طالبان کا اصل امتحان

طالبان نے بغیر خونریزی کے افغانستان پر اپنا تسلط قائم کر لیا ہے . جس پر دنیا حیران و پریشان ہے. کہ یہ سب کیسے ممکن ہو گیا ہے. اس کامیاب حکمت عملی پر طالبان کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے. مگر طالبان کا اصل امتحان اب شروع ہوا ہے. کسی خطہ ارض پر قابض ہو جانا فتح نہیں ہوتی. آپ کی طرز حکومت، عوام سے روا رکھا جانے والا رویہ آپ کی فتح کا تعین کرتا ہے. طالبان کی طاقت کے آگے کوئی فریق ٹھہر نہ سکا. سب نے طالبان کے ہاتھ پر بیعت کرنے میں ہی اپنی بقاء سمجھی.اب طالبان کو اپنے رویہ اور طرز عمل سے دنیا کو باور کروانا ہو گا. کہ وہ کس قدر پر امن ہیں. حکومت سازی بھی طالبان کے لیے ایک امتحان ہے. طالبان کو تمام فریقین کو حکومت سازی میں شامل کرنا پڑے گا. جو آسان کام نہیں ہے. یہی فریقین ماضی میں طالبان کے خلاف برسر پیکار رہے ہیں. اب طالبان کے صبر اور برداشت کا بھی ٹیسٹ ہے. طالبان نے افغانستان پر اپنا تسلط قائم کرنے کے فوری بعد اپنے مخالفین کے لیے عام معافی کا اعلان کیا ہے. جوکہ بہت ہی احسن اقدام ہے. انہوں نے پوری دنیا کو امن کا پیغام دیتے ہوئے. واضح اعلان کیا ہے. کہ افغانستان کی سر زمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا. دنیا کو بھی اس کے احسن اقدام کو سراہنا چاہیے تھا. مگر امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے اس کے برعکس ردعمل کا اظہار کیا ہے. انہوں نے اس کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے. عالمی بینک نے بھی اس کے قرضہ جات روک لیے ہیں. جب طالبان امن کے خواہاں ہیں. تو پھر دنیا کو بھی مثبت سوچ کو اپنانا ہو گا. اگر بزور طاقت طالبان کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئ. تو یہ دنیا کے امن کے لیے نیک شگون نہیں ہو گا. بلکہ دنیا کو ایک بار پھر سے جنگ و جدل میں دھکیل دے گا. طالبان کے ساتھ ساتھ یہ دنیا بھر کا بھی امتحان ہے. کہ وہ کس طرح سے طالبان کو لیکر چلتی ہے. طالبان نے واضح اعلان کیا ہے. کہ افغانستان میں شرعی حکومت ہوگی. جو اسلام کے اصولوں پر مبنی ہو گی. اسلام امن کا داعی مذیب ہے. اس لیے دنیا کو طالبان سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے. بلکہ انہیں حکومت سازی میں مدد فراہم کرنی چاہیے. ظاہر ہے اگر افغانستان کی سرزمین پر امن قائم ہوتا ہے. تو اس کے اثرات پوری دنیا پر رونما ہو گے. ابھی تک طالبان نے اپنے طرز عمل سے دنیا کو باور کروایا ہے. کہ وہ پرامن قوم ہے. انہوں نے کسی بھی غیر ملکی کے انخلاء میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی. تمام ممالک کے سفارت کار اپنی مرضی سے افغانستان چھوڑ کر  جا رہے ہیں. حالانکہ طالبان نے انہیں یقین دہانی کروائی ہے. کہ وہ اپنا کام جاری رکھے. انہیں ہر طرح کا تحفظ فراہم کیا جائے گا. طالبان کے طرز عمل کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے. کہ طالبان ماضی کے طالبان سے بہت مختلف ہیں. انہوں نے خواتین کو باپردہ ہو کر کام کرنے کی اجازت بھی دے دی ہے. اب امریکہ اور مغربی ممالک کی ذمہ داری ہے. کہ وہ اسلام دشمنی سے باہر نکل کر وسیع دل سے طالبان کی حکومت اور وجود کو تسلیم کرے. منافقت نہ کرے. جب امریکہ نے افغانستان سے نکلنے کے لیے طالبان سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا تھا. تو کیا اس وقت وہ دہشت گرد یا دنیا کے امن کے لیے خطرہ نہیں تھے. طالبان نے امریکہ کی توقعات کے برعکس انتہائی قلیل عرصہ میں افغانستان کی سرزمین کو فتح کر لیا ہے. اس لیے اب وہ حقیقت سے آنکھیں چرا رہا ہے. طالبان اسلام کے اصولوں پر مبنی ایک ایسی فلاحی ریاست کا وجود قائم کرنا چاہتے ہیں. جو دنیا بھر کے لیے رول ماڈل کا درجہ رکھتی ہو. اس سلسلہ میں اس کی طرف سے تمام فریقین سے بات چیت جاری ہے. طالبان کے اب تک کے رویہ کو دیکھتے ہوئے. یہ بات بلاشبہ کہی جا سکتی ہے. کہ طالبان دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کو ہر طرح سے تیار ہیں. دنیا کو بھی اپنے طرز عمل سے ان کی حوصلہ افزائی کرنی ہو گی. امریکہ سمیت پوری دنیا کو طالبان کی حکومت کو فی الفور تسلیم کرتے ہوئے. اس کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنا ہو گے. جب تک ہم کسی کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے. اور اسے اپنا نقطہ نظر سمجھنا نہیں چاہتے. تب تک بات آگے نہیں بڑھتی. دنیا کے امن کی خاطر تمام ممالک کو وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے. طالبان کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات بحال کرنا ہو گے.دنیا کی خوش قسمتی ہو گی کہ اسے تجارت کے لیے ایک ایسی منڈی میسر آئے گی. یہاں وہ بلا خوف خطرہ کام کرسکتے ہیں. طالبان کے ہوتے ہوئے. کوئی کسی کا مال ضبط نہیں کر سکتا. جو کام روس اور امریکہ جنگ سے کرنا چاہتے تھے. وہی کام اب طالبان کی حکومت میں پر امن طریقہ سے کیا جاسکتا ہے. دنیا کو اس موقع سے بھرپور استفادہ حاصل کرنا چاہیے. طالبان کی مثبت سوچ کو مزید پروان چڑھانے کے لیے اس کی مزید حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے. جب یہ لوگ دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا شروع کر دے گے. تو بلاشبہ یہاں امن کی فاختہ گنگائے گی. جس کی بدولت دنیا بھر میں بھی امن قائم ہو سکے گا. کب تک امن کی خاطر جنگ و ہتھیار استعمال کرتے رہے گے. کبھی تو گفت و شنید سے بھی امن قائم کر کے دیکھ لیں. جو کام بات چیت سے ہو سکتا ہے. اس کے لیے ہتھیار اٹھانا ضروری نہیں. دنیا کو طالبان کو ایک موقع لازمی دینا ہو گا. کہ وہ امن کے لیے سنجیدہ کوشش کر سکیں. خدانخواستہ اگر افغانستان میں حالات خراب ہوتے ہیں. تو اس کی ذمہ داری امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک پر عائد ہو گی. جہنوں نے طالبان کی امن کی خواہش کا احترام نہ کیا. طالبان اپنے امتحان میں اب تک کامیاب ہو رہے ہیں. اگر انہوں نے اپنی اسی روش کو برقرار رکھا. تو بہت جلد امن پسند اقوام ان کے ساتھ چلنے کو تیار ہو جائیں گی. افغانستان کی شکل میں دنیا کو ایک بہترین تجارتی منڈی میسر آ رہی ہے. جس سے دنیا کو مستفید ہونے کی ضرورت ہے. طالبان کے زیر کنٹرول جانے کے بعد افغانستان میں معمولات زندگی نارمل ہونا شروع ہو چکے ہیں. عوام سکون سے اپنا کاروبار کر رہی ہے . پاکستان، چین ،ترکی اور ایران کے سفارت خانے بھی معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں. انہیں کسی بھی قسم کا خطرہ نہیں. میڈیا پر افغانستان کو چھوڑ کر بھاگنے والوں کی وڈیو دیکھا کر ظاہر کیا جا رہا ہے.  جیسے وہاں بڑی بدامنی ہے. جبکہ حقیت میں ایسا کچھ نہیں. عوام ہنسی خوشی اپنی زندگی گزار رہے ہیں. کاروبار زندگی بھی معمول کے مطابق چل رہا ہے. عالمی طاقتوں کو سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت افغانستان کے حالات کو ابتر کرنے کی سازش سے باز رہنا چاہیے. اور طالبان کی امن پسندی کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے. اسی میں دنیا کا امن پوشیدہ ہے.

جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے.جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی.

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments