آئی آئی ن لیگ آئی

تحریر : ریاض احمد ملک

کافی دنوں سے ایک خبر کی بازگشت سنائی دے رہی ہے خبر ہے میاں نواز شریف کی واپسی کے بارے میں جس پر دونوں پارٹئیوں کے کرتے دھرتے لیڈران بیان بازی کر رہے ہیں کوئی نواز شریف کو جنوری میں واپس لا رہا ہے اور کوئی مارچ میں اور کوئی فرما رہا ہے کہ نواز شریف واپس آ نہیں رہے ہم انہیں واپس لا رہے ہیںخیر یہ تو بیان بازیاں ہیں جو لیڈر دیتے ہی رہتے ہیں میں ایک بات کہوں جب بڑے لیڈر یہ بیان داغ دیں کہ عمران کہیں نہیں جا رہا ہم مدت پوری کریں گے تو سمجھ لو دال میں کچھ کالا ضرور ہے اب تو پوری دال کی تمام کالکیں سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں مسلم لیگ ن نے نواز شریف کے استقبال کی تیاریاں شروع کر دی ہیں یہ پکی بات ہے۔

میں نے مسلم لیگ ن کے دو بڑوں سے بھی اس بارے میں بات کی تو انہوں نے بتایا کہ ابھی تک بات پھنسی ہوئی ہے میں نے پوچھا کہ کیا مطلب کیا میاں صاحب واپس نہیں آئیں گے تو دونوں جانب سے جواب ملا ضرور آئیں گے بات یہاں پھنسی ہوئی ہے کہ کہ عمران کے بعد کون لیڈر وزیر اعظم بنے گا مسلم لیگ ن کی خواہش ہے کہ جو بھی نیا وزیر اعظم آئے وہ اسمبلیاں تو کر الیکشن کرائے میں نے پوچھا کہ سٹیبلشمنٹ ،،،؟ تو جواب آیا کہ وہ بھی اب ناک ناک آ چکی ہے وہ بھی عمران کا متبادل ڈھونڈ رہے ہیں۔

میرا سوال تھا کہ آپ تحریک عدم اعتماد کیوں نہیں لاتے تو جواب ملا یہ اب مشکل کام نہیں اب بھی پی ٹی آئی کے20ارکان اسمبلی ان سے رابطے میں ہیں انہوں نے کہا کہ وقت آنے پر یہ لسٹ بھی بتا دیں گے مگر فلحال وہ اس پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے کیونکہ اب موسم گرم ہو چکا ہے اور یہ گرما گرمی جنوری میں ٹھیک ٹھاک تپ جائے گی میری ایک اطلاع کے مطابق جنوری کوئی تبدیلی آنے والی ہے کو نئی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی فوج کے بارے اگر بات کی جائے تو یہ تبدیلی کی کہانی نومبر سے پہلے تو ممکن نہیں مگر یہ نئی تعیناتی بھی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے جس پر لوگ سوچ رہے ہیں اب پی ٹی آئی کے بارے میں جن کا فرمانا ہے کہ نواز شریف واپس نہیں آئیں گے انہیں ہم لائیں گے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ اگر نواز شریف واپس آ بھی جائیں تو ان کی صحت پر کوئی اثر پڑنے والا نہیں پڑے بھی کیوں انہوں نے میاں نواز شریف کے بعد مشرف کے بعد چوہدری برادران کے ساتھ، پھر اپنی ایک سیٹ کے ساتھ اگر وزیر داخلہ بن سکتے ہیں تو میاں نواز شریف کے ساتھ ایک بار پھر کیوں نہیں چلو ان کی بات وقتی طور پر مان بھی لیں کہ میاں نواز شریف واپس نہیں آ رہے تو یہ شور کیوں یہ ایک بڑا سوال ہے جس کا جواب پی ٹی آئی کے پاس نہیں رہا۔

کیوں کہ ان کے ٹلے شروع سے لے کر آج تک جاری ہیں کوئی فرنٹ فٹ پر کھیل رہا ہے تو کوئی بیک فٹ پر ملک کی معیشت ہے جو سمنبھلنے والی نہیں روپے کی قدر کو ختم کر کے ڈالڑ کو 180تک پہنچا دیا گیا ہے جس سے ملک میں مہنگائی کا سونامی غریب عوام کی زندگی کی کشتی کو ڈبونے تک لے گیا ہیاس ماہ کا تذکرہ کریں تو بجلی کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ کی آڑ میں لوگوں کی جیبوں سے اربوں روپے نکالے گئے ہم گذشتہ دنوں کسے محفل میں بیٹھے تھے وہاں تمام افراد مسلم لیگ ن کے حامی مگر ایک صاحب پی ٹی آئی کے حامی تھے جنہوں نے بجلی کے بلوں کے بارے میں کہا کہ تمام ٹیکسز میاں نواز شریف کے لگائے ہوئے ہیں آ گے چل کر کچھ غریب عوام کے بارے میں بھی بتائوں گا کہ وہ کن حالات سے دوچار ہیں بات ٹیکسز کی ہو رہی تھے میاں نواز شریف کے دور میں پہلے تو اللہ کے فضل کرم سے بجلی تھی ہی نہیں ملک میں اندھیروں کا راج تھا جنہوں نے بجلی گھر لگائے اور ملک کو روشن کیا۔

قرضے انہوں نے لئے یہ بات مانتے ہیں ان قرضوں سے ملک کو چلایا غریب عوام کو نوکریاں دیں سڑکیں موٹر ویز بنائے مہنگائی کو کنٹرول میں رکھا ہر چیز وافر مقدار میں میسر تھی جس پر موجودہ حکمران انہیں چور کہتے تھے کہ وہ لوٹ کر لے گئے ہم آئے تو ڈالروں کی ریل پیل پو گی اسحاق ڈار ڈالر مارکیٹ میں پھنک کر مصنوعی کنرول کرتے تھے تو جناب وہ مکان وہ نوکریاں وہ ڈلر کی ریل پیل کہاں ہے آپ نے کون سا وہ قرضہ واپس کیا ذرا تفصیل تو ہو جائے جو زرداری یا نواز شریف نے لیا اور واپس نہیں کیا جناب اگر آپ ملک نہیں سمبھال سکتے تھے تو عزت کے ساتھ ایک سال بعد ہیڈز اپ ہو جاتے ملک کو تباہ تو نہ کرتے ملک میں وہ غریب لوگ جن کی آپ آس تھے جو آئی آئی کرتے نہیں تھکتے تھے اب آوئی اوئی کر رہے ہیں۔

قارئین میں نے ایک کالم میں ایک بچے کا زکر کیا تھا جس کی کہانی سن کر بہت سے لوگوں نے ان کی مدد کرنا چاہی مگر ان کی سفید پوشی آڑے آ گئی ایسے بے شمار لوگ سامنے ہیں جن کی آمدن 15000روپے یا کچھ زیادہ ہے میں اپنا زکر کرتا ہوں میرا بجلی کا بل886روپے آیا یونٹ جو صرف ہوئیں وہ تھیں 17اب گھی فی نو سو گرام450روپے چینی 100روپے کلوگیس سلنڈر2600روپے ایک گھر کے سات یا اس سے زائد افراد ہوںگے تو اس گھر میں 8کلو ماہانہ گھی خرچ ہو گا دس کلو چینی کو دیکھ لیں اب اس گھر کا بجٹ تیار کر دیں کپڑے بچوں کی فیسیں اس کے علاوہ ہیں ادویات آٹا اس کو بھی شامل کریں تو غریب خود کشی کی نوبت تک پہنچے گا یا نہیں میں نے اپنا زکر اس لئے کیا کہ میں بھی ان لوگوں میں ہی شامل ہوں جو زندگی کے دن مشکل سے گزار رہے ہیں میں نے بجلی کا بل کسی سے ادھار پکڑ کر دیا بچوں کی فیس اب تک ادا نہیں ہو سکی اب تو میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ نااہل حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہم ڈوب رہے ہیں اور ان کے حماتیوں کی بیان بازیاں سمجھ سے بالا تر ہیں ان ساری وجوہات کے بعد اب جو نکلے گا وہ اائی اائی کے بعد یہی کہے گا کہ مسلم لیگ ن آئی آپ کا کیا خیال ہے ضرور بتائیے گا۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments