میاں اللہ صاحب ! کہاں گئے آپ ؟

تحریر۔ذیشان نور خلجی

پیارے اللہ میاں ! تم تو کہا کرتے تھے کہ مجھ سے باتیں کیا کرو میں تمھاری باتیں سنتا ہوں لیکن دیکھ لو اب تم میری باتیں نہیں سنتے، سو تمھیں سنانے کو مجھے قلم کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔
سنو اللہ ! بچپن میں، میں نے ابو بن ادھم کی ایک کہانی پڑھی تھی جس میں ابو ایک فرشتے سے ملتا ہے جو کہ کچھ لکھنے میں مصروف ہوتا ہے۔ ابو کے پوچھنے پر فرشتہ بتاتا ہے کہ میں ان بندوں کے نام لکھ رہا ہوں جو خدا سے محبت کرتے ہیں اور تمھارا نام اس لسٹ میں شامل نہیں ہے۔ ابو فرشتے کو کہتا ہے میرا نام ان لوگوں میں لکھ لو جو خدا کے بندوں سے محبت کرتے ہیں۔ اگلی رات فرشتہ دوبارہ آتا ہے اب کی بار وہ سونے کے ورق پر کچھ لکھ رہا ہوتا ہے ابو اس سے پوچھتا ہے کہ کیا لکھ رہے ہو فرشتہ بتاتا ہے میں ان لوگوں کے نام لکھ رہا ہوں جن سے خدا محبت کرتا ہے اور تمھارا نام اس لسٹ میں سب سے اوپر لکھا ہے۔
دیکھیے میاں اللہ صاحب ! ہم تو ایسی داستانیں ہی پڑھتے سنتے بڑے ہوئے ہیں اور اسی بنا پر ہم نے آپ کی بجائے آپ کی مخلوق سے محبت کی ہے اور ہمارے اس دعوے کا پورا زمانہ گواہ بھی ہے۔ لیکن بدلے میں آپ نے ہمیں کیا دیا؟ آپ تو ہمیں آنکھوں میں ڈالنے کو بھی نہیں مل رہے۔ ہم تو بڑے خوش تھے اور سینہ پھلائے ہوئے چلتے تھے کہ ہم آپ کی مخلوق سے محبت کرتے ہیں لیکن آپ نے تو ہمیں پریشان ہی کر دیا۔ آپ کی بجائے آپ کے بندوں سے محبت کر کے آخر ہم نے ایسی کون سی غلطی کر دی جو آپ ہمیں ملنے سے بھی گئے۔
پھر رومی نے کہا زندگی بے بندگی شرمندگی تو خیال گزرا ہو سکتا ہے ہماری بندگی میں ہی کچھ کسر رہ گئی ہو جو اللہ صاحب ہم سے خفا خفا رہتے ہیں۔ بات رومی کی بھی ٹھیک ہے لیکن دیکھو میاں اللہ ! بات یہ بھی ہے کہ اگر تم بھی ہماری طرح ہم سے روٹھ جایا کرو گے تو پھر ہمارے پالنہار کاہے کو لگے ہوئے ہو؟ ہمارا نہیں تو کم از کم اپنا ہی خیال کر لیا کرو۔ میاں ! تم میں اور ہم میں بہت فرق ہے ہماری بندگی میں کھوٹ ہو سکتی ہے لیکن تمھاری خدائی میں تو کوئی دو رائے نہیں ہے پھر یوں سجری محبوبہ کی طرح روٹھ جانا تمھیں زیب نہیں دیتا۔
میاں اللہ ! ہم تو انسان ہیں، کمزوریاں ہماری بشریت کا تقاضا ہیں ہماری محبتیں، دوستیاں، یارانے مشروط ہو سکتے ہیں لیکن تمھیں تو ان باتوں سے مبرا ہونا چاہیے۔ تمھاری محبت تمھارا یارانہ تو یک طرفہ ہونا چاہئیے۔ تم تو اتنے بڑے ہو تمھیں تو ہماری محبت کی پرواہ ہی نہیں کرنی چاہیے ہاں، یہ ضرور کرنا چاہئیے کہ جب کبھی ہم ٹوٹ کے، دنیا سے روٹھ کے تمھاری طرف رجوع کیا کریں تو پھر تم منہ نہ پھیر لیا کرو۔
دیکھو ! تمام دنیا بھی روٹھ جائے تو کوئی پرواہ نہیں ہوتی کیوں کہ تمھارا ہونا دل کو تسلی دیتا ہے لیکن جب تم بھی آگے سے منہ بسور کے بیٹھ جاتے ہو تو یقین مانو بڑا درد ہوتا ہے، دل ٹوٹ سا جاتا ہے۔ پلیز یوں دل نہ توڑا کرو، بڑی تکلیف ہوتی ہے لیکن تمھیں تکلیف کا کیا  پتا، تم کون سا انسان ہو، تم تو خدا لگے ہوئے ہو، تمھارے سینے میں کون سا دل دھڑکتا ہے۔
آخر میں تم سے صرف یہی عرض کرنا ہے کہ ہم انسان ہیں، گناہ گار ہیں ہمیں تم سے محبت نہیں ہے اور ہمارا تمھارے سامنے جھکنے کو بھی دل نہیں کرتا اور یقین جانو اس میں بھی سراسر تمھارا ہی قصور ہے۔ تم نے یہ دنیا بنائی ہی اتنی خوبصورت ہے کہ اسی میں کھوئے رہنے کو دل کرتا ہے۔ خوبصورت سے یاد آیا تمھارے کچھ وفادار کہتے ہیں کہ تم بھی بہت حسین ہو لیکن دیکھو میاں ! ہمیں تمھارے حسن سے کوئی سروکار ہے نہ تمھاری خوبصورتی سے کوئی لینا، بھلا ہم نے کون سا تمھیں دیکھ رکھا ہے جو تمھاری محبت میں لٹو ہوئے جائیں، ہم تو دنیا کی محبت ہی دل میں بسائے رکھیں گے۔ ہاں، تم سے صرف اتنی سی گزارش ہے کہ جب کبھی دنیا ہمیں دھتکار دے اور سب در بند ہو جائیں تو پلیز پھر تم اپنا در بند مت کیا کرو۔ یقین مانو اس وقت تم ہمارا واحد سہارا ہوتے ہو لہذا تمھیں تمھارا واسطہ ہے کہ پھر ہمارا مان نہ توڑا کرو۔
پچھلے دنوں میں بڑا پریشان تھا بہت سے دوستوں نے خیریت دریافت کی کئی ایک نے ملاقات کی اور بعض نے فون پہ حال دریافت کیا۔ مانا کہ تم موبائل استعمال نہیں کرتے سو مجھے کال نہیں کر سکے لیکن یہ بھی تو کوئی بات نہیں کہ میں غم سے نڈھال ہو کر اور دنیا سے رسوا ہو کر جب خود تمھارے در پہ پہنچا تو تم نے مجھے فٹے منہ بھی نہ کہا۔ دیکھو پیارے ! سب گلے شکوے دور، سب لڑائیاں جھگڑے ختم، اور مجھے اندازہ ہے تم بھی مجھ سے راضی ہو گئے ہو اسی لئے یہ کالم لکھوا رہے ہو لیکن پلیز آئندہ خیال رکھنا اور مجھ سے یوں ناراض نہ ہوا کرنا کہ تمھیں منانے کو پھر مجھے پورا کالم لکھنا پڑے۔ بلکہ آئندہ تمھارا رویہ واقعی خدا والا ہونا چاہئیے یعنی جب کبھی میں ٹوٹ کر بکھر جاؤں تو مجھے آگے بڑھ کر تھام لیا کرنا۔
آخر میں تمھارے لئے بہت سی محبت اور نیک خواہشات ان الفاظ کے ساتھ کہ تمھاری خدائی ہمیشہ سلامت رہے، تمھاری بادشاہی کو کسی کی نظر نہ لگے، تمھارے بھرم قائم رہیں، تمھارے عروج کو زوال نہ ہو، اپنا اور میرا خیال رکھنا، سدا رہے نام تمھارا
میرا ایمان ہے تمھیں منانا صرف ایک کالم کی مار ہے۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments