حکومت کی کاوشیں اور ٹی ایل پی کی معذرت

تحریر : روہیل اکبر

حکومت پنجاب کے پسماندہ علاقوں کو ترقی یافتہ شہروں کے برابر لانے کے لیے اپنی توانیاں صرف کررہی ہے بزدارسرکار نے پنجاب کے تمام اضلاع میں سالانہ ترقیاتی پروگرام 2021-22میں 360ارب روپے کا تاریخ ساز ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پیکیج دیا ہے پنجاب میں 6 یونیورسٹیوں کا قیام مکمل ہوچکا ہے اور مزید9 یونیورسٹیوں کی منظوری کابینہ دے چکی ہے اس طرح پنجاب میں مجموعی طور پر 21 یونیورسٹیوں کے قیام پر کام ہورہا ہے حکومت نے 2 ڈویژن میں صحت انصاف کارڈ کے پراجیکٹ کاآغاز بھی کردیا ہے باقی کے بھی 7 ڈویژن میں بھی صحت انصاف کارڈ کا اجراء کر دیا جائے گا۔ صحت انصاف کارڈ کے انقلاب آفرین پراجیکٹ پر 3 برس میں 330ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔ یہ پراجیکٹ اپنی نوعیت کا منفرد اور بہترین منصوبہ ہے جس کے تحت ہر کارڈ ہولڈر اور اس کے خاندان کو معیاری پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج معالجے کی جدید ترین سہولتیں بلامعاوضہ حاصل ہوں گی پنجاب کے مختلف ا ضلاع میں 8مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال بنائے جارہے ہیں۔

زچہ و بچہ ہسپتالوں کی دور افتادہ علاقوں میں بہت ضرورت ہے جو ایک سے دو سال میں مکمل ہو جائیں گی جبکہ مرکزی حکومت صوبوں کے پسماندہ علاقوں میں ہیلتھ انشورنس بھی فراہم کررہی ہے جس پر پہلے کسی نے نہیں سوچا انگلینڈ اور یورپ میں یہ سہولتیں پیسے دے کر لینی پڑتی ہیں یہاں ہیلتھ انشورنس مفت فراہم کی جا رہی ہے اس وقت پنجاب تین سو ارب روپے ہیلتھ انشورنس پر خرچ کر رہا ہے بہت جلدپنجاب میں ہر شہری کو ہیلتھ انشورنس دی جائے گی صحت کارڈغریب انسان کی جان کی امان ہے اور پنجاب بھر میں صحت کارڈ کا آغاز ہونے جارہا ہے اس لیے اب نجی ہسپتالوں کو اپنا دائرہ کاردیہی علاقوں تک وسیع کرنا چاہیے تاکہ غریب گھرانے معیاری علاج کی سہولیات سے مستفید ہو سکیں احساس سبسڈی پروگرام وفاق اور صوبائی حکومت مل کر مستحق گھرانوں کو آٹا، دالوں اور گھی پر 30 فیصد سبسڈی فراہم ہوگی، کامیاب پاکستان پروگرام 20 لاکھ گھرانوں کے لیے سود کے بغیر قرضے فراہم کرے گا، گھر تعمیر کر نے، چھوٹا کاروبار شروع کرنے، اسکلز ٹریننگ پروگرام اور چھوٹے کسان کے لیے قرضہ دیئے جائیں گے، کامیاب جوان پروگرام پہلے سے ہی ملک بھر میں نوجوانوں کو قرضے فراہم کر رہا ہے۔

اس وقت ملک میں مہنگائی ایک اہم ایشو بنی ہوئی ہے حکومت معاشی طور پر کمزور طبقے کیلئے راشن پروگرام لا رہی ہے، چینی کی قیمتوں میں اضافے کا سبب شوگر ملوں کی جانب سے کی جانے والی ذخیرہ اندوزی ہے جس پر تین شوگر ملوں کو سیل بھی کیا گیا کورونا وباء کے باعث دنیا میں معاشی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں عالمی سطح پرمہنگائی کا طوفان آیا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے حد اضافہ ہوا،خوردنی تیل اور دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بھی کورونا وباء کے باعث بڑھیں اس وقت بھیتیل درآمد کرنے والے ممالک میں سے پاکستان میں تیل سب سے سستا ہے۔ کورونا وبا نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیا، پوری دنیا کی معیشت خسارے میں چلی گئی اور بین الاقوامی سطح پر بحران آیامگر پی ٹی آئی حکومت کی کامیاب پالیسیوں کی بدولت کورونا وبا کا مقابلہ کیا اور اس چیلینج سے نمٹنے میں کامیاب رہے، بین الاقوامی سطح پرپاکستان کی کامیاب پالیسیوں کی پذیرائی کی گئی ہماری زیادہ آبادی دیہات میں رہتی ہے اور ان کی اکثریت کاشتاکری سے وابسطہ ہے جتنی محنت ہمارا کسان کرتا ہے شائد ہی کوئی اور کرتا ہو سخت گرمیوں میں وہ ہم تک گندم پہنچاتا ہے اورسخت سردیوں میں وہ ہمارے لیے شوگر کی تیاری میں مصروف ہوجاتا ہے کبھی دن کو تو کبھی رات کے آخری پہر وہ اپنی فصلوں کو پانی لگا رہا ہوتا ہے اتنی سخت محنت کے باوجود وہ اپنے بچوں کو اچھے سکول میں پڑھا نہیں سکتا۔

پرائیوٹ ہسپتال میں داخل نہیں ہوسکتا،اپنے پھٹے پرانے کپڑے تبدیل نہیں کرسکتا اور موچی سے بار بار اپنی جوتی مرمت کروائی ہوئی کو تبدیل نہیں کرسکتا انکے بارے میں کسی نہیں سوچا مگر موجود حکومت نے انہیں شوگر ملوں کی بلیک میلنگ سے بچایا اور انکی اجناس کی قیمت بڑھائی گندم کی امدادی قیمت 1950 روپے فی من مقرر کردی گئی کھادوں پر 15 ارب روپے کی سبسڈی دیدی اس سال پاکستان میں 3 بڑی فصلوں کی ریکارڈ پیداوار ہوئی،رواں سال گندم کی سپلائی میں کوئی مسئلہ نہیں ہے،رواں سال 92 لاکھ بیلز کپاس کی پیداوار متوقع ہے،کپاس کی 30 لاکھ بیلز درآمد کرنا پڑیں گی، چینی کی قیمتوں میں اضافہ سٹے کی وجہ سے ہورہا ہے،حکومت کے پاس 22 دن کیلئے چینی کا سٹاک موجود ہے ابھی بھی جو لوگ سابق حکمرانوں کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے انہیں بھی معلوم ہے کہ سابق حکمرانوں کی بدترین پالیسیوں نے ملکی معیشت کو تباہ کیا جسکا کا خمیازہ ہمیں اب بھگتنا پڑ رہا ہے۔

سندھ میں زیادہ تر شوگر ملز زرداری جبکہ پنجاب میں شریف خاندان چلاتا ہے،سندھ میں یکم نومبر سے گنے کی کرشنگ ہونی تھی لیکن اس میں تاخیر کی جارہی ہے سابق ادوار میں ملک کو جس بے دردی سے لوٹا گیا اسکی ایک چھوٹی سی مثال ملاحظہ کرلیں کہ کراچی ایف آئی اے نے طیاروں میں آئی پیڈز لگانے کے نام پر تین ارب روپے کی کرپشن پر کارپوریٹ کرائم سرکل نے پی آئی اے کے منیجر ایجنسی افیئرز ہارون رشید کو گرفتار کرلیا ملزم نے غیر قانونی طور پر جہازوں میں آئی پیڈز لگانے کے نام پر سرکاری خزانے کو تین ارب روپے کا نقصان پہنچایا کیس میں پہلے ہی 2 ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں آخر میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کا معاملہ پر امن طور پر حل کرنے پر پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت بھی خراج تحسین کے مستحق جنکی کوششوں سے ٹی ایل پی نے اپنے اقدامات پر حکومت سے معذرت کرتے ہوئے مستقبل میں ایسا عمل نہ کرنے کی یقین دہانی کرا دی جماعت کی مرکزی شوری کے عہدیدار غلام غوث اور حفیظ اللہ نے درخواست دی ہیکہ ٹی ایل پی ملکی قوانین کے اندر رہ کر کام کرے گی، ریاست کی طرف سے طے کردہ قواعد و ضوابط پر کاربندرہے گی، ٹی ایل پی آئین کے تحت سیاسی جماعت کے طور پر اپنا کردار ادا کرے گی۔(

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments