رحمت ِعالم ﷺ

تحریر۔مولانا محمد اکرم اعوان

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین ۔ (سورۃ الانبیاء :107)میرے حبیب ﷺ ! میں نے تجھے تمام جہانوں ‘ تمام کائنات کے لئے رحمت بنا کرمبعوث فرمایا‘ رحمت مجسم کر دی ۔ یہاں انسانیت کی بات ہو رہی ہے کہ نبی کریم ﷺ افضل البشر‘ خیر البشر‘ بے مثل‘ بے مثال‘ مخلوق ہیں لیکن ہیں تو انسان ۔ ساری رحمتِ الٰہی کو سمیٹ کر انسان بنا دیا ‘پھر بھی ہم محروم رہ جائیں تو اب اس کے بعد کیا ہو سکتا ہے ۔ ہماری طرح اللہ کا حبیب ﷺ کھائے پئے‘ روزہ رکھے‘ نماز پڑھے‘ سجدہ کرے‘ گرمی سردی سے تحفظ کرے‘ جہاد کرے‘ ساری زندگی کے آداب عملی طور پر کر کے سکھائے اور ہم پھر بھی محروم رہ جائیں تو ہے کوئی بچنے کا سبب یا ہے کوئی جائے پناہ! اللہ کی طرف سے تو عطا کی حد ہو گئی ۔ اس کے شایانِ شان ہے کہ اتنی عطا کرے‘ یہ اسی کو زیب دیتا ہے ۔ اس نے ساری رحیمیت مجسم کر دی ۔ اب حق تو یہ ہے کہ رحمت عالمﷺ کو دل و جان میں سمو لیا جائے ۔ دل و جان لٹ جائیں اورہر جگہ محمد رسول اللہ ﷺ کی محبت رہ جائے لیکن شاید ہ میں نہ اپنا احساس ہے کہ ہم کیا ہیں ‘ نہ زندگی کی قیمت کا اندازہ ہے کہ یہ لمحات کتنے قیمتی ہیں اور شاید یہ ہماری بد نصیبی ہے کہ ہ میں عظمت رسول ﷺ کا اندازہ نہیں ہے ۔

ہم کافروں جیسے نظر آنے میں فخر محسوس کرتے ہیں ‘ ہم اپنے ;200;پ کو زبردست کہلوا کر خوش ہوتے ہیں ‘ ہم اپنی حیثیت کو بھول جاتے ہیں ‘ ہم چاہتے ہیں لوگ ہماری تعریف کریں ۔ بھئی ہم کیا ہیں ! تعریف تو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی ہے‘ اس کی عطا کی ہے اور اس کے کرم کی ہے ۔ وہ ایسا بادشاہ ہے کہ اس نے ایک عالم بنا دیا ۔ اس میں بادشاہ و سلاطین و امراء ;200;ئے ۔ ہر ایک نے اپنی بادشاہی کا دعویٰ کیا اور بعض بدبختوں نے تو خدا ہونے کا بھی دعویٰ کر دیا ۔ بعض بے نصیبوں نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کر دیا ۔ انہوں نے یہی سمجھا کہ یہ اللہ کا تصور اور دین ‘ شاید سارا فراڈ اور کھیل ہی ہے ‘ چلو ہم بھی نام کے ساتھ نبی لگالیں اور ہم بھی موج کریں ‘ لیکن ایک دن ایسا ;200;نے والا ہے جب وہ پوچھے گا ۔ بتاؤ ;200;ج حکومت کس کی ہے! کون ہے بادشاہ حقیقی! کس کے لئے ہے بادشاہت;238; ساری دنیا میں اول انسان سے ;200;خر تک ‘جنات‘ حیوانات‘ چرند پرند‘ ہر چیز حاضر ہو گی ۔ ساری مخلوق حاضر ہوگی ۔ کوئی دم نہیں مارے گا ۔ پھر وہ خود ہی جواب دے گا ۔ حکومت اللہ کی ہے ۔ کوئی جھوٹا دعویٰ بھی نہیں کرے گا ۔

ملک یوم الدین اے اللہ میں تجھے جانتا ہوں ‘ تو ہی مالک ہے اس دن کا جس دن سب بادشاہتیں نابود ہوں گی‘ صرف تیری بادشاہی ہو گی ۔ جس دن یہ پتہ چلے گا کہ حکومت کس کی ہے اور کون سزاوار ہے ۔ اب جب یہاں پہنچتا ہے تو انداز دیکھیں ! اس نے اللہ کی حمد بیان کی‘ اسے رب العٰلمین مانا‘ رحمن و رحیم مانا‘ ملک یوم الدین مانا تو اسے احساس ہوتا ہے کہ اس میں ‘ میں اکیلا تو نہیں ہوں ۔ اللہ کے بڑے برگزیدہ بندے اس میں فرشتے شامل ہیں ‘ اس میں انبیاء و رسل شامل ہیں ‘ ان میں اصحاب کبار شامل ہیں ‘ اس میں اولیاء اللہ شامل ہیں ‘ اس میں علماء حق شامل ہیں ‘ اس میں حفاظ و قراء شامل ہیں ‘ اس میں علماء شامل ہیں تو خود کو ان میں سمودیتا ہے اور کہتا ہے ۔

ایاک نعبد اب تک اکیلا بات کر رہا تھا‘ اب کہتا ہے ہم سب تیری ہی عبادت کرتے ہیں یعنی خود کو ان لوگوں کے زمرے میں لے گیا جو اللہ کے بندے تھے اور یہ طریقہ خود اللہ تعالیٰ نے بندے کو تعلیم فرمایا ۔ وہ اکیلا بات کر رہا تھا‘ ساری تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو سارے جہانوں کا پالنہار ہے‘ جو رحمن ہے اور رحیم ہے‘ جو یوم جزاء کا مالک و شہنشاہ ہے لیکن یہاں ;200; کر دیکھتا ہے کہ اس کی بارگاہ تو بھری ہوئی ہے اس کے بندوں سے‘ اس کے فرشتوں سے‘ اس کے پیاروں سے‘ صحابہ کرام سے‘ اولیاء کبار سے‘ علمائے حق سے وہ خود کو بھی ان میں سمو لیتا ہے اور کہتا ہے ۔

ہم سب تیری ہی عبادت کرتے ہیں ۔ اس میں یہ بھی سبق ہے کہ خود کو اللہ کے بندوں میں شامل کرو ۔ نیکوں کے ساتھ شامل ہو جاوَ ۔ ہم سب تیری ہی عبادت کرتے ہیں ۔

دیکھو اکیلا کھڑا تھا بندہ‘ بات کر رہا تھا اللہ سے‘ جب اس کی بارگاہ کا دروازہ کھلا‘ اس کا دربار کھلا تو اس نے دیکھا کہ میں اکیلا تو نہیں ہوں ۔ یہاں تو ;200;دم علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام سے لے کر ;200;ج تک کی مخلوق حاضر ہے‘ یہاں تو شجر و حجر حاضر ہیں ‘ یہاں تو جن و انس حاضر ہیں ‘ یہاں تو انبیاء و رسل حاضر ہیں ‘ یہاں تو فرشتے سجدہ ریز ہیں ۔ خود کو بھی شامل کرتا ہے‘ ہم سب تیری ہی عبادت کرتے ہیں ۔ کیا خوبصورت انداز ہے! اللہ تعالیٰ نے یہ سورۃ تعلیم فرمائی تو شیطان اس لئے روتا تھا کہ جب قاری خود کو مقبولان بارگاہ الٰہی میں شامل کر کے گا تو اس پر بس نہ چل سکے گا ۔

ہم اپنی ساری ضرورتوں کی تکمیل تجھی سے چاہتے ہیں ۔ یوں تو ساری ضرورتیں ہی بہت اہم ہیں ۔ یا اللہ ! رزق کے لئے بھوک لگتی ہے‘ پینے کے لئے پیاس لگتی ہے‘ بچوں سے پیار ہے‘ بیوی سے پیار ہے‘ خاندان سے پیار ہے‘ ماں باپ سے الفت ہے‘ دوستوں سے محبت ہے‘ زندگی ;200;رام سے اور خوبصورت گزارنا چاہتے ہیں لیکن ایک چیز بہت قیمتی ہے ۔ پھر وہی مانگتا ہے اور کہتا ہے:

اے اللہ مجھے سیدھا راستہ دکھا جو سب سے ز یادہ قیمتی ہے ۔ زندگی کے باقی سارے مسائل تو ساتھ ہیں لیکن وہ ایک ہجوم عاشقاں میں شامل ہو گیا ہے اور کہتا ہے‘ ا للہ مجھے سیدھے راستے پہ ہی رکھنا ۔ اسی طرح تیری بارگاہ میں حاضر رہوں ‘ کہیں غلط راستے پہ میرے قدم نہ اٹھ جائیں ۔

ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا ۔ وہاں سارے وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ۔ کہتا ہے‘ انہی کے ساتھ مجھے بھی رکھنا یا اللہ! یہی جو تیرے انعام یافتہ لوگ ہیں ‘ انہی کے را انہی کے راستے پہ مجھے ثابت قدم رکھنا ۔ میں ابھی دارِ دنیا میں ہوں ‘ میں ابھی نفس اور شیطان کے نرغے میں ہوں ‘ کہیں اس راستے سے بھٹک نہ جاؤں ‘ کہیں ان لوگوں سے الگ نہ ہو جاؤں ‘ کہیں اس بارگاہ کا دروازہ مجھ پربند نہ ہو جائے!

اب ان سے پوچھو جو نماز ہی نہیں پڑھتے ۔ وہ کس شیخی پہ نہیں پڑھتے;238; میرا مسلک یہاں بھی جداگانہ ہے ۔ لوگ کہتے ہیں وہ نماز نہیں پڑھتے ۔ میں کہتا ہوں اللہ انہیں پڑھنے کی توفیق ہی نہیں دیتا ۔ وہ ان سے ناراض ہے‘ انہیں اپنے بندوں میں کھڑا نہیں ہونے دیتا ۔ انہیں توبہ کرنی چاہیئے‘ معافی مانگنی چاہیئے‘ استغفار کرنا چاہیئے کہ وہ توفیق دے‘ اس لئے کہ اللہ کی بارگاہ کی حضوری بندے کی ضرورت ہے ۔ اللہ کو تو کسی سے کوئی غرض نہیں ہے ۔

ان لوگوں کے ساتھ رکھ جن پہ تو نے انعام کیا ۔

یا اللہ دو طرح کے لوگوں میں مت لے جا‘ ایک مغضوب اور ایک ضآلین ۔ مغضوب وہ ہیں جو اللہ کے غضب کے مارے ہوئے ہیں ‘ جنہوں نے اللہ کے رسولوں سے دشمنی کی‘ اللہ کی ذات کا اور اس کے نبی کا انکار کر دیا ۔ جنہوں نے واضح کفر اختیار کیا وہ غضب کے مارے ہوئے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ کو مانتے ہیں ‘ نبی کو مانتے ہیں ‘ جیسے یہود و نصاریٰ اپنے دین دار ہونے کے دعوے دار ہیں لیکن یہودی کہتے ہیں ‘ عزیر ابن اللہ اور عیسائی کہتے ہیں عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے تھے‘ یعنی اپنی مرضی سے دین بنا لیا اور اس پر عمل کر کے خود کو دین دار سمجھتے ہیں ۔ فرمایا‘ یہ گمراہ لوگ ہیں ۔ اے اللہ مجھے ان سے بھی بچانا جو اللہ اور اس کے رسولﷺ سے دشمنی کرتے ہیں اور ان سے بھی جو دین اپنی طرف سے گھڑ لیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے حکم ہے‘ دونوں سے بچانا ۔ یہ گمراہ ہیں اور وہ مغضوب ہیں ۔

;200;مین ۔ اے اللہ میری گزارش قبو ل فرما ۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments