ڈھیلے کپڑے پہنتی تھی اور درد کو برداشت کرتی تھی۔۔۔ پاکستان میں ہر آٹھویں خاتون چھاتی کے کنسر کا شکار۔۔۔ آپ کیسے اس مرض سے خود کو بچا سکتی ہیں؟ جانئیے

ہمارے معاشرے میں خواتین اپنے پوشیدہ اعضاء کا بیماری میں بھی ذکر نہیں کرتیں۔ اس لئے میں بھی خاموش ہوگئی تھی۔ مجھے اپنی چھاتی میں گلٹی اور سرطان کا اس وقت زیادہ احساس ہوا جب میرا خاندان چھٹیاں گزارنے کے لئے ڈزنی لینڈ جارہے تھے۔ میں نے کسی سے بیماری کا ذکر نہیں کیا اور چھٹیوں ہر ان کے ساتھ چلی گئی۔ مجھے شدید تکلیف ہوتی تھی جسے میں برداشت کرتی تھی۔ اس کے ساتھ ہی چھاتی میں گلٹیوں کو چھپانے کے لئے میں ڈھیلے کپڑے پہنتی تھی“۔

یہ الفاظ صولت ظفر کے ہیں جنھیں جب اپنے جسم میں چھاتی کے کینسر کا پتا چلا اس وقت ان کی عمر صرف بیس سال تھی لیکن انھوں نے اسے اس وقت تک چھپا کے رکھا جب تک ان کا سرطان تیسرے درجے تک نہیں پہنچ گیا۔ صولت ضفر ایک اسکول ٹیچر ہیں اور انھیں لگتا ہے پاکستان میں خواتین ایسے موضوعات پر بات نہیں کرسکتیں۔

چھاتی کا سرطان کیا ہوتا ہے؟

بریسٹ کینسر ایسا سرطان ہے جو چھاتیوں میں پیدا ہوتا ہے لیکن جسم کے مختلف حصوں یہاں تک کہ دماغ تک کو متاثر کرسکتا ہے۔ چھاتیوں میں گلٹیاں بننا شروع ہوتی ہیں جنھیں معمول کی چیز سمجھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے لیکن اکثر وہ کینسر کی صورت سامنے آتی ہیں۔ یہ ایک انتہائی دردناک بیماری ہے لیکن اس کا علاج اب ممکن ہے۔

ہر آٹھویں عورت بریسٹ کینسر کا شکار

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ایشیاء میں بریسٹ کینسر کی شرح پاکستان میں سب سے زیادہ ہے۔ پاکستان میں ہر سال سترہ ہزار سے زیادہ خواتین بریسٹ کینسر کی وجہ سے موت کا شکار ہوتی ہیں اور ہر آٹھ میں سے ایک عورت چھاتی کے کینسر کی مریضہ ہوتی ہے۔ جبکہ غیر سرکاری سطح پر یہ تعداد چالیس ہزار ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ خواتین اس بیماری کو نظر انداز کرتی ہیں یا شرم کی وجہ سے اس پر بات نہیں کرتیں جبکہ مرض کو قابو کرنے کے لئے اس پر بات کرنا ضروری ہے۔

بریسٹ کینسر سے احتیاط کے طریقے

یہ کینسر مردوں کو بھی ہوسکتا ہے لیکن خواتین میں یہ شرح مردوں کے مقابلے میں سو فیصد زیادہ ہے۔ اگر کسی خاتون کو اپنے سینے میں گلٹی یا تدیلی محسوس ہو تو بروقت تشخیص سے کینسر کو قابو میں کیا جاسکتا ہے البتہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ پانچ احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اس مرض سے خود کو بچایا جاسکتا ہے۔

وزن بڑھنے نہ دیں

اگر آپ کا وزن زیادہ ہے تو ڈاکٹر سے اپنا معائنہ کروائیں اور ان سے وزن کم کرنے کے لئے مدد لیں۔ کم خوراک لیں اور ورزش کے زریعے کیلوریز جلائیں تاکہ وزن آپ کی عمر کے حساب سے مناسب رہے۔

ایکٹو رہیں

جسمانی طور پر فعال رہنے سے آپ کا وزن بھی قابو میں رہے گا اور یہ بریسٹ کینسر کا خطرہ کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ ایک صحت مند مرد اور خواتین کو اس کے لئے پورے ہفتے میں پچھتر سے ڈیڑھ سو منٹ تک ورزش کرنی چاہئیے۔

بریسٹ فیڈنگ

چھاتیوں کے سرطان سے روک تھام کے لئے بریسٹ فیڈنگ یعنی بچوں کو دودھ پلانا بھی ایک اچھا عمل سمجھا جاتا ہے۔ یہ کینسر کا خطرہ ٹالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پوسٹ مینو پاؤزل ہارمون تھیراپی

اکثر خواتین بڑھتی عمر میں ماہواری رک جانے کے بعد مختلف مسائل سے بچنے کے لئے مینوپاؤزل ہارمون تیراپیز کرواتی ہیں جس سے بھی بریسٹ کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔۔ اگر آپ ایسی کوئی تھیراپی کروانا چاہتی ہیں تو اپنے ڈاکٹر سے پہلے تھیراپی کے رسک پر ضرور بات کرلیں اور کوشش کریں کہ علاج بغیر تھیراپی یا دواؤں کے ممکن ہوسکے۔

الکوحل کے استعمال سے بچیں

جتنا زیادہ الکوحل کا استعمال ہوگا بریسٹ کینسر کا خطرہ اتنا ہی بڑھتا ہے۔ مختلف ریسرچز سے یہ بات سمانے آئی ہے کہ الکوحل کی کم مقدار بھی بریسٹ کینسر کا خطرہ پیدا کرسکتی ہے۔

Visit To News Source
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments