جسٹس کا انصاف اور میئر الیکشن

تحریر : روہیل اکبر

پنجاب کے بلدیاتی الیکشن میں میئر کا الیکشن براہ راست ہوگا عوام کے لیے بہت اچھی خبر ہے اگر ایسا ہو جائے تب کیونکہ بہت عرصہ سے ملک میں صدارتی نظام کی آوازیں بھی سنائی دیتی رہی مگر اس پر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی ہمارے جیسے معاشرے کے لیے یہ نظام بہت اچھا ہوگا اس میں اراکین کی بلیک میلنگ ختم ہو جائیگی اس نظام کے ہم پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں پر لکھنے سے قبل آپ جسٹس باقر نجفی کا ایک فیصلہ دیکھ لیں جس میں انہوں نے غیر ملکی ماڈل ٹریزا کومنشیات اسمگلنگ کیس میں بری کردیا اس کیس پر جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے اپیل پر سماعت کی عدالت نے ملزمہ کی ساڑھے8 سالہ قید کی سزا کو کالعدم قرار دے دیا ملزمہ کے خلاف کسٹم حکام نے مقدمہ درج کیا تھا۔

اپریل 2019 میں منشیات اسمگلنگ کیس میں سزا یافتہ غیر ملکی ماڈل ٹریزا السکووا نے سزا کا فیصلہ ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا تھا ٹریزا کا موقف تھا کہ ٹرائل کورٹ نے حقائق کے برعکس سزا سنائی جس بیگ سے ہیروئن ملی وہ ان کا نہیں تھا ٹریزا نے درخواست میں تحریر کیا کہ ان کے بیگ کو تبدیل کیا گیا اے این ایف چیکنگ میں یہ بیگ نہیں تھا،بیگ کی تبدیلی کے بعد کسٹمز حکام کو منشیات ملی انھوں نے استدعا کی کہ وہ بے قصور ہیں اورسزا کالعدم قرار دی جائے واضح رہے کہ 20 مارچ 2019 کو منشیات اسمگلنگ کے جرم میں گرفتار غیر ملکی خاتون ماڈل ٹریزا السکووا کو عدالت نے 8 سال قید کی سزا سنا دی تھی ماڈل ٹریزا السکووا کی زندگی کے 8سال جیل کی نظر ہو گئی وہ بے گناہ ٹھہری اور اب بری ہوگئی ہمارے ادارے دن بدن تباہی کی طرف جا رہے ہیں۔

پولیس آئے روز بے گناہوں کو پکڑ رہی ہے جبکہ بڑے بڑے جرائم پیشہ افراد انکی کوکھ میں بیٹھ کر اپنے دھندے چلا رہے ہیں آج منشیات کہاں نہیں مل رہی اور بیچنے والے فرشتے نہیں بلکہ انسان ہیں چرس،ہیروئن اور آئس ایک فون کال کی دوری پر ہے ہمارا کوئی گلی محلہ اس نشہ سے محفوظ نہیں بڑے بڑے منشیات فروش روز ٹنوں کے حساب سے منشیات بیچتے ہیں اور ہماری پولیس پکڑتی ہے تو کسیغریب دیہاڑی دار کو جو سارا دن محنت مزدوری کرنے کے بعد ایک سگریٹ کہیں پی رہا ہوتا ہے اگر اوپر سے زیادہ پریشر ہو تو پھر کسی نہ کسی بے گناہ کو پکڑ کو اس پر کلو کے حساب سے چرس ڈال دیتے ہیں اسی طرح پولیس اور دوسرے ادارے اپنے نمبر بنانے کے لیے ہیروئن ڈال دیتے ہیں جو بعد میں پاؤڈر ثابت ہوتی ہے نامعلوم چوری،ڈکیتی اور قتل کی وارداتیں بھی ایسے ہی پولیس ٹریس کرتی ہے جب پریشر بڑھا کسی نہ کسی مظلوم اورغریب کو پکڑا اس پر چھ ساتھ نامعلوم مقدمات ڈالے اور جیل بھجوا دیا سینکڑوں تھانیدار صرف خانہ پوری کے لیے ہر ماہ ہزاروں افراد کو جیل بھجواتے ہیں اور جب کبھی کوئی اصل ملزم پولیس والوں کے ہھتے چڑھ جائے تو یہ خود ہی اسے بچنے کی تمام راہیں بتا دیتے ہیں۔

ویسے تو ہمارے تمام محکموں میں کرپشن اور چور بازاری بہت زیادہ ہے مگر پولیس ان سب سے آگے ہے انکے رضا کاروں سے لیکر اوپر تک صرف پیسے کمانے کی دوڑ ہے پورے تھانے میں اگر کوئی ایک بھی ایماندار شخص آجائے تو اسے کوئی ٹکنے نہیں دیتا وہ تنگ آکر خود ہی چلا جاتا ہے،معطل ہوجاتا ہے یا پھر انہی کے رنگ میں رنگ جاتا ہے ہمارے یہ شیر جوان اتنے بے حس اور لالچی ہیں کہ آپ پیسے کے زور پر کسی کے بھی خلاف مقدمہ بنوا کر اسے جیل بھجوا سکتے ہیں انسان کے رویوں میں یہ تبدیلی یک دم نہیں آتی بلکہ ان رویوں کو جان بوجھ کر تبدیل کیا گیا جب حکمران میرٹ کی دھجیاں آڑا کر شرابیوں،جواریوں اور اپنے پالتوں غنڈوں کو پولیس میں بھرتی کرینگے تب یہی نتیجہ نکلے گا۔

آپ زرا میاں نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے دور میں بھرتیوں کا ریکارڈ چیک کرلیں کیسے کیسے افراد کو اہم عہدوں پر بھرتی کیا جاتا رہا سوئی گیس،واپڈا،پی آئی اے،ریلوے،پاکستان اسٹیل مل،قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیاں کوئی ادارہ ایسا نہیں جہاں پر میرٹ میرٹ کی گردان کرتے ہوئے حکمرانوں نے میرٹ کی دھجیاں نہ آڑائی ہوں باقی محکموں کو چھوڑیں صرف پولیس کو ٹیسٹ کیس بنا لیں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے دور میں پولیس کے اے ایس آئی سے لیکر انسپکٹر تک بھرتی کیے جانے والے افراد کا ریکارڈ چیک کرلیں اور وہ اس وقت کن کن سیٹوں پر بیٹھے ہوئے ہیں چیک کرلیں آپ کو اندازہ ہوجائیگا سن سیاستدانوں سے اگر کوئی ادارہ محفوظ رہا تو وہ فوج کاادارہ ہے جہاں آج بھی سلیکشن میرٹ پر ہوتی ہے اور فیصلے بھی میرٹ پر ہوتے ہیں ورنہ فوج کی طرح پولیس بھی تو ایک ادارہ ہی ہے ناں جہاں ڈھونڈنے سے میرٹ نہیں ملتا آج اگر ہماری عدالتوں میں کیسوں کی بھر مار ہے تو وہ انہی پولیس والوں کی وجہ سے اور پھر یہ جان بوجھ کر چالان جمع نہیں کرواتے تاکہ کیس کو لٹکایا جا سکے ابھی منشیات کے کیس میں سزا یافتہ ماڈل ٹریزا السکووا کو بھی جسٹس باقر نجفی نے بری کر دیا۔

جسٹس باقر نجفی کے فیصلے بولتے ہیں کہ وہ کتنی محنت اور باریک بینی سے ایک ایک لفظ پڑھتے ہیں تاکہ دودھ کا دود اور پانی کا پانی ہو سکے رہی بات بلدیاتی الیکشن میں براہ راست میئر منتخب کرنے کی میں سمجھتا ہوں کہ یہ حکومت کا بہت اچھا فیصلہ ہوگا بزدار سرکار پنجاب میں تعلیمی انقلاب لانے کے ساتھ ساتھ بلدیاتی نظام کو بھی ٹھیک کرنا چاہتی ہے اور اس سلسلہ میں پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت کا بہت بڑا کردار ہے جن کی محنت کا ثمر ہم بلدیاتی الیکشن میں دیکھیں گے عوام اپنے میئر کو براہ راست منتخب کریگی تو کونسلرز حضرات کی بلیک میلنگ کا خاتمہ ہو جائیگا اور وہ کھل کر عوام کی خدمت کرسکے گا اسی طرح ملک میں اگر صدارتی نظام آجائیگا تو غریب عوام کا فائدہ ہوگا ہر پارٹی کو ووٹوں کے تناسب سے اقتدار میں شامل کیا جائیگا ملک کا سربراہ کسی ایم پی اے یا ایم این اے سے بلیک میل بھی نہیں ہوگا اور وہ اپنی کابینہ میں ایسے افراد کو لائے گا جو حقیقی معنوں میں قابل ہونگے تب جا کر ہم ایک خوشحال قوم بن سکتے ہیں۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments