محاذ آرائی

ملکی آئینی ادارے ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں. کوئی بھی ایک دوسرے کی بات سننے اور سمجھنے کو تیار نہیں. سبھی اپنے آپ کو عقل کل سمجھ بیٹھے ہیں. ایسی صورت حال میں سب سے اہم کردار حکومت کو ادا کرنا ہوتا ہے. آئینی اداروں کو ان کی متعین کردہ حدود میں رکھنے کا فریضہ حکومت وقت کے ذمہ ہوتا ہے. مگر بدقسمتی سے اس وقت موجودہ حکومت ہی تمام آئینی اداروں کے ساتھ الجھی ہوئی ہے. حکومت وقت نے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ساتھ عدلیہ، میڈیا، الیکشن کمیشن سبھی کے خلاف محاذ آرائی شروع کر رکھی ہے. یہ روش کسی بھی صورت میں ملک کے لیے نیک شگون ثابت نہیں ہو گی. ماضی میں بھی جن جن حکومتوں نے ملکی اداروں کے ساتھ محاذ آرائی پیدا کی. ان  کا انجام اچھا نہیں رہا. موجودہ حکومت تو تبدیلی کے نام پر ووٹ لیکر برسر اقتدار آئی تھی. یہ فرسودہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھیکنا چاہتی تھی. مگر شاید اسے اس بات کا ادراک ہو گیا ہے. کہ اس فرسودہ نظام کی جڑیں بہت مضبوط ہیں. جن کو اکھاڑنا اس کے بس کی بات نہیں. اس لیے اس نے نظام کی تبدیلی کی بجائے. ملکی آئینی اداروں سے محاذ آرائی کو ہی اپنی بقاء سمجھ لیا ہے. اسی لیے وہ ہر آئینی ادارے کی پگڑی اچھال رہی ہے. عدالت عظمیٰ نے پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو بحال کرنے کا حکم دیا. تو حکومت نے اس فیصلہ پر عمل درآمد کرنے کی بجائے. مختلف حیلے بہانوں سے کام لینا شروع کر دیا. اور عدالت کے واضح احکامات کے باوجود آج تک پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو بحال نہیں کیا گیا. کیا یہ اداروں کا احترام ہے. اسی طرح سے ملکی میڈیا نے حکومتی نااہلیوں کو عوام کے سامنے پیش کرنا شروع کیا. تو حکومت نے اس کو اہنا دشمن سمجھ لیا. کل تک یہی حکومت اسی میڈیا کی تعریفیں کرتی نہیں تھکتی تھی.  موجودہ حکومت کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچانے کا سہرا ہی ملکی میڈیا کے سر جاتا ہے. جس نے سولہ سولہ گھنٹے عمران خان کے جلسے جلوسوں اور احتجاجی دھرنے کو براہ راست دکھایا. اگر ہم سادہ لفظوں میں یوں کہہ لیں. کہ عمران خان کو سیاست میں ہیرو بنا کر پاکستانی میڈیا نے پیش کیا ہے. تو بے جا نہ ہوگا. میڈیا نے انہیں اس قدر کوریج دی. کہ عوام کو ان کی ہر بات پر اعتبار ہونے لگا. اور اس کو عمران خان کے روپ میں اپنا نجات دہندہ نظر آنے لگا. میڈیا مولا علی رضی اللہ عنہ کے قول کو بھول گیا تھا. کہ جس پر نیکی کرو. اس کے شر سے بچو. آج جو کچھ ملکی میڈیا کے ساتھ ہو رہا ہے. یہ اس کا مستحق ہے. جب اس نے ایک نااہل شخص کو ملک و قوم پر مسلط کروایا ہے. تو اب اس کا خمیازہ اسے بھی بھگتنا پڑے گا. یہ تو نہیں ہو سکتا. کہ ساری قوم اس نااہل اور نالائق حکومت کی وجہ سے اذیت میں مبتلا ہو. اور میڈیا موجیں کریں. میڈیا ان کو لایا ہے. تو اب ان کو بھگتے بھی. حکومتی موقف ہے. کہ جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے میڈیا پر کچھ پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں. جن پر عمل درآمد کروانے کے لیے میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی قائم کی جا رہی ہے. کیا جھوٹ صرف میڈیا بولتا ہے. ہرگز نہیں میڈیا تو آئینہ ہے. جو کچھ حکمران بولتے ہیں. میڈیا وہی کچھ دیکھتا ہے. عمران خان نے نجم سیٹھی پر پتیس پنکچر کا الزام عائد کیا تھا. جس سے ان کی بہت بدنامی ہوئی. بعد میں عمران خان نے بڑے آرام سے کہا. کہ وہ تو میں نے مذاق کیا تھا. اسی طرح پانامہ کیس میں قوم کو کہا. کہ شریف فیملی نے مجھے منہ بند رکھنے کے عوض اربوں روپیہ کی رشوت کی آفر کی ہے. جس پر شریف فیملی نے ان پر ہرجانہ کا دعویٰ عائد کر دیا. جس کی طویل سماعت کے بعد عمران خان نے موقف اختیار کیا کہ ایسی کوئی بات نہیں. مجھے تو کسی نے کہا تھا. تو قوم خود فیصلہ کرے. کہ جھوٹی خبریں کون پھیلاتا ہے. حکومت سب سے پہلے ان سے قانون کا آغاز کرے. اور ان پر جرمانہ اور سزا عائد کریں . الیکشن کمیشن جس کا کام ملک میں غیر جانب دار الیکشن کروانا ہے. سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن سے لیکر ان کے اثاثہ جات تک کی چھان بین بھی اسی نے کرنی ہوتی ہے. بدقسمتی سے موجودہ حکومتی جماعت کے ایک اپنے رکن ایس ایم بابر نے الیکشن کمیشن میں ایک درخواست دائر کی ہے. جس میں پاکستان تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ میں بے ضبطگیوں کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں. اسی درخواست میں تحریر کیا گیا ہے. کہ پاکستان تحریک انصاف نے منموعہ ممالک سے بھی فنڈنگ حاصل کی ہیں. جن میں بھارت اور اسرائیل سرفہرست ہیں. ان ممالک سے کیثر رقم غیر ممالک میں موجودہ پارٹی اکاونٹس میں منتقل ہوئی ہے. جن کی چھان بین کی ضرورت ہے. الیکشن کمیشن نے اس درخواست پر کاروائی کرتے ہوئے. پاکستان تحریک انصاف کے خلاف انکوائری شروع کی. اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو متعدد بار نوٹس بھیجے ہیں. کہ الیکشن کمیشن میں پیش ہو کر اپنا موقف پیش کرے. مگر وہ پیچھلے سات آٹھ سال سے مختلف حیلے بہانوں اور عدلیہ کی آڑ میں چھپ کر اس سے بھاگ رہے ہیں. اگر اس درخواست میں کچھ صداقت نہیں. تو آپ الیکشن کمیشن کے روبرو پیش ہو کر اپنی صفائی پیش کرے. آپ کے پیش نہ ہونے سے دال میں کچھ کالا لگ رہا ہے. آپ تو صادق اور امین ہے. پھر کیوں احتساب سے بھاگ رہے ہیں. آپ کو تو خود بخود اپنے آپ کو احتساب کے پیش کرنا چاہیے تھا. الیکشن کمیشن کے بارہا نوٹس بھیجنے پر آپ پیش نہیں ہو رہے. جس پر بالآخر الیکشن کمیشن نے اس کیس پر حمتی فیصلہ سازی کا عندیہ دے دیا ہے. تو آپ نے الیکشن کمیشن اور چئیرمین الیکشن کمیشن کے خلاف محاذ آرائی شروع کر دی ہے. حکومتی وزراء سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت کبھی الیکشن کمیشن کو جانبدار  اور بکاؤ مال کہتے ہیں . چند روز قبل وفاقی وزیر برائے ریلوے اعظم سواتی نے سینٹ کی وفاقی کمیٹی برائے الیکشن اصلاحات کے اجلاس کے دوران الیکشن کمیشن کے ممبران پر چڑھائی کرتے ہوئے. انہیں کہا کہ الیکشن کمیشن فضول ادارہ ہے. اسے آگ لگا دینی چاہیے. اس نے اپوزیشن سے پیسے پکڑے ہوئے ہے. بات یہی نہیں رکی. اس کے فوری بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے. وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور اعظم سواتی نے اپنے موقف کا دفاع کرتے ہوئے. مزید الزامات لگائے ۔اور الیکشن کمیشن کو اپوزیشن کا حمایت یافتہ قرار دیا. انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کو کہا. کہ انہیں سیاست کا شوق ہے. تو استعفیٰ دے کر الیکشن لڑے. جس پر الیکشن کمیشن نے اپنا اجلاس طلب کرکے حکومتی موقف کو رد کرتے ہوئے. انہیں اپنے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے ثبوت فراہم کرنے کا کہا ہے. جس پر وزیر اطلاعات نے موقف دیا ہے. کہ ہمیں ابھی نوٹس نہیں ملا. اگر ملا تو دیکھے گے. ہم نے ادارے پر نہیں شخصیات پر تنقید کی ہے. ان سے کوئی پوچھے کہ کیا یہ اداروں کا احترام ہے. یہی بات جب پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف ایک ادارے کے لوگوں کے بارے میں کرتے ہیں. تو انہیں غدار کا لقب دیا جاتا ہے. ان کی پارٹی کے دیگر رہنماؤں کو بھی غداری کے سرٹیفکیٹ جاری کئے جاتے ہیں . اور ان پر کیس بھی دائر ہو چکے ہیں. کیا وہی ایک ادارہ مقدس گائے ہے. باقی سب ادارے فضول ہیں. تمام آئینی اداروں کی عزت و احترام یکساں ہے. کسی بھی ادارے کے خلاف ہزرہ سرائی پر یکساں قانون نافذ ہونا چاہیے. اداروں کے اپنی آئینی حدود میں رہنے کی بات میاں محمد نواز شریف یا کوئی اور کرے تو غدار آپ کرے تو محب الوطن. یہ دوہرا معیار سیاست زیادہ دیر نہیں چلنے والا. موجودہ حکومت نے ہر آئینی ادارے کو زیر تسلط رکھنے کے لیے اس کے خلاف محاز آرائی شروع کر رکھی ہے. اس محاذ آرائی سے کچھ حاصل نہیں ہو پائے گا. بالآخر مذاکرات سے ہی مسائل کا حل نکلنا ہے. موجودہ حکومت ہر بات کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتی ہے. سیاست ہٹ دھرمی کا نام نہیں. سیاست مذاکرات سے مسائل کا حل تلاش کرتی ہے. ساری بحث کا لب لباب ووٹ کو عزت دو ہے. جس حکمران نے بھی عوام کی حق حکمرانی کے لیے آواز بلند کی ہے. اس کو نشان عبرت بنا دیا گیا ہے. یہ اقتدار کا نشہ بھی بڑا عجیب غریب ہوتا ہے. انسان جب اقتدار سے باہر ہوتا ہے. تو وہ عوام کے حقوق اور آئینی اداروں کی سربلندی کے لیے صدا بلند کرتا ہے. جیسے ہی یہ اقتدار کی کرسی پر براجمان ہوتا ہے. اسے یہی عوام اور ادارے اپنے دشمن لگنا شروع ہو جاتے ہیں. وہ ان کو دبائے رکھنے کی غرض  سے ان سے محاذ آرائی شروع کر دیتا ہے.کاش ہمارے حکمران سمجھ پاتے. کہ محاذ آرائی کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں. بلکہ یہ تو خود مسائل کو جنم دیتی ہے. موجودہ حکومت کو اپنی انا کے خول سے باہر نکل کر ملک اور عوام کی بہتری کے لئے فیصلہ سازی کرنا ہوگی. 

اس بار میری جنگ ہے خود اپنی ذات سے اس بار ہار جانے کا امکان ہے بہت.

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments