امارت اسلامیہ

افغانستان میں طالبان کی فتح کے ساتھ ہی دنیا بھر میں نئ بحث کا آغاز ہو گیا ہے. کہ افغانستان کا مستقبل کیا ہو گا. طالبان افغان سرزمین پر قابض تو ہو گئے ہیں . کیا وہ وہاں ایک جامع اور متفقہ حکومت کے قیام میں بھی کامیاب ہو پائے گے. یہ یقیناً ان کے لیے ایک چیلنج ہے. طالبان نے افغانستان کی سرزمین پر امارت اسلامیہ کی بنیاد رکھنے کا اعلان کیا ہے. جس میں تمام قوانین قرآن و سنت کے مطابق ہو گے. یہ سب دیکھنے اور سننے کو تو بہت آسان لگ رہا ہے. مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے. یہ پہلا موقع نہیں. کہ دنیا کہ نقشہ پر ایک ملک اسلام کے نام پر ابھرنے جا رہا ہے. اس سے قبل برصغیر کے مسلمانوں نے بھی غیرملکی تسلط سے آزادی حاصل کرنے کے لیے اسلام کی سربلندی کا نعرہ بلند کیا تھا. ان کا منشور تھا. کہ وہ ایک ایسا خطہ ارض چاہتے ہیں. یہاں اسلام کے اصولوں کے مطابق زندگی گزاری جا سکے. اس مقصد حیات کے لیے انہوں نے جانوں کے نذرانے بھی پیش کیے تھے . مگر افسوس ہم آزادی کے 73 سال گزارنے کے باوجود بھی اس مقصد کو حاصل نہیں کر پائے. کیونکہ غیر ملکی طاقتیں کو یہ برداشت نہیں. کہ اسلام کے اصولوں کے مطابق کوئی ملک وجود پذیر ہو. امریکہ پہلے افغانستان میں آنے کے لیے بے چین تھا.  پتہ نہیں اس نے افغانستان کو فتح کر کے دنیا کو کیا پیغام دینا تھا. بیس سال تک جدید اسلحہ کے باوجود یہ افغانستان کے چند صوبوں تک ہی محدود رہا. بالآخر اس نے افغانستان سے نکلنے میں ہی اپنی افادیت جانی.  اس نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لگانے کے لیے پاکستانی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی منت سماجت کی. پاکستان نے طالبان کو مذاکرات کے لیے آمادہ کیا. جس کی بدولت امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے متعدد دور ہوئے. اور بالآخر ان مذاکرات کے نتیجہ میں دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا. جس کے تحت امریکہ اور اس کی اتحادی افواج 31 اگست 2021 تک افغان سر زمین سے نکل جائیں گی. جیسے جیسے معاہدے کی تاریخ قریب آتی جا رہی ہے. امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے افغانستان کے حالات کو خراب کرنے کی سازشیں رچائی جا رہی ہیں. کبھی کابل ائیر پورٹ پر خودکش حملے کروائے جاتے ہیں. تو کبھی راکٹ حملے یہ سب کچھ افغانستان کے حالات کو خراب کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے. یہ حالات طالبان کے سیاسی شعور کا بھی امتحان ہے. دیکھنا ہو گا. کہ وہ ان سب حالات کا کس طرح سے سامنا کرتے ہیں. امریکہ ایک طرف افغانستان سے انخلاء چاہتا ہے. تو دوسری طرف افغانستان میں خانہ جنگی کا خواہش مند ہے. وہ چایتا ہے. کہ افغانستان کے تمام دھڑے آپس میں دست گریبان رہیں. طالبان کی اب تک کی سیاسی حکمت عملی کامیابی سے ہمکنار رہی ہے. انہوں نے افغانستان کے تمام دھڑوں کو گفت و شیند سے ایک نقطہ پر متحد کیا ہوا ہے. جس میں امریکہ کی طرف سے خلل ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے. بقول امریکہ کے افغانستان کی سرزمین پر داعش ایک بار پھر سے منظم ہو رہی ہے. تو یہاں سوال پیدا ہوتا ہے. کہ امریکہ بیس سال تک یہاں کیا کرتا رہا ہے. جو اس سے داعش کا خاتمہ نہ ہو سکا. اس نے داعش کو بہانہ بنا کر عراق، افغانستان پر حملہ کیا تھا. مگر آج بیس سال بعد بھی خطرہ وہی کا وہی ہے. دنیا کہ امن کو اتنا خطرہ دہشت گردی سے نہیں. جتنا امریکہ کی سوچ سے ہے. امریکہ کو چاہیے کہ دوسرے ممالک کی فکر کرنے کی بجائے. اپنے اندرونی حالات کو بہتر کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کرے. امریکہ نے ماضی کے تجربات سے کچھ نہیں سیکھا. ویت نام میں اسے ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا. اب افغانستان میں بھی ذلت و رسوائی اس کا مقدر بنی ہے. امریکہ دنیا کی اقتصادی طاقت ہے. اس کے باوجود پتہ نہیں. کیوں یہ دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرتا ہے. دنیا کے متعدد ممالک کے رہنما امریکی پاسپورٹ رکھنے کو اپنے لیے باعث اعزاز سمجھتے ہیں. مگر  امریکہ اپنی ساخت کو کھونے پر تولا ہوا ہے. افغانستان سے طالبان سے مذاکرات کے نتیجہ میں اس کو باعزت واپسی کا راستہ میسر آیا ہے. اسے اس سے مستفید ہونا چاہیے تھا. مگر یہ ایک بار پھر سے ذلیل و رسوا ہونا چاہتا ہے. اس نے جان بوجھ کر افغانستان کے حالات کو ابتر کرنے کا منصوبہ تشکیل دیا ہے. جس کی وجہ سے آنے والے دنوں میں افغانستان کے حالات خراب ہونے کا اندیشہ ہے. طالبان کی جانب سے امارت اسلامیہ کا جو خواب دیکھا گیا ہے. اللہ تعالیٰ اسے شرمندہ تعبیر کر دے. امریکہ، بھارت جیسے امن دشمنوں کے ہوتے ہوئے. یہ آسان کام نہیں. پتہ نہیں دنیا اسلام کے نام سے خوفزدہ کیوں ہو جاتی ہے. حالانکہ اسلام کی بنیاد ہی امن و محبت پر استوار ہے. اگر دین اسلام کو پنپنے کا موقع دیا جائے. تو دنیا امن کا گہوارہ بن سکتی ہے. طالبان کا امتحان اب شروع ہو گا. دیکھتے ہیں. وہ کس قسم کی شریعت کا نفاذ کرتے ہیں. اگر ایک فرقہ کی پسند کے مطابق اسلام کا نفاذ ہوا. تو دوسرے فرقے اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہو گے. جس سے فرقہ واریت کو ہوا ملے گی. امریکہ اس مسئلہ کو مزید تقویت دے گا. طالبان کو اپنی عقل اور سمجھ بوجھ سے دنیا کو باور کروانا ہے. کہ وہ ہر لحاظ سے ملک کو چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں. تبھی دنیا ان کے ساتھ چلنے کو آمادہ ہو گی. بلاشبہ امارت اسلامیہ کا قیام امت مسلمہ کی مضبوطی و سر بلندی میں کلیدی کردار ادا کرے گا.
یہ دنیا نفرتوں کی آخری اسٹیج پہ ہے. علاج اس کا محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے.

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments