امام صاحبان کے غلط رویے

درزی سے فارغ ہونے کے بعد ہم ایک بیکری میں جا گھسے ابھی شاپنگ میں مصروف تھے کہ قریبی مسجد سے اذان کی صدا بلند ہوئی۔ بیٹی کہنے لگی کیوں نا یہاں نماز ادا کی جائے اور اس کی آنکھوں میں اتری چمک دیکھ کر مجھ سے ناں نہ ہو سکی لہذا ہم نے مسجد کا رخ کیا اور وضو سے فارغ ہو کر آخری صف میں بیٹھ گئے۔
یہ دیوبندی فرقہ کی مسجد تھی اور ہمیں اندازہ تھا یہاں اقامت شروع ہونے سے پہلے ہی صفیں سیدھی کر لی جاتی ہیں۔ لیکن ہم پھر بھی بیٹھے رہے یہاں تک کہ مؤذن نے اقامت مکمل کی اور اتفاق سے ہمیں پہلی ہی صف میں جگہ مل گئی۔ اب مسجد میں نمازی کم ہوں تو اس میں ہمارا کیا قصور۔
امام صاحب بجائے تکبیر تحریمہ کہنے کے پلٹ کے وضو میں مصروف نمازیوں کا انتظار کرنے لگے۔ اسی اثناء میں پہلی صف مکمل ہو گئی اور پھر امام صاحب نے وہی کیا جس کی ان سے توقع کی جا سکتی تھی۔ ہمیں مخاطب کر کے کہنے لگے کہ بیٹی کو صف کے انتہائی طرف کھڑا کریں جہاں کرسیاں پڑی ہوئی ہیں۔ برا تو بہت لگا بہرحال اگنور کرتے ہوئے ہم دونوں آخر میں جا کھڑے ہوئے جہاں ایک طرف میں تھا درمیان میں بیٹی تھی اور دوسری طرف ایک بابا جی کرسی پر براجمان تھے۔ گھر آ کر بیٹی شرارتی لہجے میں بتانے لگی کہ بابا جی پنجابی میں بڑبڑا رہے تھے کہ یہ امام لڑکیوں سے بھی تماشا لگانے سے گریز نہیں کرتا، پھر ہمیں اندازہ ہوا کہ امام صاحب کی فطرت ہی ایسی ہے۔
اور مجھے یاد آ گیا جب میں نویں جماعت میں پڑھتا تھا تو ایک انتہائی محترم ٹیچر کے گھر رات کو ٹیوشن لیا کرتا تھا۔ ایک دفعہ عشاء کا وقت ہوا تو سر اپنے ساتھ مجھے بھی مسجد میں لے گئے۔ میں وضو کر کے پچھلی صف میں بیٹھ گیا ۔ یہ بریلوی فرقہ کی مسجد تھی لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہاں لوگ اقامت ختم ہونے کے بعد صفیں سیدھی کرتے ہیں لہذا اقامت شروع ہوتے ہی میں فوراً اٹھ کر مؤذن کے بالکل ساتھ امام صاحب کے عین پیچھے جا کھڑا ہوا۔ اقامت ختم ہوئی تو امام صاحب نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے انتہائی نخوت سے ارشاد فرمایا کہ لڑکے تم یہاں نہ کھڑے ہو بلکہ انتہائی بائیں طرف کھڑے ہو۔ مجھے بہت برا لگا کہ آخر سب مسلمان برابر ہیں تو میں یہاں کیوں نہیں کھڑا ہو سکتا اور ان دنوں میں کافی منہ پھٹ بھی ہوا کرتا تھا دل تو چاہا کہ انہیں کہوں آپ امام ہیں تو امام ہی رہیں میرے مامے نہ بنیں لیکن اپنے محترم استاد کا حیاء آڑے آ گیا اور میں چپ چاپ ایک سائیڈ پہ جا کھڑا ہوا اور پھر جیسے تیسے چار فرض ادا کیے اور گھر کی راہ لی لیکن واپسی پر استاد محترم سے یہ ضرور کہہ دیا کہ آئندہ مجھے نماز کے لئے نہ کہا کریں۔ بے شک ان دنوں میں بچہ تھا لیکن میرے منہ پہ داڑھی مونچھ آ چکی تھی اور کبھی کبھار شیو بھی کر لیا کرتا تھا۔ لہذا ایسا کوئی معاملہ نہیں تھا کہ میں بیچ سجدے کے اٹھ کر دائیں بائیں جھانکنے لگتا یا نماز کے دوران میری ہنسی چھوٹ جاتی پھر جانے کیوں امام صاحب نے ایسے گھٹیا پن کا مظاہرہ کیا تھا۔ میرا خیال ہے اقامت کی آواز سنتے ہی میرا جلد اٹھ کر صف بندی کرنا امام صاحب کو برا لگا تھا اور انہوں نے مجھے وہابی سمجھ لیا تھا اب ‘منکر رسول’ کو تو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی بریلوی امام کے پیچھے کھڑا ہو یا پھر ایسا تھا کہ میں نے پینٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی اور سر پہ مسجد کی میلی ٹوپی رکھنے سے بھی گریز کیا تھا تو شاید امام صاحب کو لگا ہو کہ یہ کوئی گناہ گار لڑکا ہے لہذا یہ یہاں کھڑا ہونے کا اہل نہیں۔ بہرحال امام صاحب کے عین پیچھے کھڑے ہونے والے حاجی صاحبان کہ جنہوں نے وہ جگہ ریزرو کروائی ہوتی ہے اور خود امام صاحب بھی کتنے نیک ہوتے ہیں، ہمیں سب پتا ہے۔
ہم واپس بات کی طرف آتے ہیں عصر کی نماز ادا کر کے ہم دونوں اہل تشیع کی امام بارگاہ کی طرف چلے گئے یہاں شہزادہ امام حسین علیہ السلام کے ختم چہلم کے حوالے سے ایک مذہبی تقریب تھی جس میں سوائے میری بیٹی کے دوسری کوئی بھی لڑکی موجود نہیں تھی ہم وہاں کافی دیر رکے رہے اس دوران ہم نے نوحہ خوانی اور ماتم بھی دیکھا ذوالجناح کا مشاہدہ بھی کیا لیکن مجال ہے جو کسی نے ہمیں ٹوکا ہو یا ہماری کسی بھی ایکٹیویٹی پہ اعتراض کیا ہو۔
کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ میں ان احساس محرومی کا شکار لوگوں کو اچھے سے جانتا ہوں اور مجھے اندازہ ہے کہ ان رویوں کے پیچھے الم کی بہت لمبی چوڑی داستانیں چھپی ہوتی ہیں لہذا میں ان لوگوں کو اور ان کے رویوں کو اگنور کرتا آیا ہوں لیکن کیا ہم نے کبھی غور کیا ہے کہ مذہبی ناخداؤں کے ان رویوں کا ہمارے معاشرے کے عام نوجوانوں پر کیا اثر پڑتا ہے اور اس  بدولت کتنے لوگ دین سے بدظن اور متنفر ہوتے ہیں۔ ہمیں اس متعلق سوچنا ہو گا اور امام صاحبان کے ان غلط رویوں کو روکنا ہو گا۔

ذیشان نور خلجی

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments