خوبصورتی کے ساتھ ساتھ عثمانیہ سلطنت کو تباہ کرتی رہیں ۔۔ جانیے ان طاقتور خواتین کے بارے میں، جس نے سلطنت عثمانیہ کو آپس میں لڑوا دیا

عثمانیہ خلافت کی تاریخ میں اگرچہ مر زیادہ تر پائے گئے ہیں، جن میں مشہور ترین نام ارتغل غازی کا ہے، مگر ان میں چند خواتین بھی شامل تھیں جو عثمانیہ خلافت کی طاقتور ترین خواتین کے طور پر سامنے آئی تھیں۔ نہ صرف طاقتور ترین بلکہ ان میں سے کچھ خواتین عثمانیہ خلافت کے اصل وارثین کے خلاف ہو گئیں تھیں۔ ہماری ویب کی اس خبر میں آپ عثمانیہ خلافت کی ایسی ہی کچھ طاقتور ترین خواتین کے بارے میں بتائیں گے۔

ماہ پیکر کُسم سلطان:

ماہ پیکر کُسم سلطان عثمانیہ سلطنت کی طاقتور ترین والدہ سلطانہ تھیں۔ 1610 میں ماہ پیکر کُسم سلطانہ نے عثمانی سلطان احمد اول کو اپنے عشق میں گرفتار کر دیا تھا، یہی وجہ تھی کہ وہ سلطان کی زوجہ بنیں۔ ماہ پیکر سلطانہ وہ واحد سلطانہ تھیں جنہیں دو بار والدہ سلطانہ ہونے کا اعزاز حاصل رہ چکا تھا۔ پہلی بار جب وہ مراد رابع کی تخت نشینی پر والدہ سلطان کے عہدے پر آئیں جبکہ دوسری مرتبہ سلطان ابراہیم اول کے تخت نشین ہونے پر والدہ سلطانہ بنیں۔ تقریبا 40 سال تک سلطانہ عثمانیہ سلطنت کے انتظامی اور سیاسی معاملات پر اثر انداز ہوتی رہیں۔ کُسم سلطان 9 عثمانی سلاطین کے دور میں زندہ رہی تھیں، اور اپنی پھرتی اور حاضر دماغی سے سب کے دل جیت رہی تھیں۔ کُسم سلطان نے مصطفٰی اول کو سلطان احمد اول کے ہاتھوں سے قتل ہونے سے بچالیا تھا، کیونکہ عثمانیہ سلطنت میں سلطان اپنے چھوٹے بھائی کو قتل کرا دیتا تھا۔ ماہ پیکر سلطان اگرچہ خوبصورت تھیں، لیکن خوبصورتی کے ساتھ ساتھ والدہ سلطانہ ایک باصلاحیت اور سلجھی ہوئی خاتون تھیں جنہوں نے اپنی حاضر دماغی سے کئی دفع لوگوں کو حیران کیا تھا۔

حریم سلطان:

حریم سلطان کو عثمانیہ سلطنت میں جادو گرنی کے طور پر یاد کیا جاتا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ حریم وہ پہلی خاتون تھیں جو کہ ایک کنیز تھیں مگر سلطان سلیمان الاعظم کو اپنی خوبصورتی اور دلکش و دلفریب انداز سے اپنا گرویدہ بنایا ہوا تھا۔ حریم سلطان وہ پہلی خاتون تھیں جس سے عثمانیہ سلطنت کے سلطان نے شادی کی تھی۔ اس طرح کنیز سے شادی کی روایت بھی یہی سے شروع ہوئی تھی۔ حریم سلطان سلطان کو اپنی میٹھی میٹھی باتوں میں گھوما کر انہیں اپنے سگے بیٹے شہزادے مصطفٰی کے خلاف کھڑا کر دیا تھا، انہوں نے سلطان کے ہاتھوں شہزادے مصطفٰی کو قتل کروا دیا تھا، تاکہ حریم کے بیٹے کے لیے اگلے سلطان بننے کی راہ ہموار ہو سکے۔ لیکن حریم سلطان کا اپنے بیٹے کو سلطان بنانے کا خواب ادھورا ہی رہ گیا کیونکہ وہ اچانک ایک ناگہانی موت سے ہمکنار ہو گئیں۔ خوبصورت آنکھیں، دلفریب انداز، گوری رنگ اور لہراتی زلفیں حریم کی طاقت تھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ حریم سلطان نے اپنی ذہانت کے بل بوتے پر اس مقام تک پہنچی تھیں۔ حریم نے اپنے دشمنوں کے قاتلوں کی زبان کٹوادی تھی اور کان پھٹوا دیے تھے، تاکہ وہ کچھ بول اور سن ہی نہ سکیں۔

مہرما سلطان:

مہرما سلطان سلطان سلیمان اور حریم سلطان کی بیٹی تھی۔ یہ وہ پہلی خاتون تھیں جنہیں سولہویں صدی میں خانم کا خطاب ملا جو پہلے کسی کو نہیں ملا تھا۔ مہرما ک شمار سلطنت عثمانیہ کی تیسری طاقتور ترین خواتین میں تھا۔ مہرما کے لیے سلطنت میں آنا آسان نہیں تھا، یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنے بھائی کے ذریعے سلطنت پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی، جس میں وہ کامیاب ہو گئیں۔ سیاست میں کامیاب ہونے والی مہرما ایک خوش گو اور چالاک خاتون تھیں، چونکہ ان کی والدہ حریم سلطان تھیں تو یہی وجہ تھی کہ مہرما بھی اپنی والدہ کے نقش قدم پر چل رہی تھیں۔

نور بانو سلطان:

نور بانو سلطان عثمانی سلطان سلیم دوئم کی بیوی تھیں، اپنی نشیلی اور تیز آنکھوں کی وجہ سے نور بانو سب میں اپنا مقام بنانا جانتی تھیں۔ نور بانو بھی ایک کنیز تھیں، لیکن سلطان سلیم دوئم نور بانو کے نور اور دلکش انداز کی بدولت ان کے عاشق ہو گئے تھے۔ جبکہ نور بانو مراد ثالث کی والدہ سلطانہ بھی تھیں۔ نور بانو حریم سلطان کی بہو تھیں۔ نور بانو کا اصل نام سیسیلیا تھا اور ان کا تعلق وینس سے تھا۔ وینس اور عثمانیہ خلافت میں ان دنوں ویسے بھی حالات اچھے نہیں تھے۔ لیکن نور بانو عثمانیہ خلافت اور وینس کے درمیان کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ نور بانو اس حد تک طاقتور ترین والدہ سلطانہ تھیں ، کہ انہوں نے وینس سے ہونے والی جنگ میں عثمانیہ سلطنت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ نور بانو وینس کے دو اعلٰی خاندانوں کی ناجائز اولاد تھیں۔

Visit To News Source
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments