بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کو روکنے میں پی ٹی آئی کی حکومت ناکام کیوں؟

پاکستان میں لوگ دُہرے خطرے کا شکار دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف آسمان کو چھوتی مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

گوکہ 2018 میں روزگار اور افراط زر کی صورتحال مثالی نہیں تھی، لیکن موجودہ حکومت کے پہلے تین سالوں میں صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔

ملک بھر میں 24 فیصد تعلیم یافتہ لوگ بے روزگار ہیں۔

پاکستان کے سینیٹ کو حال ہی میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) نے ایک بریفنگ کے دوران بتایا ہے کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس وقت 24 فیصد تعلیم یافتہ لوگ بے روزگار ہیں۔

پی آئی ڈی ای نے پارلیمنٹ کے ایوان بالا کو آگاہ کیا کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح 16 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو کہ حکومت کے 6.5 فیصد کے دعوے کے برعکس ہے۔

کمیٹی نے یہ بھی بتایا گیا کہ ملک بھر میں 40 فیصد تعلیم یافتہ خواتین بے روزگار ہیں۔ یہاں ‘تعلیم یافتہ’ کی اصطلاح سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے انڈر گریجویٹ یا گریجویٹ ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ جو انہیں نوکری تلاش کرنے کے قابل بناتی ہے۔

ایم فل ڈگری ہولڈرز نے حال ہی میں چپراسی کے عہدے کے لیے درخواستیں دی ہیں۔

PIDE نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے عہدیداروں کو بتایا کہ کم از کم 1.5 ملین افراد نے ہائی کورٹ میں چپراسی کے عہدے کے لیے درخواست دی جس کا اشتہار حال ہی میں دیا گیا تھا۔

عہدیداروں نے بتایا ، “ملازمت کے لیے درخواست دینے والوں میں ایم فل ڈگری ہولڈرز بھی شامل ہیں۔” جوکہ تشویشناک بات ہے۔ پی آئی ڈی ای حکام کا کہنا تھا کہ حکومتی سطح پر کوئی تحقیقاتی کام نہیں ہورہا ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ تمام ڈگریاں بیرون ممالک سے حاصل کی جاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں کئی تحقیقی ادارے کام کر رہے ہیں ، لیکن تحقیقی مقاصد پورے نہیں ہو رہے ہیں۔

اقتصادی سروے 2020-21 کی رپورٹ

رواں سال جون 21-2020 کو جاری ہونے والے ایک اقتصادی سروے کے مطابق کوویڈ 19 کے پھیلاؤ کی وجہ سے ملک میں روزگار کے مسائل بہت بڑھ گئے تھے جبکہ لاک ڈاؤن اور معاشی سرگرمیاں معطل ہونے سے 20.71 ملین مزدور بے روزگار ہو گئے۔

سروے کے مطابق ایک بڑی آبادی اور انسانی وسائل کے مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں روزگار کی شرح پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔

مہنگائی

خوراک ، ٹرانسپورٹ اور تعمیرات کے شعبے سمیت تین انڈیکس میں اہم تبدیلیوں کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کی شرح اگست میں 8.4 فیصد پر برقرار رہی۔

ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے بدھ کے روز پیشگوئی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں افراط زر 7.5 فیصد کی بلند ترین سطح پر رہے گی اور معیشت 4 فیصد تک بڑھے گی۔

سات جنوبی ایشیائی ممالک میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح سب سے زیادہ ہے، جو ملک میں سب سے کم قیمتوں کے حکومتی دعوے کی نفی کرتی ہے۔

اے ڈی بی سال میں دو مرتبہ ایشین ڈویلپمنٹ آؤٹ لک اپ ڈیٹ (ADOU) سروے جاری کرتا ہے۔ اے ڈی بی کے مطابق اس وقت مشکل میں گھرے ہوئے ممالک کے درمیان کھڑا ہے-

اے ڈی بی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت مالی سال 2021-22 میں بہتر ہونے کی توقع ہے، جبکہ جی ڈی پی کی شرح 4 فیصد تک رہنے کی امید ہے۔

مافیاز قیمتوں میں اضافہ کر رہے ہیں

وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی وزرا اپنی تقریروں میں اس بات کی جانب اشارہ کرتے رہتے ہیں کہ پٹرولیم، فاریکس مارکیٹ، ریٹیل مارکیٹ، چینی اور دیگر شعبوں میں بیٹھی مافیا قیمتوں میں اضافہ کر رہے ہیں جبکہ حکومت اسے کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

تاہم عوام سوال کررہے ہیں کہ موجودہ حکومت کو ان مافیاز کو بے اثر کرنے میں کتنا وقت لگے گا، جو کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ عام آدمی کی زندگی کو مزید مشکل بنا رہے ہیں؟

حکومت دونوں اہم مسائل کو حل کرنے میں ناکام کیوں ہے؟

ملک بھر میں ایک عام تاثر پایا جاتا ہے کہ حکومت مبینہ طور پر مافیا کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی ، جس نے ملک کی ہر چیز کو ہائی جیک کر رکھا ہے۔ جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ مافیاز کے خلاف کارروائی کررہی اور کرپشن کو ختم کررہی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مافیاز کی جڑیں بہت مضبوط ہیں جسے دور کرنے کے لیے وقت درکار ہے۔

دوسری رائے یہ ہے کہ حکومت اس مسئلے کو حل کرنے پر راضی دکھائی نہیں دے رہی کیونکہ تمام کابینہ نے کرپشن کیسز کے ایک نکاتی ایجنڈے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ دونوں صورتوں مہنگائی کی چکی میں عوام پس رہے ہیں۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments