پاکستان سے تعلق رکھنے والے وہ 4 ایسی شخصیات، جن پر پاکستانیوں کو فخر ہے۔۔۔ جانیے یہ عام لوگ کون ہیں؟

کل دنیا بھر میں موجود پاکستانی، پاکستان کا 75 وں یومِ آزادی کا دن جوش وجذبے کیساتھ منائے گئے۔ لیکن اس خوشی کے موقعے پر ہمیں ان پاکستانیوں کو نہیں بھولنا چاہئیے، جہنوں نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔

ڈاکٹر علامہ اقبال نے کہا تھا ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی، یہ بات سچ ثابت ہوتی ہے۔ آج ہم آپکو ان چار شخصیات کے بارے میں بتائیں گے، جن کے بارے میں شاید آپ نے پہلے کبھی نہ سنا ہو۔

ڈاکٹر عمر سیف:

ایوارڈ یافتہ سائنسدان ،ٹیک ٹائکون اور کاروباری شخصیت کے حامل ڈاکٹر عمر سیف کا تعلق پاکستان کے صوبے پنجاب سے ہے۔ 42 سالہ عمر سیف نے اپنی بنیادی تعلیم لمس ، کیمبرج اور ایم آئی ٹی سے حاصل کی. 2013 میں وہ وائس چانسلر انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ڈاکٹر عمر سیف وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے پہلا اسٹار اپ انکیوبیٹر، سیف انوویشن کے نام سے کیا۔ 2011 میں ایم آئی ٹی ٹکنولوجی نے ان کو نام دنیا کے کم عمر ترین انوویٹر کی لسٹ میں شامل کیا تھا۔ حکومت پاکستان نے انہیں 2014 میں پاکستان کا سب سے بڑا سویلین ایوارڈ، “ستارے امتیاز سے نوازا تھا۔

پروفیسر عاصم خواجہ :

عاصم خواجہ کو دنیا کی مشہور ترین یونیورسٹی ہارورڈ یونیورسٹی جان ایف کینیڈی کے پہلے پاکستانی پروفیسر بننے کا اعزاز حاصل ہے۔ عاصم خواجہ کو تحقیقی کام کی وجہ سے دنیا کے مشہور ترین جریدے، دی اکانومسٹ، نیویارک ٹائمز، واشنٹگٹن پوسٹ اور محتلف اداروں نے ان کے کام کو سراہتے ہے۔

علی معین نوازش:

31 سالہ نوجوان، جہنوں نے کیمبرج او لیول کے 23 مضمون میں اے گرڈ لینے کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں تعلیم کہ فروغ دینے پر تمغہ حسن کارکردگی دیا تھا۔ علی معین نوازش نے سیٹ اپ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی ہے جس کا مقصد، پاکستان میں تعلیمی شعبے کو ترقی دینا ہے۔

مہک گل:

مہک گل کا تعلق پاکستان کے شہر لاہور سے ہے۔ وہ ایک پروفیشنل شطرنج کی کھلاڑی ہیں۔ مہک، 5 سال کی عمر سے شطرنج کھیل رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بچپن سے اپنے والدین کو شطرنج کھیلتے دیکھتی تھی۔ اور وہاں سے میرے اندر شطرنج کا شوق پیدا ہوا۔ مہک گل آج دنیا بھر میں شطرنج کی پروفیشنل کھلاڑی مانی جاتی ہیں۔

Visit To News Source
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments