سوشل میڈیا اور امت مسلمہ

موجودہ دور کو سوشل میڈیا کا دور کہا جائے. تو کچھ غلط نہ ہوگا. ہر انسان اس کے سحر میں مبتلا نظر آتا ہے. اس نے انسانی زندگی کو بہت سہل بنا دیا ہے. آج لوگ اپنے گھر میں بیٹھے ہی آن لائن شاپنگ کرتے ہیں. اور یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی بھی اسی کے ذریعہ سے بنا کسی تکلیف کے ادا کرتے ہیں. گزشتہ کچھ عرصہ سے کورونا وائرس نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے. جس کی وجہ سے تمام شعبہ زندگی بری طرح سے متاثر ہو رہے ہیں. اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک دوسرے سے سماجی فاصلہ کے نظریہ نے بھی انسانوں کو مختلف ذہنی بیماریوں میں مبتلا کر رکھا  ہے. ایسے میں سوشل میڈیا ہی وہ واحد ذریعہ ہے. جو ان کے درمیان رابطہ کا موثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے. لوگ گھر بیٹھے اپنے دفتری امور سر انجام دے رہے ہیں. اور اسی کے وسیلہ سے ایک دوسرے سے رابطہ میں ہیں. شعبہ تعلیم میں تو سوشل میڈیا نے انقلاب برپا کر کے رکھ دیا ہے. آج کا طالب علم اس کے ذریعہ سے اپنے شعبہ تعلیم میں ہونی والی جدید ترین ریسرچ سے آگاہی حاصل کرتا ہے. غرض یہ کہ اس نے ہر شعبہ زندگی کو ترقی کی منازل کی طرف گامزن کر دیا ہے. مگر افسوس حد افسوس کہ تمام سوشل میڈیا پر غیر مسلم مسلط ہیں. اکثر سوشل میڈیا ایپس کے بانی غیر مسلم افراد ہیں. جو اپنی منشا کے مطابق ان ایپس کو چلا رہے ہیں. انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں. امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے. کہ دنیا میں 56 اسلامی ممالک کی کوئی ایسی سوشل میڈیا ایپ نہیں. جو دنیا بھر میں اپنی پہچان رکھتی ہو. امت مسلمہ اپنی نوجوان نسل کو غیر ملکی تسلط میں دے رہی ہے. ظاہر ہے. جب ان کی سوشل ایپس استعمال کرنی ہیں. تو ان پر مواد بھی انہوں نے ہی ڈاؤن لوڈ کرنا ہوتا ہے. جو ہماری نوجوان نسل کو بے راہ روی کی طرف گامزن کر رہا ہے . غیر مسلموں کا طرز عمل انتہائی منافقانہ ہے. وہ امت مسلمہ کے خلاف ہر مواد کو بغیر کسی تصدیق کے شائع کرتے ہیں. جب اس کے خلاف امت مسلمہ اپنے جذبات کا اظہار کرتی ہیں. تو اس پر اظہار رائے کی آزادی کا شوشہ چھوڑ دیا جاتا ہے. کہ ہر انسان کا حق کہ وہ جوچاہے لکھے اور شائع کرے. ہم اس کو روک نہیں سکتے.. مگر اس کے برعکس امت مسلمہ کے کسی فرد کی طرف سے مغربی ممالک کی کسی پالیسی کے خلاف اظہار خیال کیا جائے. تو اس کو فوری طور پر بلاک کر دیا جاتا ہے. یہ کیسی اظہار رائے کی آزادی ہے. کیا یہ آزادی صرف اور صرف غیر مسلموں کو ہی حاصل ہے. امت مسلمہ کو سوشل میڈیا کی افادیت کو سمجھتے ہوئے. سنجیدگی سے سوچنا ہو گا. کہ اس شعبہ میں کیا کر سکتے ہیں. امت مسلمہ کو اپنی سوشل میڈیا ایپس بنانی ہو گی. جو مسلم نوجوان نسل کی راہنمائی کر سکیں. چین نے امریکہ، برطانیہ کے مقابلہ میں اپنی سوشل میڈیا ایپس بنائی ہوئیں ہیں. پوری چینی قوم ان ایپس کا استعمال کرتی ہے. اسی لیے چین کا شمار دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں ہوتا ہے. مگر اس کے برعکس امت مسلمہ غیر ملکی ایپس کو استعمال کر کے فخر محسوس کرتی ہے. ایک وقت تھا. جب مسلمان قوم اتنی ترقی یافتہ ہوتی تھی . کہ ہر شعبہ زندگی میں اس کی خدمات کا اعتراف کیا جاتا تھا. مگر آج یہی قوم ذلیل و رسوا ہو ہی ہے. امت مسلمہ کے ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان مغربی ممالک کی سوشل ایپس کو استعمال کرتے ہیں. کیا انہیں کبھی خیال نہیں آیا. کہ وہ اپنی قوم کی کچھ خدمت کرے. اور موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق سوشل میڈیا ایپس بنائے. سوشل میڈیا آجکل سرد جنگ کا بہترین ہتھیار تصور کیا جا رہا ہے. اس کے ذریعہ سے ایک قوم دوسری قوم کی ثفافت پر یلغار کرتی ہے. پاکستان میں خواتین کی عصمت دری کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیچھے یہی عنصر کارفرما نظر آتا ہے. ہماری نوجوان نسل اپنی ثفافت کو پس پشت ڈالتے ہوئے. مغربی ثفافت کی دیدادہ نظر آتی ہے. وہ عریانی اور فحاشی کو ہی زندگی کی حقیقت تصور کرتی ہے. ایسے میں امت مسلمہ کو اس سوشل میڈیا وار کے خلاف بھرپور حکمت عملی اختیار کرنا ہو گی. تاکہ نوجوان نسل کو اس وار سے بچایا جا سکے. دنیا میں وہ قومیں اپنا وجود کھو دیتی ہے. جو اپنی ثفافت کا دفاع نہیں کر سکتیں . حکومت پاکستان کو چاہیے. کہ پاکستان میں تمام غیر ملکی سوشل ایپس کو فی الفور بند کر دیں. اور اس کے مد مقابل اپنی سوشل میڈیا ایپس کا آغاز کرے.  اس طرح سے ہم اپنی نوجوان نسل کو بے راہ روی سے بھی روک سکتے ہیں. اور کیثر زرمبادلہ بھی کما سکتے ہیں. پاکستان میں قابلیت کی کمی نہیں. بس حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے. حکومت پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ میں سرمایہ کاری کریں. اور نوجوانوں کو روزگار دیں. تو کوئی شک نہیں وہ ایسی ایسی ایپس متعارف کروائے گے. جس کا دنیا میں کوئی ہمنوا نہ ہو. اب وقت آ گیا ہے. کہ ہمیں دوسروں کی طرف دیکھتے رہنے کی بجائے. خود سے کچھ کرنا ہو گا. آنے والا دور سوشل میڈیا ہی کا ہے. اس شعبہ میں ملک پاکستان کو خود کفیل ہونے کی ضرورت ہے. اس شعبہ میں ہندوستان ہم سے بہت آگے ہے. ہم دعویٰ سازی میں تو دنیا سے بہت آگے ہیں مگر حقیقت میں ہم ان ممالک کی دوڑ میں بھی شامل نہیں. جو ترقی کی منزل کی طرف گامزن ہو چکی ہیں. ہم آج بھی پتھر کے دور میں رہ رہے ہیں. کاش ہمیں کوئی خواب غفلت سے بیدار کرے. اور زندہ رہنے کے  اصول و ضوابط سیکھائے. امت مسلمہ کے پاس وسائل کی کمی نہیں. کمی ہے تو نیت کی ہے. جس دن ہم نے اپنی نیت درست کر لی. اس دن ہمارا مقابلہ کوئی نہیں کر سکے گا. ہم اسلحہ سازی کی دوڑ میں تو لگے ہوئے ہیں. مگر اپنی نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت سے بالکل غافل ہیں. جب تک ہم اپنی نوجوان نسل کو جدید ترین ذرائع تعلیم سے استفادہ کرنا نہیں سیکھائے گے. اس وقت تک ہمارا ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا. سوشل میڈیا کے میدان میں مغربی ممالک کا مقابلہ کرنے کے لیے موثر منصوبہ سازی کی اشد ضرورت ہے. کیسی ستم ظرفی ہے. کہ امت مسلمہ کے خلاف ہی مواد شائع کیا جاتا ہے. اور ہمیں ہی دکھایا جاتا ہے. جس پر ہم صرف اور صرف احتجاج ہی کرتے ہیں. اس کا مستقل حل تلاش نہیں کرتے. امت مسلمہ کو اپنے وسائل کا موثر استعمال کرتے ہوئے. سوشل میڈیا کے میدان میں مغرب کو پیچھے چھوڑنے کے لیے جامع حکمت عملی ترتیب دینا ہو گی. 

حیرت ہےکہ تعلیم و ترقی میں ہے پیچھے جس قوم کا آغاز ہی اقراء سے ہوا تھا

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments