ای وی ایم

آج کل حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ای وی ایم (الیکڑانک ووٹنگ مشین) کو لیکر بحث چل رہی ہے. لگتا ہے جیسے باقی تمام مسائل پر قابو پا لیا گیا ہو. . عوام جان لیوا مہنگائی کے ہاتھوں مر رہی ہے. ہمارے حکمرانوں کو اگلے الیکشن کی فکر ستائے جا رہی ہے. کہ اس میں واضح اکثریت کیسے حاصل کی جائے. اس کے لیے وہ مختلف تجاویز پر غوروفکر کر رہے ہیں. تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے کے لیے بھی آوازیں بلند کی جا رہی ہے. جو کہ ماضی میں موجودہ حکمرانوں کی نظر میں بہت ہی غلط فعل تصور کیا جاتا تھا. اسی مسئلہ پر سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی کابینہ کے اکثر وزراء پر شدید تنقید کی جاتی تھی. کہ انہوں نے مختلف ممالک کے اقامے کیوں رکھے ہوئے ہیں. اسی ایک نقطہ پر پاکستان مسلم لیگ ن کی سعدیہ عباسی اور دیگر اراکین قومی اسمبلی کو نااہل قرار دیا گیا تھا. اس وقت وزیراعظم عمران خان اس کو اپنی بڑی کامیابی قرار دیتے تھے. یہ مزید کہا کرتے تھے . کہ بیرون ملک اثاثے رکھنے والے کبھی بھی ملک سے مخلص نہیں ہوتے. کیونکہ ان کے مفادات ہی بیرون ممالک سے وابستہ ہوتے ہیں. مگر جیسے ہی ان کو اقتدار ملا. ان کے نظریات میں تبدیلی آگئی ہے. جس کا وہ برملا اظہار بھی کرتے ہیں. کہ تبدیلی آ نہیں رہی. تبدیلی آ گئی ہے. موجودہ حکومت کی نظر میں ملکی حالات کو تبدیل کرنا تبدیلی نہیں. بلکہ اپنے نظریات کی نفی کرنے کا نام تبدیلی ہے. اقوال نیازی تھے. کہ اگر ملک میں مہنگائی ہو رہی ہو. تو سمجھ لو تمھارا وزیراعظم چور ہے. پیڑول، ڈیزل، بجلی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ رہی ہو. تو سمجھ لینا تمھارے حکمران چور ہیں. آج یہ سب کچھ ہو رہا ہے. تو موقف پیش کیا جا رہا ہے. کہ یہ سب کچھ مافیاز کی وجہ سے ہے. کیا ان مافیاز نے اب جنم لیا ہے. ماضی میں ان کا وجود نہیں تھا. ماضی کی حکومتیں بھی ان سے نبردآزما ہوتیں رہی ہیں. موجودہ حکومت دوسروں کو الزامات دینے کی بجائے. اپنی تین سالہ کارکردگی پر غوروفکر کرے. تو اسے معلوم ہو گا. کہ اس سے کیا کیا غلطیاں سرزد ہوئیں ہیں. اپنی تمام تر ناکامیوں کا ملبہ پیچھلی حکومتوں پر ڈال کر آپ بری الذمہ نہیں ہو سکتے. آپ کے اپنے قول و فعل میں کھلا تضاد ہے. کبھی آپ کہتے ہیں. کہ حکومت میں آنے کے لیے میں نے اکیس سال جدوجہد کی ہے. کبھی کہتے ہیں. کہ حکومت چلانے کے لیے ابھی میری تیاری نہیں تھی. میں ذہنی طور پر تیار نہیں تھا. تو پھر آپ نے اکیس سال کس چیز کی جدوجہد کی ہے. یہی کنفیوژن آپ کی ناکامی کا سبب بن رہی ہے. جس دن آپ اپنی کنفیوژن سے باہر نکل آئے گے. آپ کے مسائل خود بخود حل ہو جائے گے. اب آپ نے پوری قوم کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے مسئلہ میں الجھا دیا ہے. اگر یہ مشین اتنی ہی اچھی ہوتی. تو ترقی یافتہ ممالک اس کو رد نہ کرتے. امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں گزشتہ الیکشن میں صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے اپنے مخالف امیدوار ٹرمپ پر الزام لگایا تھا. کہ اس نے اسرائیل اور روس کی مدد سے میرے ووٹ بینک کو چرایا ہے. تمام سروے ہیلری کلنٹن کو فتح یاب دیکھا رہے تھے. مگر رزلٹ میں ٹرمپ جیت گیا. جس کی وجہ سے سارا الیکشن مشکوک ہو گیا تھا. اسی طرح امریکہ کے حالیہ الیکشن میں ٹرمپ نے الزام عائد کیا ہے. کہ روس نے ان کے ووٹنگ سسٹم کو ہیک کرکے جوبائیڈن کو کامیاب کروایا ہے. جس پر ٹرمپ نے شدید احتجاج کیا. اور وائٹ ہاؤس کو خالی کرنے سے انکار کر دیا. خون خرابہ کے بعد اقتدار جوبائیڈن کو منتقل ہوا. یہ اسی الیکڑانک مشین کے کمالات تھے. جس کی بدولت ترقی یافتہ ملک میں الیکشن انتہائی متنازع ہو گئے تھے. ہم تو ان ممالک کی صف میں بھی شامل نہیں. ہم تو ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں بھی بہت تنزلی پر ہے. پھر ہم ان جھجھڑوں میں کیوں پڑ رہے ہیں. ہمارے ملک میں تو شرح خواندگی بھی بہت کم ہے. لوگوں کو یہ مشین استعمال کرنی نہیں آئے گی. کیونکہ بعض حلقوں میں پچیس تیس لوگ الیکشن میں کھڑے ہوتے ہیں. جب بیلٹ پیپر پر اتنے زیادہ نشانات ہوگے. تو اس صورت میں مشین پر کتنے بٹن لگائے جائے گے. یہ مشکل طریقہ انتخاب ہے. اس سے ووٹنگ کی رفتار بھی کم ہو گی. آپ کیوں اس طریقہ انتخاب کو رائج کرنے پر تلے ہوئے ہیں. کیا آپ کی سیاسی بقاء اسی طریقہ انتخاب پر انحصار کر رہی ہے. آپ کو شاید بخوبی اندازہ ہو گیا ہے. کہ پاکستانی عوام نے اب آپ کو ووٹ نہیں دینا. اس لیے آپ نے غیر ممالک میں مقیم پاکستانیوں سے ووٹ لینے کا پروگرام تشکیل دیا ہے. یہ ممکن نہیں. ان لوگوں کو ملک کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہوتا. انہوں نے بیرون ممالک میں زندگی بسر کرنا ہوتی ہے. انہیں ووٹ دینے کا حق دینا کسی بھی طرح سے جائز نہیں. آپ اپنی پوری توجہ ملکی عوام کے حالات کو بہتر کرنے پر مرکوز کریں. اسی میں آپ کی کامیابی پوشیدہ ہے. اپوزیشن جماعتوں کو بھی اس مسئلہ پر سیاست کرنے کی بجائے. آیندہ الیکشن کی تیاری پر توجہ دینا ہو گی.کیونکہ موجودہ حکومت قبل از وقت انتخابات کی طرف جا رہی ہے. اس کی دو وجوہات ہیں. ایک تو اس کی کارکردگی بہتر نہیں. دوسرا 2023 میں جسٹس قاضی فائز عیسی عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس کے عہدہ پر براجمان ہو گے. اس لیے یہ حکومت 2022 میں ہی انتخابات کروانا چاہتی ہے. پاکستان پیپلز پارٹی اس کے لیے ذہنی طور پر تیار ہے. اور اس نے عوامی رابطہ مہم بھی زور شور سے شروع کر رکھی ہے. جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن اندرونی خلفشار کا شکار ہے. اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی. کہ وہ کیا کرے. کچھ لوگ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اعلان جنگ کرنا چاہتے ہیں. اور کچھ لوگ مفاہمت کرنا چاہتے ہیں. حکومت وقت ان کی اسی کنفیوژن سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے. اگر قبل از وقت انتخابات ہوتے ہیں. تو سب سے زیادہ نقصان پاکستان مسلم لیگ ن کا ہوگا. کیونکہ یہ الیکشن کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں. اس نے اس سلسلہ میں کوئی خاطر خواہ تیاری بھی نہیں کی. سوائے ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر حکومت پر تنقید کے نشتر چلانے کے. پاکستان پیپلز پارٹی ان سے بہت بہتر کھیل رہی ہے. اس کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے اندرونی سندھ کے طوفانی دورے کیے ہیں. اب وہ جنوبی پنجاب کے دورے پر ہیں. وہ پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ سمیت اس کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں. جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن نے خاموشی کا روزہ رکھا ہوا ہے. اگر یہی حالات رہے. تو پنجاب سے پاکستان مسلم لیگ کا صفایا ہو جائے گا. پھر یہ اسٹیبلشمنٹ پر الزام تراشی کرتے پھرے گے. ابھی بھی وقت ہے. کہ یہ ہوش کے ناخن لے. اور عملی سیاست میں اپنا کردار ادا کرے. میاں محمد نواز شریف کو بھی سنجیدگی سے سوچنا ہوگا. کہ وہ کس بیانیہ کے ساتھ آیندہ انتخابات میں جانا چاہتے ہیں. وہ میاں محمد شہباز شریف کو پارٹی صدارت دینا چاہتے ہیں. یا مریم نواز شریف کو. انہیں جلد از جلد فیصلہ سازی کرکے اپنے کارکنوں کو متحرک کرنا ہو گا. ای وی ایم (الیکڑانک ووٹنگ مشین) پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے. تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی اپنی کارگردگی بہتر کرنا ہوگی. عوام اس وقت تمام سیاسی جماعتوں سے بیزار ہو چکی ہے. اگر یہی حالات رہے. تو کوئی بھی طریقہ انتخاب اختیار کر لیا جائے. عوام اس میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرے گی. کیونکہ اسے معلوم ہو گیا ہے. کہ یہ سب ٹوپی ڈرامہ محض اقتدار میں آنے کا ذریعہ ہے. انہیں عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں. عوام تو پیچھلے 73 سالوں سے مر رہی ہے. یہ آپس میں الیکشن الیکشن کھیل رہے ہیں. ووٹ مشین سے ڈالے جائے. یا سادہ طریقہ سے. عوام کی تقدیر کیسے بدلے گی. اس بات پر توجہ دینا ضروری ہے. موجودہ حکومت عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر اپنا وقت پورا کر رہی ہے. اپوزیشن جماعتوں کو اپنے تمام باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے. حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف موثر حکمت عملی اپنانا ہو گی. تاکہ عوامی مسائل میں خاطر خواہ کمی آ سکے. حکومت وقت کو بھی چاہیے. کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی آڑ میں چھپنے کی بجائے. اپنی باقی ماندہ مدت میں عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دیں. حکومت وقت اور اپوزیشن جماعتوں کو عوامی مسائل کو حل کرنے پر سیاست کرنی چاہیے. اسی میں ان کی اپنی اور ملک کی بقاء ہے. ہم بحیثیت قوم ایسے تنازعات کیوں کھڑے کر لیتے ہیں. جن کا کوئی حل نہیں نکلنا ہوتا. تعلیم، بے روز گاری ،مہنگائی اور خطہ کے بدلتے ہوئے سیاسی حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں. کہ ہم ان فضول کاموں سے باہر نکل کر اپنی توجہ عوامی اور بین الاقوامی مسائل پر دیں. جس سے ملک و قوم کا کچھ فائدہ ہو سکے. موجودہ حکومت نے تجربہ حاصل کرنے میں ہی پانچ سال گزار دیئے ہیں. مگر تجربہ کار سیاسی جماعتیں بھی موثر اپوزیشن کا کردار ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں. سب اپنے اپنے موقف کو درست ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں. ایسے میں عوام کا کوئی پرسان حال نہیں. الیکٹرانک ووٹنگ مشین ہو یا کوئی اور جدید طریقہ کار جب تک لوگوں کی سیاسی و اخلاقی تربیت نہیں کی جائے گی. سب بے کار ہے. جن کے لیے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے. اگر وہ ہی اس سے بے خبر ہیں. تو پھر ان چیزوں کا کیا فائدہ. ملک اس وقت کسی نئے تجربہ کا متحمل نہیں ہو سکتا.
عوام کا پہلے طریقہ انتخابات سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے. حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کو اپنے اپنے کارکنوں کی سیاسی تربیت پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی. یہی تمام سیاسی مسائل کا حل ہے.

پہنچ گئے ہیں الیکشن کے پھر دوارے پر
تمہی بتاؤں مرے بھائی کس طرف جائیں.

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments