جنسی ہراسگی

پاکستان میں بچوں اور عورتوں کے ساتھ جنسی ہراسگی کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے. جس کی بدولت دنیا بھر میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے. دنیا ورطہ حیرت میں مبتلا ہے. کہ یہ وہی قوم ہے. جس نے اسلام کے نام پر آزادی حاصل کی تھی. یہ قوم اپنے اسلاف کے نظریات کو مکمل طور پر فراموش کر چکی ہے. کیا پاکستان کا قیام اس مقصد کے لیے ہوا تھا. کہ بچے اور خواتین گھر سے باہر نکلتے وقت خود کو غیر محفوظ سمجھیں . ہرگز نہیں. اس کے قیام کا اصل مقصد تو ایک ایسا خطہ ارض حاصل کرنا تھا. جہاں دین اسلام کی حقیقی عکاسی ہوتی ہو. اس خطہ کے باسی اپنی زندگیوں کو دین اسلام کی روح کے  مطابق گزار سکیں. مگر آج موجودہ پاکستان کو دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتے ہیں. اس سے بہتر تو انگریز کا دور تھا. جس میں ماں ،بہن ،بیٹی کی عزت کا پاس کیا جاتا تھا. قوانین اتنے سخت تھے. کہ کوئی ان کی خلاف ورزی کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا. اسی لیے خواتین بلاخوف خطرہ گھومتی پھرتی تھیں. اہل پاکستان کی بدقسمتی کہہ لے. کہ غیرملکی تسلط سے آزادی حاصل کرنے کے بعد آج تک ہم لوگ اسلامی قوانین کو حقیقت میں ڈھال نہیں سکیں. جو ہماری نوجوان نسل کی بے راہ روی کا سبب بن رہا ہے. ہماری نوجوان نسل مغربی کلچر کی دیدادہ بنتی جا رہی ہے. اس نے  مغربی رسم رواج کو زندگی گزارنے کے لیے اپنا نصب العین بنا لیا ہے. اس کی بنیادی وجہ ٹیکنالوجی کا انقلاب ہے. آج کے دور میں کوئی شخص بھی جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیے بغیر نہیں رہ سکتا. اس چیز کا فائدہ مغرب اٹھا رہا ہے. وہ اس جدید ٹیکنالوجی کو اپنے رسم رواج کی تبیلغ اور مسلمان نسل کو بے راہ روی کا شکار کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے. جس کا امت مسلمہ کوئی توڑ نہیں کر رہی . مسلمان اہل علم بھی اسی رنگ میں رنگ چکے ہیں. پاکستان میں جب بھی کہی جنسی درندگی کا واقع رونما ہوتا ہے. یہ اہل علم اپنے علم کا روبہ چڑھانے آ جاتے ہیں. کوئی ان سے پوچھے. کہ یہ لوگ نوجوان نسل کی راہنمائی کے لیے کیا خدمات سر انجام دے رہے ہیں. تو سوائے مایوسی کے کچھ حاصل نہیں ہو گا. ہمارے ڈرامہ نگار جن میں اکثریت خواتین کی ہے. وہ ایسی کہانیاں تحریر کر رہی ہیں . جن میں خواتین کو بے راہ روی کا درس دیا جاتا ہے. جس کو دیکھ کر ہماری نوجوان بچیاں ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتی ہیں. خواتین کے لباس میں جدت نے بھی عریانی کو فروغ دیا ہے. لباس پہننے میں کوئی عار نہیں. مگر معاشرتی رسم رواج کو مدنظر رکھتے ہوئے. لباس زیب تن کرنا ہی سود مند رہتا ہے. والدین بھی اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکام نظر آتے ہیں. وہ اپنے بچوں کو کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور جدید ٹیکنالوجی کے حامل لیٹس موبائل فون لیکر دے دیتے ہیں. جن کے ذریعہ سے بچے انٹرنیٹ کی سہولت سے مستفتد ہوتے ہیں. اور دنیا بھر کی معلومات حاصل کرنے کی جستجو میں مگن نظر آتے ہیں. اسی دوران وہ اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال شروع کر دیتے ہیں. جس کا والدین کو علم ہی نہیں ہوتا. اگر والدین اپنے بچوں پر نظر رکھے. اور ان کی روز کی مصروفیات کو مانیٹر کریں. تو بھی بچے بے راہ روی کی روش پر چلنے سے بچ سکتے ہیں. میڈیا کو بھی اس سلسلہ میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے. اگر کسی جگہ جنسی زیادتی کا کوئی واقع رونما ہو جاتا ہے. تو اس کی رپورٹنگ احکام بالا کی توجہ مبذول کروانے کے لیے کرنی چاہیے. ناکہ اس واقع کو اپنی ریٹنگ کے لیے استعمال کیا جائے. خواتین سے بھی ہاتھ جوڑ کر التجا ہے. کہ جب کہی کسی عورت سے زیادتی ہوتی ہے. تو اس پر تمام مردوں کو برا بھلا کہنے کی بجائے. یہ سوچ لیا کریں. کہ یہ مرد کسی عورت کا بیٹا، بھائی اور شوہر ہے. مرد کی غلط اور غلیظ حرکت میں عورت بھی اتنی ہی ذمہ دار ہے. جتنا وہ خود. کیونکہ اس کی تربیت کرتے وقت عورت نے اپنا صحیح کردار ادا نہیں کیا. اگر وہ مرد کی تربیت احسن طریقہ سے کرتی. تو وہ کبھی بھی گھٹیا حرکت نہ کرتا. جنسی بے راہ روی اور ہراسگی کے واقعات کی روک تھام کے لیے معاشرہ کے ہر مکتبہ فکر کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا. تبھی اس لعنت سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے. حکومت کو ملکی قوانین کو شرعی اصولوں پر استوار کرنا ہوگا. جس میں سزا و جزا کا  کلیدی عنصر موجود ہو. موجودہ دور میں مسلم ممالک اپنے اپنے ملک کے لیے دستور بناتے ہیں. شاید وہ اس بات سے بے خبر ہیں. یا جان بوجھ کر حقیقت سے آنکھیں چرانے کی کوشش کرتے ہیں. کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی صورت میں انہیں ایک دستور بنا کر دیا ہے. پھر وہ اس پر عمل کیوں نہیں کرتے. کیا وہ اس کو ضابطہ حیات تصور نہیں کرتے. مسلم امہ کی پستگی اور تنزلی کا سبب  دین اسلام سے دوری ہے. جس دن ہم نے دین اسلام کے احکامات پر عمل درآمد شروع کر دیا. اسی دن ہم اس معاشرتی برائی سے چھٹکارا حاصل کر لے گے. خدارا ہمیں مرد اور عورت کی بحث سے باہر نکل کر بحیثیت قوم اپنی اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقہ سے نبھانے کی ضرورت ہے. اگر ہم نے بحیثیت قوم اس معاشرتی برائی پر بروقت قابو نہ کیا. تو ہمارے لیے اپنے وجود کو قائم رکھنا بھی محال ہو جائے گا. تاریخ ایسی اقوام کی ہولناک داستانوں سے بھری پڑی ہیں. جہنوں نے مادر پادر آزادی کو اپنا منشور بنا لیا تھا. اور جنسی بے راہ روی پر چل پڑیں تھی. آج ان کا نام نشان بھی ڈھونڈنے سے نہیں ملتا. ہمارے پاس ابھی بھی وقت ہے. کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو اس لعنت سے چھٹکارا پانے میں مدد و راہنمائی کریں. اس عمل میں سب سے زیادہ کردار عورت ہی کو ادا کرنا ہو گا. گزشتہ کچھ عرصہ سے رونما ہونے والے واقعات نے اہل پاکستان کی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے. اگر ہم اب بھی خواب غفلت سے بیدار نہ ہوئے. تو پھر ہمارا اللہ ہی حافظ ہے. جنسی ہراسگی جیسی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے سب کو اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہو گا.

وجود زن سے ہے. تصویر کائنات میں رنگاسی کے ساز سے ہے. زندگی کا سوز دروں

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments