حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت، لوڈشیڈنگ ختم کرنے کیلئے بنائے گئے سی پیک کے تحت بننے والے تقریباً3 ہزار 600 میگاواٹ کے 5 پاور پراجیکٹس التواء کا شکار

پاور ڈویژن یکم ستمبر سے مٹیاری سے لاہور تک 660کے وی کے ٹرانسمیشن لائن کو آپریشنل کرنے کے لیے مناسب بجلی کی دستیابی کو یقینی بنائے

حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت، لوڈشیڈنگ ختم کرنے کیلئے بنائے گئے سی پیک کے تحت بننے والے تقریباً3 ہزار 600 میگاواٹ کے 5 پاور پراجیکٹس التواء کا شکارہے۔

تفصیلات کے مطابق سی پیک کے تحت لگائے جانے والے تقریبا 3 ہزار 600 میگاواٹ کے 5 پاور پراجیکٹس کے تجارتی آپریشن کی تاریخوں میں توسیع کے لیے ایک ماہ کے اندر یکساں پالیسی فریم ورک کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پاور ڈویژن کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ وہ یکم ستمبر سے مٹیاری سے لاہور تک 660کے وی کے ٹرانسمیشن لائن کو آپریشنل کرنے کے لیے مناسب بجلی کی دستیابی کو یقینی بنائے کمیٹی نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا)کو منصوبے کے ٹیسٹنگ کے مرحلے کے دوران ٹیرف کو حتمی شکل دینے کی بھی ہدایت دی.

سی پیک کے تحت متعدد منصوبے جن میں پاور سیکٹر بھی شامل ہے، اس وقت مختلف وجوہات کی وجہ سے تاخیر کا سامنا کر رہے ہیں جن میں جاری وبائی مرض اور اضافی بجلی کی پیداواری گنجائش شامل ہے حال ہی میں بنائی گئی اسٹیئرنگ کمیٹی جس کی زیادہ تر نمائندگی وفاقی سیکرٹری اور سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین ملٹری اور انٹیلی جنس ایجنسیاں کرتی ہیں۔

Visit To News Source
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments