بڑھتی ہوئی مہنگائی

تحریر : ڈاکٹر محمد عدنان

جہاں انسان کو زندگی میں ہزاروں مسائل کا سامنا ہے وہاں آج کا بڑا مسئلہ مہنگائی ہے جس نے قوم کی کمر توڑ دی ہے۔اس وقت مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ۔لوگ اپنی سوچ کے مطابق مہنگائی پر تبصرے کرتے ہیں لیکن لوگ صرف اپنا زاویہ نگاہ بتا سکتے ہیں کر کچھ نہیں سکتے۔اس وقت مہنگائی اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔وطن عزیز میں اس سے پہلے بھی مہنگائی ہوتی رہی ہیہے مگر ایسی مہنگائی کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔

مہنگائی کی اس صورت حال کو دیکھ کر اگر یہ کہا جائے کہ مہنگائی کے جہاز نے ایک اونچی اڑان بھر لی ہے اور اب وہ لینڈ کرنے کو کسی صورت تیار نہیں ہے تو غلط نہیں ہو گا۔اس وقت پوری دنیا میں کرونا کے باعث بہت سے مسائل نے جنم لیا ہے اسی طرح پاکستان میں بھی کرونا کی وجہ سے لگنے والے لاک ڈائون نے نظام زندگی کو مفلوج کر کہ رکھ دیا ہے۔

غریب عوام گھر بیٹھ جائے گی کمائے گی نہیں تو کس طرح اس بڑھتی مہنگائی کا مقابلہ کرے گی۔مہنگائی کا اثر بے شک صرف انہی لوگوں پر ہوتا ہے جن کی آمدن اشیا ء خورد ونوش کی قیمتوں کے مقابلے میں کم ہے۔سونے کی قیمتوں کے اتار چڑھا ئوسے عام لوگوں کو کیا غرض ہے۔پاکستان میں تو معاشی بد حالی کی وجہ سے دو وقت کی روٹی کمانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔سبزی،چینی،دالیں،یہاں تک کہ آٹے کی قیمتوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستان میں مہنگائی کی شرح جنوبی ایشیاء میں سب سے زیادہ ہے۔عالمی بنک کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کا خطرہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرنسی کی قدر میں کمی کی وجہ سے ہے جو حال میں دیکھا گیا ہے ۔بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے کو اپنی حماقتوں کا ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے حکومت کو ضروری اشیاء کی قیمتوں میں کمی اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئے۔

حکومتی سطح پر ایک ایسی مربوط معاشی پالیسی کی ضرورت ہے جس سے روز گار کے مواقع پیدا ہوں۔حکومت کو چاہیئے کہ وہ نئے صنعتی یونٹوں کا قیام کرے اور عوام کی زندگی میں آسانی پیدا کرنا بھی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments