عالمی مالیاتی سیکنڈل

عالمی تحقیقاتی صحافیوں کی تنظیم نے پانامہ پیپر کے بعد ایک اور بین الاقوامی مالیاتی سیکنڈل کا پردہ فاش کیا ہے. پنڈورا پیپرز کے نام سے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دینے والی خبر نے کئی شرفاء کے چہرے بے نقاب کر دیئے ہیں. پنڈورا پیپرز اصل میں مالیاتی کرپشن پر مبنی ہے. اس میں دنیا بھر کے ارب پتی لوگوں کی ناجائز ذرائع سے اکٹھی کی گئ دولت کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں. دنیا میں ہر انسان دولت اکٹھی کرنے میں مگن ہے. اسے جائز و ناجائز ذرائع سے کوئی سروکار نہیں. اس کا مقصد حیات اپنی دولت میں بے انتہا اضافہ کرنا مقصود ہے. دنیا کے بہت سے ممالک بھی ایسے لوگوں کو بطور سہولت کار کے مدد فراہم کرتے ہیں. یہ ممالک ان لوگوں کی ناجائز دولت سے اپنی معیشت کو مضبوط کرتے ہیں. قصور ان ممالک کا نہیں. وہ تو اپنے ملک کی ترقی کی خاطر یہ سب کچھ کرتے ہیں. کیونکہ اس طرح کرنے سے پیسہ ملک سے باہر نہیں جاتا. بلکہ کیثر زرمبادلہ ان ممالک میں اکٹھا ہوتا ہے. یہ ممالک غیر ملکی سرمایہ داروں کو ترغیب دیتے ہیں. کہ وہ اپنی دولت کو ان کے ممالک میں لائے گے. تو ہم آپ سے ہرگز نہیں پوچھے گے. کہ اس دولت کے ذرائع کیا ہیں. اور نہ ہی اس پر ٹیکس لاگو ہوگا. اسی لالچ میں لوگ ان ممالک میں آف شور کمپنیاں بناتے ہیں. آف شور کمپنی کا مطلب ہرگز ناجائز دولت اکٹھا کرنا نہیں. مگر اکثر لوگ اس کو اپنی ناجائز اور غیر قانونی دولت چھپانے کے لیے استعمال کرتے ہیں. پنڈورا لیکس کے منظر عام پر آنے کے بعد دنیا بھر میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے. پاکستان میں تو اس پر سیاسی طوفان برپا ہو چکا ہے. وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس بلا کر اس مسئلہ کی مکمل چھان بین کا اعلان کیا ہے.دوسری طرف ملکی اپوزیشن نےحکومتی وزراء اور بیوروکریٹس کے نام منظر عام پر آنے پر شور برپا کر رکھا ہے. اور حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے. کہ ان کو مستعفی کیا جائے. حکومت اور اپوزیشن دونوں کو ہوش کے ناخن لینا ہو گے. سب سے پہلے تو آئی سی آئی جے کی حقیقت کو پرکھنا ہوگا. کہ یہ کس قدر قابل اعتبار ہے. کیونکہ. اس کا صدر دفتر واشنگٹن امریکہ میں واقع ہے. اور دنیا بھر کے صحافی جو اس کے لیے خدمات فراہم کرتے ہیں. وہ اس کے تخواہ دار ملازم ہیں. یہ ان لوگوں کی آف شور کمپنیوں کے نام تو بتا دیتے ہیں. مگر وہ ذرائع بتانے سے قاصر ہیں. جن ذرائع سے یہ کمپنیاں تشکیل دی گئی تھیں. ادھورا سچ بتا دینا خبر نہیں ہوتی. خبر وہ ہوتی ہے. جس میں تمام تفصیلات بیان کی جائیں. یہ پنڈورا لیک امریکہ نے کروائی ہے. امریکہ جب بھی دوسرے ممالک کی معیشت و سیاست کو کمزور کرنا چایتا ہے. وہ ایسے سیکنڈل منظر عامہ پر لے آتا ہے. اس سے قبل بھی آئی سی آئی جے نے پانامہ لیکس والی کہانی گھڑی تھی. یہ اس وقت ہوا تھا. جب پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے چین کے ساتھ ایک اقتصادی معاہدہ کرکے سی پیک پر کام شروع کر دیا تھا. امریکہ کو یہ منصوبہ منظور نہیں تھا. اس نے میاں محمد نواز شریف کو اس منصوبہ سے دستبردار ہونے کو کہا. انکار پر اس نے دباؤ بڑھانے کے لیےاسلامی ممالک یو اے ای، سعودی عرب اور ایران کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے پاکستان پر دباؤ بڑھایا. جب بات نہ بنی تو پانامہ سکینڈل کا شوشہ چھوڑ دیا. اس سے میاں محمد نواز شریف کی حکومت اور جماعت دونوں کو ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنا پڑا. اب امریکہ پاکستان کی موجودہ حکومت سے افعانستان کے مسئلہ کی وجہ سے ناراض ہے. وہ متعدد بار وزیراعظم عمران خان کو طالبان کی مدد سے منع کر چکا ہے. اس کی منشاء کے مطابق جواب نہ ملنے پر وہ سیخ پا ہے. وہ پاکستان کے خلاف بھارت سے مل کر آئے روز نئ سے نئی چال چل رہا ہے. کبھی غیر ملکی کرکٹ ٹیموں کا دورہ پاکستان دباؤ ڈال کر ملتوی کروا دیتا ہے. تو کبھی پاکستان پر اقتصادی و فوجی پابندیوں کی دھمکیاں دیتا ہے. جب ان سے بھی بات نہیں بنی. تو پاکستان کی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے پنڈروا لیکس کا شوشہ چھوڑ دیا گیا ہے. سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی حکومت کے تین سال بعد اور الیکشن سے دو سال قبل پانامہ لیکس کا کھیل کھیلا گیا تھا. اب کی بار بھی موجودہ حکومت کے تین سال بعد اور الیکشن سے دو سال قبل پنڈورا لیکس کا ڈرامہ رچا دیا گیا ہے. امریکہ اور اس کی انٹیلی جنس ایجنسیاں دنیا بھر کے صحافیوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں. حکومت پاکستان کو ان صحافیوں سے پوچھ گچھ کرنی چاہیے. جہنوں نے اس تحقیقات میں آئی سی آئی جے کو مدد فراہم کی ہے. کہ انہوں نے کن ذرائع سے معلومات حاصل کی ہیں. کہ یہ دولت بیرون ممالک ناجائز طریقہ سے لیجائی گئ ہے. اگر یہ خبر سچ ہے. تو پھر ملکی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھتے ہیں. کوئی عام پاکستانی کس طرح سے ملکی اداروں کی ناک نیچے سے اربوں روپیہ چرا کر باہر لے جاتا ہے. اگر کوئی کارروائی کرنی ہے. تو ان لوگوں کے خلاف نہیں. بلکہ ملکی اداروں کے خلاف کرے. جن کی ناقص کارکردگی کی بدولت ملک کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوتی ہے. ان اداروں میں بیٹھے ہوئے لوگ لاکھوں روپیہ تخواہ لیتے ہیںمگر ان کی کارگردگی صفر ہے.ملک سے پیسہ کی چوری روکنا ان کا کام ہے. جب ملک سے پیسہ باہر چلا جاتا ہے. تو پھر شور کیسا. وہ کون سا واپس آ جانا ہے. ہمارے ملک میں اداروں کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے. کبھی کسی بیوروکریٹ اور فوجی آفیسر کا احتساب نہیں ہوا. جس دن ملک میں بلا تفریق احتساب ہونا شروع ہو جائے گا. مالی کرپشن خود بخود ختم ہو جائے گی. پنڈورا لیکس کوئی قابل اعتبار دستاویزات نہیں ہیں. یہ محض قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں. وہ ذرائع بیان نہیں کیے گئے. جن کے ذریعہ سے منی لانڈرنگ کی گئی ہے. یہ امریکہ کی جانب سے ایک ایسا موثر ہتھیار ہے. جس کو وہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کرتا ہے. منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے عالمی مالیاتی اداروں کو موثر ترین قانون سازی کی ضرورت ہے. تاکہ دنیا بھر سے مالیاتی کرپشن کا سدباب کیا جاسکے. حکومت پاکستان کو بھی چاہیے. کہ بغیر کسی سیاسی انتقام کے اس مسئلہ پر سنجیدگی سے قانون سازی کرے. اور بین الاقوامی اقتصادی اداروں کے ساتھ مل کر جامع حکمت عملی ترتیب دیں. تاکہ آیندہ کوئی مالی سیکنڈل منظر عام پر نہ آسکے.
میں کرپشن کی فضیلت کو کہاں سمجھا تھا.بحر ظلمات کو چھوٹا سا کنواں سمجھا تھا.

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments