نیب آرڈیننس اور مریم نواز کی پٹیشن

حکومت اور اپوزیشن اپنی اپنی صف بندی میں مصروف عمل ہیں. گزشتہ روز حکومت کی جانب سے نیب ترمیمی آرڈیننس کا اجراء کیا گیا. اس آرڈیننس کا بنیادی مقصد چئیرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کرنا تھا. کیونکہ آئین پاکستان کے تحت نئے چئیرمین نیب کی تعیناتی کے لیے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان مشاورت لازمی ہے. ان کی مشاورت اور باہمی رضا مندی سے ہی چئیرمین نیب کی تعیناتی ہوتی ہے. سابق نیب قوانین کی روح سے چئیرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کسی صورت ممکن نہیں تھی. مگر حکومت انہیں ہر صورت توسیع دینا چاہتی تھی. جوکہ قانون کے مطابق کسی صورت ممکن نہیں تھا . حکومت نے انتہائی چالاکی سے نیب آرڈیننس میں ترامیم کا ڈرامہ رچا کر ایک تیر سے دو شکار کیے ہیں. ایک طرف وہ چئیرمین نیب کو توسیع دینے میں کامیاب ہوگئی ہے . تو دوسری طرف اپنے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی جن کی آف شور کمپنیوں کا پنڈورا لیکس میں انکشاف ہوا ہیں. انہیں تحفظ فراہم کیا گیا ہے. نیب ترمیمی آرڈیننس 2021 کی روح سے مالیاتی کرپشن کے مقدمات نیب کی بجائے. ایف بی اے دیکھے گا. ایف بی آر حکومت کے ذیلی ادارہ ہے. ظاہر ہےنیب ترمیمی آرڈیننس ارکان اسمبلی، وزراء اور اپنے انوسٹرز کو تحفظ فراہم کرنے کی کاوش ہے. چیئرمین نیب کی مدت ملازمت اپنے سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیے کی گئی ہے. چئیرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع بھی کر دی گئی ہے. اور عوام کو باور کروایا گیا ہے. کہ یہ ہوئی ہی نہیں. نیب ترمیمی آرڈیننس میں کہا گیا ہے. کہ چیئرمین نیب اس وقت تک کام کرتے رہے گے . جب تک نیا چئیرمین نیب تعینات نہیں ہو جاتا. تو ان سے سوال ہے
کہ نیا چیئرمین نیب کیسے تعینات ہو گا. اس کا طریقہ کار تو آئین پاکستان میں درج ہے. جس کے تحت وزیراعظم اور اپوزیشن کی مشاورت سے یہ ہو گا. مگر وزیراعظم پاکستان تو کہتے ہیں. کہ وہ کسی صورت اپوزیشن لیڈر سے بات چیت نہیں کرے گے. کیونکہ اپوزیشن لیڈر نیب زدہ ہے. یہ نیب کے مقدمات میں زیر سماعت ہیں. جب آپ نے اپوزیشن لیڈر سے بات نہیں کرنی. تو نیا چئیرمین نیب کسی صورت بھی تعنیات نہیں ہو پائے گا. اور اس وقت تک موجودہ چئیرمین نیب اپنی ملازمت کرتا رہے گا . اور تمام سرکاری مراعات حاصل کرتا رہے گا . کہاں گیا . آپ کا کرپشن ختم کرنے کا عزم و ارادہ. آپ تو کہتے نہیں تھکتے تھے. کہ شخصیات کی بجائے. اداروں کو مضبوط کرنا چاہیے. اب کبھی آپ آرمی چیف کی مدت ملازمت تو کبھی نیب چئیرمین کی مدت ملازمت میں توسیع کر رہے ہیں. ایسی کیا مجبوری ہے. کہ ان کے بغیر ادارے چل نہیں پائے گے. اگر نہیں چلتے. تو پھر انہیں تاحیات ان کے موجودہ عہدوں پر تعینات کر دیا جائے . حکومت وقت نے ملکی اداروں کو اپنے ذاتی مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کرنا شروع کر رکھا ہے. جس کی وجہ سے عوام کے اندر اداروں کی ساخت متاثر ہو رہی ہے. عوام ان اداروں پر کسی صورت اعتبار کرنے کو تیار نہیں. جب سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی حکومت میں پانامہ لیکس منظر عام پر آئی تھی. تو یہی نیب، عدالت عظمیٰ، عسکری انٹیلی جنس ایجنسیاں فوری حرکت میں آگئ تھی. اور ملک کے موجودہ وزیراعظم کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش کر کے اس کی تذلیل کی گئی تھی. وزیراعظم حکومت وقت کا سربراہ ہوتا ہے. اسے گریڈ سولہ اور اٹھارہ کے سرکاری افسران کے سامنے پیش کیا گیا. س سے زیادہ ملک کی تذلیل اور کیا ہو گی. بات یہی نہیں رکی. نیب عدالتوں میں اسے ذلیل و رسوا کیا گیا. جب پانامہ سے بات نہ بنی تو اقامہ کا ڈرامہ رچایا گیا. ان اداروں نے تہیہ کر لیا تھا. کہ کسی نہ کسی طرح سے میاں محمد نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے فارغ کرنا ہے. اس کھیل کو انتہائی بھیانک طریقہ سے رچایا گیا. ان کے ساتھ ہی ساتھ ان کی فیملی کو بھی انتہائی گھٹن حالات سے گزارا گیا. ان کی زوجہ محترمہ شدید اذیت کی حالت میں انتقال کر گئ. ان کی بیٹی محترمہ مریم نواز کو پابند سلاسل کیا گیا. ان کے چھوٹے بھائی وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کو پنجاب کی عوام کی مثالی خدمت کرنے پر سزا دی گئی. ان کی پارٹی کے تمام سرگردہ رہنماؤں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی. احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق، خواجہ آصف، حنیف عباسی، کیپٹن صفدر اعوان ،پنجاب کے شیر دل لیڈر رانا ثناء اللہ خان کو جیسے بھونڈے مقدمہ میں گرفتار کیا گیا. اس کی پاکستانی سیاست میں نظیر نہیں ملتی. اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کو بھی پابند و سلاسل کیا گیا. اب عوام ان اداروں کی طرف دیکھ رہی ہے. کہ یہ کب موجودہ حکمرانوں کے خلاف کارروائی کرتے ہیں. یا پھر یہ ان کے ساتھ مل کر اس ملک کی تقدیر سے کھیل رہے ہیں. گزشتہ روز محترمہ مریم نواز شریف نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنی سزا کی بریت کے لیے ایک پٹیشن دائر کی ہے. جس میں انہوں نے پانامہ سے اقامہ تک کے گھناؤنے کھیل کے تمام کرداروں کا تفصیلی ذکر کیا ہے. جس کو عدالت عالیہ نے قابل سماعت قرار دیتے ہوئے. اس پر کاروائی کا آغاز کر دیا ہے. اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے. محترمہ مریم نواز شریف نے اپنی پٹیشن کے تمام مندرجات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا. انہوں نے بتایا. کہ انہوں نے عدالت عالیہ سے درخواست کی ہے. کہ ان کرداروں کو بے نقاب کیا جائے. جہنوں نے عوام کے منتخب کردہ وزیراعظم اور اس ملک کے خلاف سازش رچائی تھی. جس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے. کیا ان اداروں کا کام ملک میں خدمت کرنا ہے. یا اس کے خلاف سازشیں رچانا. امید ہے. جب اس پٹیشن پر سماعت کا باقاعدہ آغاز ہو گا. تو پاکستانی عوام کے سامنے بہت سی حقائق کا پردہ فاش ہو گا. محترمہ مریم نواز شریف نے اپنی لیگل ٹیم سے مکمل مشاورت کے بعد یہ پٹیشن دائر کی ہے. جو اس بات کی طرف واضح اشارہ کر رہی ہے. کہ محترمہ مریم نواز شریف کے پاس ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں. جن کی بنا پر وہ عدالت عالیہ سے اپنی سزا کو کالعدم قرار دلوانے کی جدوجہد کر رہی ہے. عدالت عالیہ نے آج اس پر تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے. جیسے جیسے اس پٹیشن پر سماعت ہو گی. ویسے ویسے بہت سے شرفاء کے چہروں پر پڑا نقاب اترتا جائے گا. یہ پٹیشن پاکستان کے عدالتی نظام کا بھی امتحان ہے. دیکھتے ہیں. کہ عدالت عالیہ طاقت ور لوگوں کے خلاف کیس سنتی ہے. یا اعتراضات لگا کر اپنی جان چھڑوا لیتی ہے. اس پٹیشن کے کردار بہت ہی بااثر ہیں. جن کا نام سنتے ہی سرکاری ملازمین ڈر جاتے ہیں. ہماری عدالتی تاریخ بھی اس سلسلہ بہت زیادہ روشن نہیں ہے. محترمہ مریم نواز شریف کی پٹیشن اور نیب ترمیمی آرڈیننس کا آپس میں گہرا تعلق ہے. حکومت چیئرمین نیب کو ان کے موجودہ عہدہ پر اس لیے تعینات رکھنا چاہتی ہے. کہ نئے چیئرمین نیب کی موجودگی میں ہمارا بنا بنایا کھیل بگڑ نہ جائے. کہی عدالت عالیہ میاں محمد نواز شریف اور محترمہ مریم نواز شریف کی سزاؤں کو کالعدم قرار نہ دے دیں. اسی لیے وہ موجودہ چیئرمین نیب کو برقرار رکھنے پر بضد ہے. حکومتیں وزراء بڑے فخر سے سینہ تان کر کہتے ہیں. کہ وزیراعظم اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف سے مذاکرات نہیں کرے گے. کیونکہ میاں شہباز شریف پر کرپشن اور چوری کے الزامات ہیں.اس لیے اپوزیشن جماعتیں اپنا لیڈر تبدیل کر لے. تو ان سے معصومانہ سوال ہے. کہ یہی الزامات آپ کے وزیراعظم سمیت ہر حکومتی وزیر پر ہے. تو کیا پھر حکومت کو تبدیل نہیں کردینا چاہیے. الزامات سے بات نہیں بنتی. انہیں ثابت کرنا ہو گا. اب حکومت کا یہ چورن بکنے والا نہیں. برطانیہ کے تحقیقاتی ادارے نے آپ کے ان تمام الزامات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے. آپ یہی کہتے ہیں. کہ شریف فیملی نے کرپشن کرکے اربوں ڈالر برطانیہ منتقل کیے ہیں. مگر جب وہاں کی حکومت نے اس کے ثبوت مانگے تو ردی اورسنی سنائی کہانیاں پیش کر دی گئیں . پتہ نہیں ہمارے ملکی اداروں کو اس بات کی سمجھ کب آئے گی. ہمارے حکمران عوام کے ٹیکس سے لاکھوں روپیہ تخواہ لینے والے سرکاری ملازمین کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں. یہ سرکاری ملازمین عوام کی بجائے حکومت وقت کے نوکر بنے ہوئے ہیں. ہم ایک غریب ملک ہے. جو بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے. پھر بھی ہم عیاشیوں میں مگن ہیں. سرکاری ادارے جن مقاصد کی تکمیل کے لیے تشکیل دیئے جاتے ہیں. حکومتیں انہیں ان کے بنیادی مقاصد سے ہٹا کر اپنے ذاتی مقاصد کی تکمیل پر لگا لیتی ہیں . جس سے ملک و قوم کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوتی ہے. پاکستان مسلم لیگ ن و دیگر اپوزیشن جماعتیں اپوزیشن کا کردار ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتیں ہیں. ہر جماعت اپنے وجود کی جنگ لڑ رہی ہے. حکومت وقت نے انہیں اپنی اینی پریشانیوں میں الجھا رکھا ہے. اتنے بڑے بڑے اسکینڈل پر اپوزیشن کوئی موثر کردار ادا نہیں کر پا رہی. اس کے برعکس حکومت وقت اپنی من مانی کرتے ہوئے. ہر وہ ناجائز قانون صدارتی آرڈیننس کے ذریعہ سے نافذ کرتی جا رہی ہے. جس کے ملک پر منفی اثرات مرتب ہو گے. اپوزیشن جماعتوں کو آئین کے متصادم ہر صدارتی آرڈیننس کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کرنا چاہیے. اگر عدالت عظمیٰ اسے کالعدم قرار نہیں بھی دیتی. تو تب بھی اپوزیشن جماعتیں عوام کی عدالت میں سرخرو ہو جائے گی. حکومت وقت اور اپوزیشن دونوں کو باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے. ملک کی بہتری کے لیے مل جل کر کام کرنا چاہیے. ایک دوسرے کے خلاف سازشیں رچانے سے نہ صرف ان کی اپنی بلکہ ملک و قوم کی بھی بدنامی ہوتی ہے. ملک کے طاقت ور اداروں کو بھی ان کی باہمی لڑائی سے خود کو دور رکھنا چاہیے. اسی میں ملک کی بہتری ہے.

ہم سے ہمارے حال کی تفصیل پوچھئے
ہمدردیوں کے نام پر سازشیں بہت ہوئیں.

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments