میر نے جام الٹا دیا

تحریر : روہیل اکبر

بلوچستان عوامی پارٹی کے میر عبدالقدوس بزنجو نے جام الٹا دیا اور وہ دوسری بار وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب ہوگئے انہیں گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی میں 39 ارکان نے ووٹ دیا جسکے بعدبلوچستان میں گزشتہ تین سالوں کی حکومت تاریخ کا حصہ بن گئی ہے اس دوران صوبہ بدامنی،معاشی بحران،دہشت گردی اور عوامی مسائل سے دوچار رہا سابق وزیراعلیٰ جام کمال پر تعمیری تنقید کرنے والوں کا جینا محال کردیا گیاتھا مقدمات قائم کیے گئے بکتر بند گاڑیاں چڑھائی گئی حکومت کے اتحادی ارکان کو بھی وزیراعلیٰ سے مشکلات پیش آتی رہی سابق وزیراعلی کے خلاف جو تحریک چلی یہ سیاسی تحریک تھی اورجمہوریت کا حسن ہے کہ کسی پر عدم اعتماد ہوتو جمہوری طریقے سے اس نمٹایا جائے یہ کسی کی فتح یا شکست نہیں بلکہ جمہوریت کی فتح ہوئی ہے۔

جام کمال نے اپنے دور میں اچھے کام بھی کئے ساؤتھ بلوچستان پیکج ان کے دور میں منظور ہوا شاہراہوں کی تعمیر پر کام جاری ہے انہوں نے گورننس پر بھی خصوصی توجہ دی 10 سے زائد بل منظور کرائے 55ایکٹس پاس کئے گئے مگر سابق وزیراعلیٰ افہام وتفہیم سے نابلد تھے جس کی وجہ سے عدم استحکام کاسامنا کرناپڑا نئے قائد ایوان کیلئے بھی بہت سے چیلنجز ہیں وہ صوبے کی پسماندگی،غربت کومدنظررکھتے ہوئے صوبے کو بہتر سمت پر لے جائیں گے۔

صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں بہتری لانے میں بہترٹیم تشکیل دی جائیگی۔ جمعہ کے روز بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ 20منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی اسپیکر سرداربابر موسیٰ خیل کی زیر صدارت تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر نے وزیراعلیٰ کے انتخاب کیلئے ترتیب کارروائی سے ارکان کوآگاہ کیا اورکہاکہ آئین کے آرٹیکل 130(4)جس سے قواعد انضباط کار بلوچستان صوبائی اسمبلی مجریہ 1974ء کے قاعدہ نمبر 18کے ساتھ پڑھاجائے کے تحت وزیراعلیٰ کاانتخاب عمل میں لایاجائے گا۔اجلاس میں ایوان سے باہر ارکان اسمبلی کیلئے 5منٹ کیلئے گھنٹیاں بجائی گئی وقت مقررہ پر ایوان کے داخلی دروازے بند کئے گئے جس کے بعد ارکان اسمبلی کی جانب سے مختص کی گئی لابی میں ووٹ ڈالے گئے میر عبدالقدوس بزنجو کے حق میں پہلاووٹ جمہوری وطن پارٹی کے نوابزادہ گہرام بگٹی جبکہ آخری ووٹ بی اے پی کے سردارعبدالرحمن کھیتران نے ڈالا سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کما ل اور سابق وزیراعلیٰ وآزاد رکن نواب محمداسلم رئیسانی اپنا ووٹ نہیں ڈالا میرعبدالقدوس بزنجو دوسری مرتبہ انہیں وزیراعلیٰ کامنصب ملاہے امید ہے کہ وہ صوبے کے عوام کی خدمت کرینگے اور بیوروکریسی کے انتخاب میں احتیاط سے کام لیں گے۔

جام کمال کی حکومت میں غیر منتخب افرادکودئیے گئے فنڈز کی سی ایم آئی ٹی سے تحقیقات کرائی جائیں اور جو مراعات دی گئی ہے اس کی تفصیلات عوام کو بتائی جائیں تین سالوں سے متحدہ اپوزیشن نے ایوان میں اور ایوان کے باہر حکومت کی ناقص منصوبہ بندی اور غیر آئینی وغیر جمہوری اقدامات کواجاگر کیا متحدہ اپوزیشن نے اسمبلی کے سامنے دھرنا بھی دیا۔18جون کے سیاہ دن اپوزیشن اراکین پر بکتربند گاڑیوں سے حملہ کیاگیا ارکان اسمبلی پر مقدمے بنا کر انہیں جیلوں میں بند کیاگیاجس کے بعداس معاملے سے ایک ماحول بنا اور پھر یہ سلسلہ چلتا رہا 12اکتوبرکو حکومت اور اتحادی جماعتوں کے 14ارکان نے سابق وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتمادم پیش کی اور20اکتوبر کو 34ارکان اسمبلی نے ایوان میں کھڑے ہوکر اس کی حمایت کااعلان کیا جس جذبے کے ساتھ قدوس بزنجو نے یہ قدم اٹھایاامیدہے کہ صوبے کے معاملات بہتری کی طرف جائیں گے فیصلے میرٹ کی بنیاد پر ہونگے اور جو لوٹ کھسوٹ کابازار گرم تھا وہ ختم ہوگا۔

نئے وزیر اعلی صوبے کے مفلوک الحال عوام کی خدمت کرتے ہوئے صوبے سے بدامنی،دہشتگردی،لوگوں کی اغواء کے واقعات کاتدارک کرتے ہوئے مساوات پرعمل کرتے ہوئے نئے دور کاآغاز کرینگے جبکہ گزشتہ تین سالوں کے دوران کوئٹہ کی سڑکوں پر مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سراپااحتجاج رہے آئے روز اسمبلی کے سامنے لوگ بنیادی حقوق کیلئے احتجاج کرتے رہے مگر سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اپنے کاموں میں مصروف رہے اپنے پہلے خطاب میں نئے قائد ایوان میرعبدالقدوس بزنجو نے کہاکہ یہ کرسی بڑی بے وفا ہوتی ہے لیکن کوشش ہے کہ ہم عوام کے امیدوں پر پورا اتریں ہماری کوشش ہے کہ ہم سب کو ایک ساتھ لیکر چلیں اور اسی تسلسل سے تحریک چلایاہے امتحان میں نتائج کے بعد مبارکباد دیا جاتا ہے۔

آج میں مبارکباد نہیں لوں گا جس دن کامیاب ہوں گا اور اپنی ذمہ داری پوری کروں گا اس وقت مبارکباد قبول کروں گا لوگ آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ماضی میں کچھ نہیں ہوا ہے لیکن اب ہم کہتے ہیں اگر ہمارے ساتھ ساتھیوں ،بیوروک ریسی اور عوام کاتعاون نہیں رہا تو ہم کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتے حکومتی معاملات میں اپنے سینئر ساتھیوں سے صلاح ومشاورت کرتے رہیں گے بلوچستان پاکستان کاآدھاحصہ ہے ہم اس کو مکمل بہتر نہیں کرسکتے اس کیلئے ہمیں دیگر صوبوں اور مرکز کا تعاون حاصل ہونے سے ہی ہم کامیابی حاصل کرسکتے ہیں،میڈیا کے ذریعے اپنے مسائل کو اجاگر کرنا ہوگا مرکز سے اپیل ہے کہ چھوٹے صوبوں کی ترقی کیلئے اپنا کرداراداکرے،این ایف سی ایوارڈ میں ہمیں یہاں کے مشکلات ومسائل کو مدنظررکھتے ہوئے حصہ دیاجائے تاکہ بلوچستان کو دیگر حصوں کے برابر لایا جائے 200ارب کا ترقیاتی بجٹ ہے لیکن مرکز کے تعاون کے بغیر ہم اس کو مکمل نہیں کرسکتے،ہمیں ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے کی بجائے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا چاہیے۔تحریک میں جن دوستوں، ساتھیوں اور لوگوں نے ساتھ دیا۔نیت صاف ہوتومنزل نزدیک ہے وزیراعلیٰ نامزد کرنے پر تمام ساتھیوں کا شکر گزار ہوں۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments