دنیا پاکستان کی امن کاوشوں سے منحرف

گزشتہ دنوں کیوی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورہ پر راولپنڈی پہنچی. جس کا اہلیان پاکستان نے گرم جوشی سے استقبال کیا. کیوی کرکٹ ٹیم تین چار روز تک راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں نیٹ پریکٹس کرتی رہی. اس کے تمام کھلاڑی اور ٹیم مینجمنٹ کے ممبران حکومت پاکستان اور کرکٹ بورڈ کی طرف سے کی گئی انتظامات سے انتہائی مطمئن تھے. مگر کرکٹ میچ کے چند لمحات قبل کیوی کرکٹ ٹیم نے میچ کھیلنے سے انکار کر دیا. جس سے عالمی میڈیا پر مختلف قسم کی افواہوں نے جنم لینا شروع کر دیا. کیوی کرکٹ ٹیم نے پاکستان میں کرکٹ نہ کھیلنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے. بتایا کہ انہیں سکیورٹی خطرات درپیش ہیں. جس پر حکومت پاکستان اور سکیورٹی اداروں نے ان سے سکیورٹی خدشات بارے معلومات چاہیے. تاکہ پتہ کیا جاسکیں. کہ کس نے کیوی کرکٹ ٹیم کو سکیورٹی تھریٹ کی خبر دی ہے. اس سلسلہ میں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے خود نیوزی لینڈ کی وزیراعظم سے ٹیلی فون رابطہ کیا. اور ان کی قومی کرکٹ ٹیم کو پاکستان میں دی جانے والی سکیورٹی سے آگاہ کیا. انہوں نے مزید کہا کہ ہماری سکیورٹی ایجنسیاں دنیا کی بہترین ایجنسیوں میں شمار ہوتیں ہیں. ان کے ہوتے ہوئے. آپ کی کرکٹ ٹیم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا. مگر کیوی وزیر اعظم نے اپنی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے تحفظ کی خاطر پاکستان میں کھیلنے سے معذرت کر لی. نیوزی لینڈ حکومت اور کرکٹ ٹیم کا یہ رویہ کسی بھی لحاظ سے مناسب نہیں تھا. وزیراعظم عمران خان سے سیاسی اختلافات ہو سکتے ہیں. مگر کرکٹ کے میدان میں ان کا کوئی ثانی نہیں. آج بھی دنیا کرکٹ میں ان کی شہرت آسمان کی بلندیوں کو چھوتی ہے. انہوں نے اپنے منصب کے پروٹوکول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے. بحیثیت کھلاڑی کرکٹ کے میدان کو آباد رکھنے کی خاطر کاوش کرتے ہوئے. خود کیوی وزیراعظم سے بات کی. ورنہ وہ  پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین یا وزیر خارجہ کو بھی کہہ سکتے تھے. کہ وہ متعلقہ افراد سے بات چیت کرے. وزیراعظم عمران خان کی اس کاوش نے دنیا بھر میں پاکستان کے وقار میں اضافہ کیا ہے. پاکستان نے ہمیشہ سے ہی دنیا بھر میں قیام امن کے لیے بھر پور کردار ادا کیا ہے. اس کی مسلح افواج اور عوام نے دنیا کے امن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے. مگر اقوام عالم کا رویہ ہمیشہ سے ہی پاکستان کے لیے سرد مہری کا شکار رہا ہے. اسے جب کبھی پاکستان کی ضرورت پڑتی ہے. یہ اس کی تعریفوں کے پل باندھ دیتی ہے. جیسے ہی اس کا مطلب پورا ہو جاتا ہے. یہ پاکستان کو دہشت گرد کے لقب سے نواز دیتی ہے. حالیہ کچھ عرصہ سے حکومت پاکستان دنیا بھر کو بھارت کی جانب سے کی جانے والی شر انگیزی اور جارحیت سے آگاہ کر رہا ہے. مگر دنیا کے کان پر جو نہیں رینگ رہی. افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا ہے. ایک گولی چلے بغیر امریکی افواج کو بحفاظت کابل سے امریکہ پہنچایا گیا ہے. اسی طرح سے دیگر ممالک کے افراد کو بھی اپنی قومی ائیر لائن کے ذریعہ سے ان کے ممالک تک خیریت سے پہنچایا گیا . اس پر دنیا کو چاہیے تھا. کہ وہ اس کی امن پسندی کا اعتراف کرتی. اس کے برخلاف اس نے اس کے خلاف سازشوں کا جال بننا شروع کر دیا ہے. اس کی وجہ گزشتہ روز پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کی طرف سے افغانستان کے مسئلہ پر روس، چین، ترکی، ازبکستان، ایران کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا انعقاد ہے. جس کی سربراہی آئی ایس آئی نے کی. جو بھارت اور اسرائیل سے ہضم نہیں ہو پا رہا. وہ نہیں چاہتے. کہ اس خطہ میں امن کی آشا پروان چڑھے. وہ اسی وجہ سے پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف عمل ہیں. ان کا کہی زور نہیں چلا. تو انہوں نے کرکٹ کے میدان میں وار کیا ہے. انہوں نے کیوی حکومت اور کرکٹ ٹیم کو سکیورٹی خطرات سے ڈرا دھمکا کر پاکستان کا دورہ ملتوی کرنے پر رضا مند کیا. یہ موقع نیوزی لینڈ کی قوم کے لیے امتحان کا وقت تھا. اس سے قبل نیوزی لینڈ میں ایک جنونی نے مسلمانوں کی مسجد پر حملہ کرکے نہتے مسلمانوں کو عبادت کرتے ہوئے. انتہائی بے دردی سے شہید کیا تھا. اس وقت پاکستان کی کرکٹ ٹیم نیوزی لینڈ کے دورے پر تھی. حکومت پاکستان اور پاکستان کی قومی ٹیم نے اس موقع پر دورہ ملتوی کرنے کی بجائے. نیوزی لینڈ کی حکومت کا بھرپور ساتھ دیا. اور اپنا دورہ جاری رکھا. اسی طرح سے دنیا بھر میں کہی بھی کھیل کے میدانوں کو ویران کرنے کی سازش رچائی گئی. پاکستان نے ہمیشہ اس کو ناکام بنایا ہے. پاکستان نے اپنے کھلاڑیوں کی جانوں کی پرواہ کیے بغیر اس ملک میں اپنی ٹیموں کو بھیجا ہے. دہشت گردی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں. اقوام عالم ہی اس کی لپیٹ میں ہے. دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا. یہ ایک سوچ ہے. جو کہی بھی جنم لے سکتی ہے. پاکستان نے کبھی بھی سرکاری سطح پر دہشت گردی کی سرپرستی نہیں کی. جبکہ بھارتی حکومت سرکاری سرپرستی میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرواتی ہے. مقبوضہ کشمیر اور پورے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی کی انتہا کر دی گئی ہے. اس کے باوجود دنیا کی کرکٹ ٹیمیں وہاں کھیلنے آتیں ہیں. کیونکہ وہ غیر مسلم ملک ہے. جبکہ پاکستان ایک پرامن اور مہمان نواز ملک ہے. پھر بھی دنیا مختلف بہانوں سے ہم پر الزام تراشی کرتی ہے. ہم بحیثیت قوم اپنی افواج اور انٹیلی جنس اداروں پر فخر کرتے ہیں. ہمیں معلوم ہے. کہ ہمارے ان اداروں کا دنیا بھر میں کوئی ہم پلہ نہیں. اسی لیے ہمارا بزدل دشمن چھپ کر ہم پر وار کرتا ہے. ہمیں کیوی کرکٹ ٹیم کے واپس چلے جانے کا کوئی افسوس نہیں. ہمیں اپنی مہمان نوازی پر فخر ہے. نقصان نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے خود اپنا کیا ہے. دنیا بھر میں کرکٹ شائقین سیاست سے بالاتر ہو کر نیوزی لینڈ کے اس اقدام کو بزدلانہ قرار دے رہے ہیں. اور پاکستان کی تعریف کر رہے ہیں. اس موقع پر ہمیں ایک دوسرے پر الزام تراشی کی بجائے. ساری دنیا کو باور کروانا ہو گا. . کہ ہم سب یک جان ہیں. ہم اپنی مسلح افواج اور انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں. ہمیں اس بات کی ہرگز پرواہ نہیں کہ دنیا ہمارے بارے میں کیا سوچتی ہے. 

نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے جہاں ہے تیرے لئے تو نہیں جہاں کے لیے.

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments