“پینڈو کیوں کہا؟”۔۔۔زرنش خان اور مائرہ خان آمنے سامنے

زرنش خان نے ساتھی اداکارہ مائرہ خان کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ’پینڈو اور برگر ازم‘ کی ویڈیو پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں الفاظ کا استعمال غلط ہے، اس سے طبقاتی تفریق ظاہر ہوتی ہے۔

زرنش خان نے انسٹاگرام اسٹوری میں مائرہ خان کی وائرل ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ان کی ساتھی اداکارہ نے ملک میں طبقاتی تفریق کو ہوا دی۔

زرنش خان نے ساتھی اداکارہ کی ویڈیو پر کہا کہ اگر مائرہ خان کے پاس گفتگو کرنے کے لیے کوئی اہم موضوع تھا تو وہ سنجیدگی سے مذکورہ معاملے پر بات کرتیں، انہیں اس طرح بعض لوگوں کو ’پینڈو‘ نہیں کہنا چاہیے تھا اور ’برگر ازم‘ کو ایک الگ طبقے کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے تھا۔ وہ اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے آمادہ نہیں کہ کسی کو ’پینڈو‘ اور کسی کو ’برگر‘ کہنے سے دو طبقات کا تعین ہوتا ہے بلکہ وہ دونوں الفاظ کو طبقاتی تفریق کے طور پر دیکھتی ہیں۔

انہوں نے مزید لکھا کہ عالمی اخلاقیات یہی کہتی ہیں کہ انسانوں کو طبقوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا، ہر کوئی احترام و عزت کے لائق ہے، اس لیے مائرہ خان کو اپنی ویڈیو میں ’پینڈو اور برگر‘ کے الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہیے تھے۔اداکارہ نے لکھا کہ پاکستانی ایک قوم ہیں، ایک ہی طبقہ ہیں اور شوبز شخصیات کو سماجی مسائل پر مزید سنجیدگی کا اظہار کرنے کی ضرورت ہے۔

زرنش خان نے مائرہ خان کی جس وائرل ویڈیو پر رد عمل دیا، وہ حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔

وائرل ویڈیو میں اداکارہ مائرہ خان کار کے اندر بیٹھ کر ’ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی‘ (ڈی ایچ اے) میں ‘پینڈو‘ لوگوں کے داخل ہونے پر برہم دکھائی دی تھیں۔

’پینڈو‘ کا لفظ عام طور پر دیہاتی یا غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ویڈیو میں اداکارہ نے کہا کہ ’پینڈو‘ لوگ ڈیفینس میں نئے نئے منتقل ہونے کے بعد برگر لوگوں کو دیکھ کر ان کی نقل کرنا شروع کردیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ وہ اسی ’جم‘ میں ایکسر سائیز کرنے جائیں جہاں برگر لوگ جاتے ہیں۔اداکارہ نے مزید کہا کہ ایسے لوگ اپنی جسامت کو دیکھے بغیر برگر لوگوں کی طرح اسپورٹس ڈریس پہننا شروع کردیتے ہیں اور برگر لوگوں کو گھورتے رہتے ہیں۔

مائرہ خان نے سمجھایا کہ اگر کوئی شخص ’پینڈو‘ ہے تو وہ عمر بھر ’پینڈو‘ ہی رہے گا، کیوں کہ ’برگر ازم‘ انسان کے اندر سے آتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’پینڈو پنا‘ ڈیفنس میں رہنے یا ’ڈیفنس شپ‘ سے ختم نہیں ہوگا، ایسے لوگ پہلے ’بول‘ کا لفظ درست انداز میں ’بولنا‘ سیکھیں۔اداکارہ نے مزید کہا کہ ’پینڈو‘ لوگ ڈیفنس میں آکر اوچھی حرکتیں کرتے ہیں، وہ لوگوں کو گھورتے رہتے ہیں اور نیچ ہی رہتے ہیں۔

Visit To News Source
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments