اے این پی کو موقع ضائع نہیں کرنا چاہئے

تحریر:فضل عظیم قریشی

حصول آزادی سے پہلے برصغیر پاک وہند کا خطہ مجموعی طورپر انگریز کے قبضے میں تھا اور مسلمان بالخصوص پختون کو کئ مشکلات کا سامنا تھا ۔ ایسے حالات میں اللہ تعالی نے باچاخان کی صورت میں اس قوم کو آزادی کا شعور دلانے کے لیے مشعل راہ عطا فرمایا۔ باچاخان نے آزاد اسلامی مدرسہ، تحریک اصلاح الافاغنہ اور خدائی خدمتگار تحریک جیسے اداروں اور تنظیموں کے ذریعے اس قوم کو غلامی سےنجات اور آزادی کا احساس دلایا

جیلوں، نظربندیوں، کوڑوں، ظلم ، جبر اور قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن کسی صورت اپنے مقصد سے پیچھے ہٹنے کے روادار نہیں تھے حتی کہ پہاڑجیسے انگریز کواس خطے سے بھاگنا پڑا اور یوں ان کی انتھک محنت اور قربانیوں کی بدولت پاکستان اور ہندوستان دو آزاد ممالک معرض وجود میں آئے۔ مسلہ صرف یہ پیش آیا کہ جو علاقے پاکستان کو ملنے تھے اس میں بنگال ایسا علاقہ تھا جو پاکستان سے دور تھا۔ بدقسمتی سے ایک کے بجائے دوپاکستان بنے جن کو مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کا نام دیا گیا ۔ باچاخان اور اس کے ساتھیوں نے محسوس کیا کہ اس ملک کا نقشہ یوں ترتیب دیا گیا کہ اس کا بقا مشکل ہے اس لئے انہوں نے تجویز دی کہ بنگال کو انڈیا کے ساتھ شامل کیا جائے اور اس کے بدلے ایسے علاقے جو پاکستان کے ساتھ چل سکتے ہیں اور ایک مضبوط پاکستان کے ضامن ہوسکتے ہیں انڈیا سے لے کر پاکستان کے شامل کئے جائیں۔ چونکہ انگریز کو باچاخان اور اس کے خدائی خدمتگار ساتھیوں کے خلاف بہانہ چاہئے تھا اس لئے ان کے ہاتھ آسان بہانہ ہاتھ آگیا کہ باچاخان اور خدائی خدمتگار غدار ہیں اور وہ تقسیم ہند کےخلاف ہیں حالانکہ باچاخان کا محسوس کردہ خطرہ دسمبر ۱۹۷۱ میں عملی جامہ پہن کر ملک کو دولخت کرنے پر منتج ہوا۔

اگر باچاخان اور اس کے ساتھی غدار ہوتے تو ۱۹۷۱ میں پاکستان کا وجود ختم کرنے کا آسان ترین موقع بن گیا تھالیکن انہوں نے پھر بھی اپنی پوری کوشش کی کہ جو پاکستان بن چکا ہے اب یہ باقی رہے۔ باچاخان کے فرزند ارجمند اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان نے بیرون ملک اپنا علاج نامکمل چھوڑ کر وطن واپس آگئے اور سیدھا بنگال چلے گئے کافی کوشش کی کہ کوئی حل نکلے اور پاکستان دولخت ہونے سے بچ جائے لیکن ان کی ایک نہ سنی گئی اور بالآخر صوبہ بنگال پاکستان سے الگ ہوکر بنگلہ دیش کی صورت میں ایک اور ملک دنیا کے نقشے پر رونما ہوا۔

۱۹۷۰ کی دہائی دنیا میں روس اور امریکہ کی صورت میں دوسپر پاورکے عروج کا زمانہ تھا ۔ امریکہ کو ہر صورت روس کو مات دے کر دنیا کا واحد سپر پاور بننے کی خواہش تھی اس لئے روس کو افغانستان کے خلاف للکارکر ایک طویل جنگ کا آغاز کیا ۔ باچاخان اور اس کے ساتھیوں نے خطرے کو بھانپ کر اس جنگ کی مخالفت اس بنیادپر کی کہ ہمارے خطے میں ایک سپر پاور کو ہٹاکر امریکہ مکار ساری دنیا کا بے تاج بادشاہ بن کر ایک طرف اگر سارا برصغیر نہ ہو تو کم ازکم پاکستان کو دوبارہ قبضے میں لے گا جب کہ دوسری طرف واحد سپر پاور بن کر امریکہ سارے مسلم امہ کے لئے درد سر بنے گا۔ اس وقت باچاخان اور اس کے ساتھیوں پر کافر اور غدار کے فتوے لگا کر کافر روس کو شکست دی گئی اور دنیا کی سب سے بڑی (مسلم) قوت امریکہ کو دنیا پر حاوی کردیاگیا۔ پھر بھی باچاخان اور اس کے پیروکار ہمت ہارے نہ بقائے پاکستان کے دفاع سے مکر گئے۔

واشنگٹن پر حملوں کے بعد عالمی صورتحال کے تناظر میں افغانستان پر امریکی یلغار کے بعد اس خطے میں سب سے بڑی ذمہ داری پاکستان کے کندھوں پر آگئی اورپاکستان کو بھاری قیمت اداکرنی پڑی ۔ حتی کہ پرویزمشرف کے زیر سایہ چلنے والی حکومت نے کئی ایسے فیصلے کئے جس کے نتیجے میں قبائلی علاقوں، خیبرپختونخوا اور بالخصوص ملاکنڈ ڈویژن کو دہشت گردی کی شورش نے مکمل طورپر اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ ۲۰۰۸ میں جب دہشت اور وحشت کے حالات نقطہ عروج تک پہنچ چکے تھے اور خدشہ تھا کہ پاکستان فاٹا اور ملاکنڈ ڈویژن کھو بیٹھے عام انتخابات منعقد ہوئے اورخیبرپختونخوا (اس وقت کے صوبہ سرحد) میں عوامی نیشنل پارٹی نے اکثریت پاکر صوبائی حکومت تشکیل دینے میں کامیاب ہوئی تو فیصلہ ہوا کہ اے این پی کو جانی، مالی اور خونی ہرطرح کی قربانی دینی پڑے تو دے گی لیکن اس ملک کو دہشت گردی کی مصیبت سے چھٹکارا دیا جائے گا۔دنیا نے دیکھ لیا کہ کس طرح اے این پی نے اپنے ممبران اسمبلی، وزرا، کارکنوں اور اپنے بچوں کی جانوں کے نذرانے پیش کرکے اس مٹی کا دفاع کیا بدلے میں انہیں آج تک غداروں اور وطن دشمنوں کے طعنے دئے جارہے ہیں لیکن پھر بھی اس جماعت کی قیادت بضد ہے کہ اس ملک کو اور اس کی مٹی کو کسی بھی صورت دشمن کے ہاتھوں میں نہیں دیا جائے گا۔ آج ایک بارپھر افغان جنگ کے ممکنہ خطرات کے بارے میں مذکورہ جماعت اپنا موقف ببانگ دہل پیش کررہی ہے اور غداری کے القابات سمیٹ رہی ہے۔

ایمل اسفندیارولی خان کا پارٹی کا صوبائی صدر بنتے ہی یہ ایک کارنامہ تھا کہ پاکستان کاجھنڈا اے این پی کے جھنڈے کےساتھ لہراکر کہا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے اور ہم اس کا دفاع کریں گے۔ چند نادیدوں نے انہیں طیش دلانے اور اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرنے کے لئے کئی طرح کے پروپیگنڈے کئے لیکن انہوں نے صبر کا دامن تھام لیا اور اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ کسی نے اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کی باتیں کیں تو کسی نے پرانے زمانے کے انگریز کے چمچوں کے لگائے گئے الزامات کا سہارالے کر ایمل ولی کے اس عمل پر طنز کے تیر برسائے ۔ باچاخان اور خدائی خدمتگاروں کے کوششوں کے نتیجے میں بننے والے ملک میں اس وقت فوج تھی نہ اسٹیبلشمنٹ ۔ ایک طرف خدائی خدمتگار تھے اور دوسری طرف انگریز کے چمچے اس لئے یہ کہنا بے جا ہے کہ اے این پی کو اسٹیبلیشمنٹ یا فوج سے کوئی مسلہ ہے ۔ اے این پی کے خلاف پہلے بھی انگریز کے چمچے سرگرم تھے اور آج بھی ہیں۔

تمہید بالا سے غرض یہ ہے کہ پاکستان بنانے سے لے کردفاع پاکستان تک اے این پی پیش پیش ہے تو موقع سے فائدہ اٹھائے ۔ہر سال ۱۴ اگست کےموقع پر جشن آزادی کے تقریبات منعقد کرے اور قوم کے سامنے اپنے اسلاف کی قربانیاں رکھ کر اپنا دعوے ثابت کرے کہ پاکستان کو بنایا بھی ہم نے ہے اور اس کو بچائیں گے بھی ہم۔ پاکستان اے این پی کا اثاثہ ہے اور اس کا دفاع ہم پر فرض ہے تب ہی جاکر اغیار سے اپنا اثاثہ لے سکیں گے ورنہ قربانیاں پیش کرنے اور تکالیف ومصائب جھیلنے کے باوجود بھی صرف غداری کے القابات سمیٹیں گے اور اپنے مشکلات اور مصائب میں اضافہ کریں گے۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments