغانستان میں ہیں جو افغان ایئر فورس کی تیکنیکی مدد کر رہے ہیں۔ امریکہ پر حد سے زیادہ انحصار خامیوں کی وجہ؟ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امریکہ کے قبضے کے بعد ملک میں بدانتظامی اور کرپشن میں بھی اضافہ ہوا جس کی بڑی وجہ ملک میں امریکی ڈالرز کی ریل پیل تھی۔ افغان اُمور کے ماہر سمیع یوسف زئی کہتے ہیں کہ بہت سے افغان وار لارڈز اور ملیشیاز نے اپنے لوگ افغان فورسز میں بھرتی کرائے اور بہت سے گھوسٹ فوجی بھی بھرتی ہوئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ حالیہ لڑائی میں 20 سے 25 ہزار افغان کمانڈوز ہی دلیری سے لڑ رہے ہیں جو باقاعدہ تربیت یافتہ ہیں ورنہ دیگر فوجی یا تو ہتھیار ڈال رہے ہیں یا طالبان کی تیزی سے ہونے والی پیش قدمی کے باعث مزاحمت سے گریز کر رہے ہیں۔ 

 سمیع یوسف زئی کہتے ہیں کہ افغانستان کی فوجی قیادت میں بھی ایسا کوئی کمانڈر نہیں ہے جو فوج کا مورال بلند کر سکے اور وہ جوش و جذبے کے ساتھ لڑ سکیں۔ اُن کے بقول افغان حکومت کو ایک اور غلط فہمی یہ تھی کہ امریکہ کبھی افغانستان سے نہیں جائے گا اور اس کے فوجی تعاون سے افغان فوج بھی طالبان کا با آسانی مقابلہ کرتی رہی ہے۔ لیکن 2017 میں امریکہ کے افغانستان سے بتدریج فوجی انخلا کے بعد افغان فوج میں کمزوریاں سامنے آنے لگی ہیں۔ سمیع یوسف زئی کے بقول افغانستان کے مختلف نسلی گروہ خصوصاً شمالی افغانستان کے غیر پشتون افراد اشرف غنی حکومت سے خوش نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ شمالی افغانستان میں غیر پشتون فوجیوں نے سرینڈر کیا اور طالبان کی صفوں میں شامل ہو گئے ہیں۔ کیا اب بھی افغان فوج کو منظم کیا جا سکتا ہے؟افغان فورسز کو دوبارہ منظم کرنے کے سوال پر سمیع یوسف زئی کہتے ہیں کہ جب ایک مرتبہ فوج میں سرینڈر کی روایت پڑ جائے تو دوبارہ اُن کا مورال بلند کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اُن کے بقول اب بھی افغان فوج میں ایسے فوجی ہیں جو جوش و جذبے کے ساتھ لڑنا چاہتے ہیں، لیکن جب سرینڈر کا سلسلہ شروع ہو جائے اور دوسری طرف طالبان کی طرح کا دُشمن ہو تو فوج کو دوبارہ منظم کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ افغان فوج کے طالبان کے خلاف کامیابی کے دعوےطالبان کے خلاف افغان فورسز کی کارکردگی اور سرینڈر کی خبروں کے باوجود افغان فوج کا کہنا ہے کہ اس نے مختلف محاذوں پر طالبان کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی ہیں۔ افغان وزارتِ دفاع کے مطابق حالیہ دنوں میں افغان فورسز نے مختلف کارروائیوں میں سیکڑوں طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے جب کہ کئی علاقوں سے طالبان کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ طالبان جھوٹا پروپیگنڈا کر کے افغانستان میں کامیابی کے دعوے کر رہے ہیں حالاں کہ زمینی حقائق یکسر مختلف ہیں۔ تجزیہ کار نجیب اللہ آزاد کہتے ہیں کہ افغان فورسز نے حکمتِ عملی کے تحت طالبان کے لیے علاقے خالی کیے تاکہ اُن کی اصلیت افغان عوام اور دنیا کے سامنے آ سکے۔ اُن کے بقول جن علاقوں میں بھی طالبان نے قبضہ کیا وہاں اُنہوں نے دنیا سے کیے گئے وعدوں اور انسانی حقوق کی پاسداری کی یقین دہانیوں کے باوجود اپنی پرانی روش برقرار رکھتے ہوئے شہری املاک کو تباہ کیا اور لوگوں پر ظلم کیے۔ طالبان شہری املاک کو نقصان پہنچانے اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان فورسز اور طالبان کے دعوے اپنی جگہ لیکن امریکی فوج کے انخلا کے بعد اپنے بل بوتے پر طالبان کا مقابلہ کرنا افغان فورسز کے لیے اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

Source-https://hamariweb.com/articles/145820

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments