ذومعنی خاموشی

سال نو کی آمد کے ساتھ ہی ملکی سیاست میں تبدیلی کی نوید بھی سنائی دے رہی ہے.  پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ اور سابق وزیراعظم کی ڈیل کی افواہیں زبان عام ہیں. حکومت کی بوکھلاہٹ اس پر مہر ثبت کر رہی ہے. ملکی میڈیا بھی اس پر خوب شور مچا رہا ہےمگر پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت اس معاملہ پر چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں. پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر محترمہ مریم نواز شریف جو ملکی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہر محاذ پر لڑتی نظر آتی تھی. وہ بھی یکایک خاموش ہو گئی ہے. پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کی ذومعنی خاموشی نے بھی اس پر شکوک پیدا کیے ہیں. ان کی خاموشی نے حکومت کی پریشانی میں مزید اضافہ کیا ہے.حکومت نے اپنی بے بسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے. پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف پر دباؤ ڈالنے کا ارادہ کیا ہے. حکومت کے نزدیک اس ڈیل کا مرکزی کردار میاں محمد شہباز شریف ہے. وہ میاں محمد نواز شریف کی اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کروا رہے ہیں. اسی لیے حکومت کبھی ان کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کر دیتی ہے. تو کبھی ان کے خلاف نئے نئے کیسز کھول دیتی ہے. مگر اسے ہر دفعہ رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے. شاید یہ اس بات کو بھول جاتی ہے. کہ جب مقتدر حلقہ کسی کو حکومت میں لانے کا پختہ ارادہ کر لیتا ہے. تو پھر کوئی تدبیر کام نہیں آتی. تیر کمان سے نکل چکا ہے. حکومت اس کا راستہ روک نہیں سکتی. میاں محمد نواز شریف نہ صرف واپس وطن آئے گے. بلکہ چوتھی بار وزیراعظم کے منصب پر بھی براجمان ہو گے. عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ نے ایک موقع فراہم کیا تھا. جس کو انہوں نے ذاتی دشمنی کی نظر کر دیا. اپنے تین سالہ دور اقتدار میں سوائے سیاسی مخالفین کی پگڑیاں اچھلنے کے کچھ نہیں کیا گیا. بیرونی اور اندورنی دونوں محاذوں پر حکومت بری طرح ناکام ہوئی ہے. مہنگائی اس سے کنڑول نہیں ہو رہی. جس کی وجہ سے عوام کا جینا دوبھر ہو چکا ہے. بیرونی محاذ پر سفارتی کاری میں بھی مکمل طور پر اسے شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے. گزشتہ دنوں پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اسلامی سربراہی تنظیم کے وزراء خارجہ کی کانفرنس ہوئی . جس میں افغانستان کے مسئلہ پر بات چیت ہوئی. مگر مقبوضہ کشمیر پر ایک لفظ بھی نہیں بولا گیا. جب اسلامی دنیا ہی ہمارے موقف کی تائید نہیں کر رہی تو یورپین ممالک کس طرح سے ہمارے مسائل پر بات چیت کرے گے. اسٹیبلشمنٹ نے بھی اس حکومت میں چلےہوئے کارتوس اکٹھے کیے ہوئے ہیں. جن کی ملک میں کوئی عزت نہیں. بیرونی دنیا ان کی کیا عزت کرے گی. جن لوگوں کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں. اس حکومت میں انہیں اہم ترین عہدوں پر تعینات کیا ہوا ہے. جو عوام کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہیں. کیونکہ انہیں معلوم ہے. کہ انہوں نے کون سا اس ملک میں رہنا ہے. جیسے ہی حکومت کا خاتمہ ہو گا. انہوں نے اپنا بوریا بستر لپیٹ کر راہ فرار اختیار کر لینی ہے. شاید ملکی اسٹیبلشمنٹ کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے. جس کو سدھارنے کے لیے اس نے ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں سے گفت و شنید کا سلسلہ شروع کر دیا ہے. پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام ف ان میں قابل ذکر ہیں. وزیراعظم عمران خان کی گھبراہٹ بتا رہی ہے. کہ جلد ہی کچھ ہونے والا ہے. خیبر پختون خواہ میں بلدیاتی انتخابات میں بدترین شکست پر انہوں نے کہا. کہ میاں محمد نواز شریف کو واپس لانے اور ان کی سزاؤں کو کالعدم قرار دینے کے لیے بات چیت ہو رہی ہے. جس کو میں ہرگز قبول نہیں کرو گا . منی بجٹ کے موقع پر صحافی کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا. کہ میاں محمد شہباز شریف کی تقریر نوکری کی درخواست ہوتی ہے. جو وہ اسٹیبلشمنٹ سے کرتے ہیں. مطلب انہیں اچھی طرح معلوم ہے. کہ اسٹیبلشمنٹ کا موڈ تبدیل ہو چکا ہے. اب وہ کسی دوسرے کھلاڑی کو میدان میں اتارنے کا پختہ ارادہ کر چکی ہے. منی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش تو کر دیا گیا. مگر اب اس کی منظوری حکومت کے لیے درد سر بنا ہوا ہے. حکومتی ارکان ایوان میں حاضر نہیں ہوتے.ان کو زبردستی لانے والے اب انہیں فون کال کرنے پر بھی آمادہ نہیں. جس کی وجہ سے حکومت کو قومی اسمبلی کے اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنا پڑا ہے. تاکہ وہ شرمندگی سے بچ سکے. مگر ذلت اب اس کا مقدر بن چکی ہے. حکومتی پارٹی کے اکثر ارکان منی بجٹ کے حق میں نہیں. انہیں معلوم ہے. کہ وہ پہلے ہی اپنے حلقوں میں نہیں جا سکتے. مزید مہنگائی تو غریب کو زندہ درگور کر دے گی. ایسی میں تو ہمارا سیاسی جنازہ نکل جائے گا. اس لیے وہ جان بوجھ کر ایوان سے غیر حاضر رہنے میں ہی اپنی افادیت محسوس کرتے ہیں. آنے والا وقت حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتا نظر آتا ہے. ڈیل کی ثمرات ہی ہے. کہ حکومتی ترجمان دن رات اپوزیشن کے خلاف بیان بازی میں مصروف عمل ہیں. دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں کے رہنما اور ترجمان خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں. ان کی خاموشی سیاسی میدان میں کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے. انہیں اچھی طرح معلوم ہے. کہ حکومت کے ساتھ بیان بازی میں الجھنے کی بجائے. خاموش رہ کر اس کا خاتمہ کیا جائے. حکومت کے ترجمان اور مشیر چیخ چیخ کر اپنی شکست بیان کر رہے ہیں. اپوزیشن رہنما خاموش رہ کر اپنا کھیل کامیابی سے کھیل رہے ہیں. آنے والے دو تین ماہ ملکی سیاست کی سمت کا تعین کرنے والے ہیں. پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف الیکشن کا اعلان ہوتے ہی ملک واپس آجائے گے. اسی دوران محترمہ مریم نواز شریف کی سزائیں بھی کالعدم قرار دی جا چکی ہوگی . ملکی سیاست دلچسپ مرحلے میں داخل ہونے والی ہے. حکومت کی تمام حکمت عملی بری طرح سے ناکام ہو چکی ہے. اب اس کا جانا نوشتہ دیوار پر لکھا جا چکا ہے. عوام اسے اوراس کو ان کے سروں پر مسلط کرنے والوں کو جھولیاں اٹھا اٹھا کر بددعائیں دے رہی ہے . اس حکومت نے اپنی نااہلی کی بدولت ملک کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا ہے. اسی لیے بزرگ کہتے ہیں. کہ جس کا کام اسی کو ساجے. اناڑی انسان کام خراب کر دیتا ہے. پاکستان مسلم لیگ ن اس کھیل کو بہت عمدہ طریقہ سے کھیل رہی ہے. اس نے اپنے سارے پتے بہت اچھی طرح سے کھیلے ہیں. جس کے نتیجہ میں حکومت اس نہج پر پہنچ چکی ہے. کہ اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی ہے. یہ آج گری یا کل گری. پاکستان مسلم لیگ ن کی ذومعنی خاموشی بیان کرتی ہے. کہ بات طے ہو چکی ہے. اب کھیل اپنے اختتام کی طرف گامزن ہے.
اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو وہ وقت قریب آ پہنچا ہے.جب تخت گرائے جائیں گےجب تاج اچھالے جائیں گے.

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments