وکلاء اور صحافی تحاریک

مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کو جمہوری معاشروں میں جمہوریت کے بنیادی ستون قرار دیا جاتا ہے. موجودہ دور میں صحافت کو چوتھے ستون کا درجہ حاصل ہو گیا ہے. ان چاروں ستونوں پر ہی جمہوریت کی عمارت استوار ہوتی ہے. مگر بدقسمتی سے پاکستان میں ان اداروں پر ہمیشہ ہی قدغن لگائی جاتیں رہی ہیں. ہر حکمران ان اداروں کی مضبوطی سے خوف زدہ رہا ہے. موجودہ حکمران بھی ماضی کے حکمرانوں کی روش پر چل رہے ہیں. انہوں نے تو ڈکٹیٹر کی یاد تازہ کر دی ہے. یہ اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ ساتھ ہر جمہوری ادارے کو دبانے کی جدوجہد میں مصروف عمل ہیں. اپنے تین سالہ دور اقتدار میں انہوں نے ہر مہذب شخص اور جمہوری ادارے کی پگڑی اچھالی ہے. اس حکومت کے بیشتر وفاقی و صوبائی وزراء ماضی میں مختلف حکومتوں کا حصہ رہے ہیں. جو آج خود کو فرشتہ اور اپنے سیاسی مخالفین کو گنہگار ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں. ماضی میں یہی لوگ بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہے ہیں. اور ان کا اپنا دامن داغ دار ہے. ایسے لوگوں کی ملکی اسٹیبلشمنٹ کے پاس فائلیں محفوظ ہوتیں ہیں. وہ الیکشن کے موقع پر انہیں بلیک میل کر کے سیاسی وفا داریاں تبدیل کرواتی ہے. ظاہر ہے. جب یہ لوگ ہر حکومت کا حصہ ہو گے. تو یہ اپنے مذموم عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے جمہوری اداروں پر حملہ آور ہوگے. ہر دور حکومت میں یہی لوگ جمہوری حکومتوں کے ماتھے پر بدنما داغ ہوتے ہیں. اور ہر جمہوری حکومت کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں. موجودہ دور حکومت میں عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ اور صحافت کو زیر عتاب لانے کے لیے مختلف کالے قوانین کا نفاذ کیا جا رہا ہے. جس کے خلاف ہر طبقہ فکر میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے. یہ حکومت شاید ذہن بنا چکی ہے. کہ قیامت تک اس نے ہی اقتدار پر براجمان رہنا ہے. اس لیے یہ تمام جمہوری روایات کو اپنے پاؤں تلے روندتی جا رہی ہے. عدالت عظمیٰ میں ججز کی تعیناتی کے لیے سنیارٹی کے اصول کو نظر انداز کرتے ہوئے. من پسند ججز کو تعینات کیا جا رہا ہے. تاکہ اپنے سیاسی مخالفین پر دباؤ بڑھائے رکھا جا سکے. ایماندار اور مخلص ججوں کے خلاف سوچی سمجھی سوچ کے تحت پروپیگنڈہ مشین کو آگے کیا ہوا ہے. جو ان ججز کی کردار کشی کر رہی ہے. جسٹس قاضی فائز عیسی کی چیف جسٹس کے عہدہ پر تعیناتی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی غرض سے جونیئر ججز کو سینیئر پر فوقیت دی جا رہی ہے. تاکہ سپریم کورٹ میں اپنے من پسند ججز کی تعداد کو بڑھایا جا سکے. اگر کل کو جسٹس قاضی فائز عیسی چیف جسٹس بن بھی جاتے ہیں. تو سپریم کورٹ کے فل بینچ میں حکومت کے حمایت یافتہ ججز کی تعداد زیادہ ہو. جو چیف جسٹس کے ہر فیصلہ کو عددی اکثریت کے بل بوتے پر رد کر دیں. یہ کھیل جو دیکھنے میں بظاہر بہت سادہ نظر آتا ہے. مگر اس کی حقیت بہت بھیانک ہے. اس طریقہ سے ملک میں انصاف کا گلہ دبا دیا جائے گا. اور عدلیہ سے من پسند فیصلے کروائے جائیں گے. یہ روش حکومت وقت کو لے ڈوبے گی. اسی طرح سے حق اور سچ لکھنے اور بولنے والے صحافیوں کی زبان بندی کے لیے قوانین تشکیل دیئے جا رہے ہیں. میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے. جس پر صحافی برداری سراپا احتجاج ہیں. اس کالے قانون کے تحت حکومت میڈیا کو اپنے زیر نگیں لانے کی جدوجہد کر رہی ہے. حکومت کی انہیں پالیسیوں کے خلاف وکلاء اور صحافی ملک گیر احتجاج کی کال دے چکے ہیں. اگر وکلاء اور صحافی برادری کی کال پر حکومت مخالف تحریک چل پڑتی ہے. تو پھر اس کو روکنا حکومت کے بس کی بات نہیں ہو گی. کیونکہ عوام حکومتی پالیسیوں سے پہلے ہی بیزار ہے. اپوزیشن جماعتیں بھی حکومت مخالف تحریک کے لیے مناسب موقع کے انتظار میں ہیں. اس سے اچھا موقع ان کے ہاتھ کبھی نہیں آئے گا. انہوں نے وکلاء اور صحافی برادری کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے. انہیں اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے. یہ تحاریک جب نقطہ عروج کو پہنچے گی. تو پاکستان مسلم لیگ ن اپنے قائد میاں محمد نواز شریف کو وطن واپس لیکر آنے کا سوچ رہی ہے. ان حالات میں میاں محمد نواز شریف کو عوامی حمایت کا ملنا یقینی ہو گا. کیونکہ ان کا کہنا ہوگا. کہ وہ عوام اور ملکی اداروں کی بقاء کی خاطر وطن واپس لوٹے ہیں. ایسے میں انہیں جمہوری اداروں کی مکمل حمایت بھی حاصل ہو گی. جو  عوامی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو گی. حکومت وقت اور اس کے وزراء بھی لگتا ہے. حکومت سازی سے بیزار ہو چکے ہیں. اسی لیے وہ ہر آئینی ادارے کی تذلیل کر رہے ہیں. آج سینٹ کی پارلیمانی کمیٹی میں الیکڑانک ووٹنگ مشین کے استعمال پر بحث ہو رہی تھی. جس میں حکومتی وزراء نے انتہائی نامناسب رویہ اختیار کرتے ہوئے. الیکشن کمیشن کے ممبران کی تذلیل کی. اور انہیں بکاؤ مال کہا. ایک حکومتی رکن کا کہنا تھا. کہ ایسے اداروں کو آگ لگا دینی چاہیے.  ان عقل کے اندھوں سے کوئی پوچھے. کہ جیسی آپ کی نااہل حکومت ہے. اس پر تو پارلیمنٹ کو بھی تالا لگانا بنتا ہے . یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کی پہلی حکومت ہے. جس کو عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں. اسے صرف اور صرف اپنے اقتدار کو طول دینے کی فکر لاحق ہے. یہ چاہتے ہیں. کہ ہمیں کچھ کرنا بھی نہ پڑے. اور ہم ہمیشہ حکومت میں ہی رہے. اگر آپ اداروں کو ان کی نااہلی پر بند کرنے کی بات کرتے ہیں. تو سب سے پہلے آپ کی حکومت کا خاتمہ بنتا ہے. کیونکہ سب سے زیادہ نااہل آپ کی حکومت ہے. جس کے شر سے کوئی محفوظ نہیں. حکومت سے باہر ہو. تو ان کی سوچ کچھ اور ہوتی ہے. یہ اداروں کی مکمل آزاری اور مضبوطی کی بات کرتے ہیں. جیسے ہی انہیں اقتدار مل جاتا ہے. تو یہی ادارے اُنہیں برے لگنا شروع ہو جاتے ہیں. یہ ان اداروں کے وجود کو سرے سے  ختم کرنے میں ہی اپنی جیت تصور کرتے ہیں. ویسے ہماری وکلاء، صحافی اور ڈاکٹر برداری کے ساتھ یہ ہونا بھی بنتا ہے. یہی لوگ بڑھ چڑھ کر ان کی حمایت کرتے تھے. میڈیا تو عمران خان کو اتنی کوریج دیتا تھا. کہ بیس بیس گھنٹے اس کے دھرنے کو براہ راست دیکھایا جاتا تھا. اس وقت میڈیا کی نظر میں پاکستان کا نجات دہندہ صرف اور صرف عمران خان تھا. آج جب اس نے اسی میڈیا کو نکیل ڈالنے کا منصوبہ تشکیل دیا ہے. تو یہ سب سے برا ہو گیا ہے. ہمارے آئینی اداروں کو بھی اپنے کردار اور آئینی حدود پر نظر ثانی کرنا ہو گی. انہیں کسی کی محبت میں اس قدر اندھا نہیں ہونا چاہیے. کہ وہ دوسروں کی پگڑیاں اچھالتے پھرے. مولا علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے. کہ جس پر نیکی کرو. اس کے شر سے بچو. میڈیا، وکلاء اور ڈاکٹر برادری نے پاکستان تحریک انصاف پر بہت مہربانیاں کی تھیں. اب انہیں اس کا خمیازہ بھگتا ہو گا. ابھی تو حکومت وقت نے ان کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا آغاز کیا ہے. ابھی سے چیخیں نکل رہی ہیں. جب میاں محمد نواز شریف اور ان کی پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف انتقامی کارروائیاں ہو رہی تھی. یہی میڈیا اس حکومت کی تعریف کرتے نہیں تھکتا تھا. آج خود پر برا وقت آیا ہے. تو اسے احساس ہوا ہے. کہ یہ نااہل اور نالائق حکومت ہے. جو سوائے انتقام کے کچھ نہیں کر رہی. حکومت وقت میں اچھے لوگ بھی ہیںمگر شاید ان کی آواز نہیں سنی جاتی. کیونکہ نااہلوں کے ٹولے نے وزیراعظم کو اپنے نرغے میں لے رکھا ہے. ان نااہلوں اور غیر منتخب لوگوں کی بدولت حکومت وقت مشکلات کی دلدل میں دھنستی جا رہی ہے. اس حکومت نے اپنی نااہلیوں کے بوجھ تلے ہی دب کر مر جانا ہے. عوام نے تو اس کے جنازے کو کندھا ہی دینا ہے. وزیراعظم پاکستان سے عوام کو بہت امیدیں وابستہ تھیں. مگر آپ نے اپنے حواریوں کی باتوں میں آکر خود کو ضائع کر لیا ہے. آدھا سے زیادہ وقت آپ نے انتقامی سیاست میں گزار دیا ہے. اس عرصہ میں عوام مکمل طور پر بے یارو مددگار رہی ہے. اس کا کوئی پرسان حال نہیں تھا. اب وقت آپ کے ہاتھ سے نکل چکا ہے. اب ملک کا ہر آئینی ادارہ آپ کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا ہے. آج نہیں تو کل آپ کا جانا ٹھہر چکا ہے.

سیاست مفادات میں کھوگئ ہے. حکومت نجانے کہاں سو گئ ہے.

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments