رضائی

تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

دسمبر کی سرد رات میں دن بھر کی مصروفیت تھکاوٹ کے بعد کھانا کھانے کے بعد اپنی پسندیدہ جگہ اپنے حجرے یا سٹڈی میں گرم گداز رضائی کی طرف بڑھاتا کہ جسم کو تھکاوٹ سے آزاد کرنے کے لیے رضائی کی نرم و گداز آرام دہ آغوش میں راحت آسودگی دے سکوں ۔سردیوں میں تھکاوٹ اتارنے جسم کو آرام دینے کے لیے یقینا آرام دہ گداز بستر کے ساتھ روئی سے بھری ہوئی رضائی سے بہتر جگہ کوئی نہیں ہو سکتی لہذا میں بھی معمول کی طرح رضائی کی شفیق پناہ گاہ کا لطف لینے اپنے بستر پر لیٹ کر رضائی اپنے جسم پر اوڑھ کر مراقباتی حالت سے گزر کر نیند کی پر سکون آغوش میں جانے کی کو شش کرنے لگا۔سرد راتوں میں بچپن سے رضائی میں سونا میرا محبوب مشغلہ رہا ہے بہت بچپن میں اپنی نانی ماں کی رضائی میں ہم سب کا خرگوش کے بچوں کی طرح گھس جانا نانی اماں کی مہربان آغوش مامتا کے ساتھ رضائی کا لطف اٹھانا آج بھی میری یادوں کا خوبصورت حصہ ہے بچپن میں ماں کے ساتھ نانی اماں کے ساتھ رضائی سے دوستی ایسی ہو ئی کہ میری زندگی کا اہم حصہ بن گئی جوانی سے گزرنے کے بعد جب جسم میں توانائی کے ذخائر ماند پڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔

جسم میں مختلف بیماریاں سرنگیں بنانا شروع کر دیتی ہیں تو جسم زیادہ مشقت برداشت کرنے کی بجائے زیادہ آرام پسند ہو جاتا ہے میں بھی جوانی کی منزلیں گزارنے کے بعد اب عمر کے اُس حصے میں آگیا تھا جہاں پر جسم آرام طلب زیادہ ہو گیا تھا جیسے ہی سردیوں کا موسم آتا تو میں خلوت سے انجمن کا لطف لینے ذکر کی حلاوت سے ہمکنار ہونے کے لیے راتوں کو آرام دہ گداز رضائی میں پناہ لیتا سرد برفیلی راتوں میں رضائی کا آرام دہ حرارت آمیز لمس آپ کو سکون راحت کے کیف انگیز جہانوں سے متعارف کرواتا ہے اگر آپ کوئی کام نہیں کر نا چاہتے آرام کرنا چاہتے ہیں تو ریشم کی طرح روئی سے پھولی ہوئی مخملی رضائی کا لطف اٹھا کر دیکھیں سب کچھ بھول کر نیند کی مہربان بانہوں میں دنیا مافیا سے بے خبر ہو جائیں گے لیکن آج جب میں رضائی میں لیٹا تو راحت سکون لطف و قرار اور زیست آمیز حرارت مجھے سرشاری کیف عطا نہیں کر رہی تھی وقت گزر رہا تھا لیکن میں رضائی کے لمس آغوش گداز کو انجوائے نہیں کر رہا تھا میں نے دماغ کو ڈھیلا چھوڑ ا تاکہ رضائی کی حرارت گداز سے میں مدہوش نیند کی وادی میںاُتر سکوں لیکن زندگی میں شاید پہلی بار رضائی کی حرارت گداز مجھے راحت سے ہمکنار نہیں کر رہا تھا غور کیا تو دماغی الجھن اضطراب تھا جو جسم کو راحت و سکون میں جانے نہیں دے رہا تھا۔

ایک خیال ندامت شرمندگی تھی جو مجھے آرام کی بجائے مزید مضطرب کر رہی تھی شرمندگی سے بھر ا خیال بچھو کی طرح میرے دماغ کو تنگ کر رہا تھا خیال کی اذیت کی وجہ سے میں رضائی کے آرام کو بھی محسوس نہیں کر رہا تھا آج مجھے اِس کا گداز آرام حرارت سکون کی بجائے الجھا رہی تھی معصوم بچے کا سردی سے ٹھٹرا ہوا بیمار زرد چہرہ بار بار میرے دماغ میں آرہا تھا میں اپنے دماغ کو بار بار اِس خیال سے جھٹک رہا تھا لیکن خیال آسیب بن کر دل و دماغ سے چمٹا جا رہا تھا آج صبح حسب معمول جب دفتر گیا تو بہت سارے لوگ مُجھ سے ملنے کے لیے آئے ہوئے تھے جب میں چند لوگوں سے مل رہا تھا تو ایک کمزور غریب عورت بیمار بچے کو اٹھائے بار بار میری طرف دیکھ رہی تھی کہ میں کب اُس سے ملتا ہوں میں جلد ہی اُس کی بے قراری دیکھ کر اُس کی طرف متوجہ ہوا تو وہ تیزی سے میری طرف بڑھی اور بولی صاحب جی مجھے میاں صاحب نے آپ کی طرف بھیجا ہے جب سے سردی آئی ہے میرے بچے کا بخار اترتا ہی نہیں دوائی دیتی ہوں تو اترتا ہے لیکن پھر ایک دو دن بعد دوبارہ چڑھ جاتا ہے اِس کو دیکھیں کوئی نظر بد جادو یا آسیب تونہیں اِس کو بار بار بخار کیوں ہو جاتا ہے بخار کے ساتھ گلا خراب اور کھانسی بھی ہے میں بہت غریب ہوں ڈاکٹروں کی فیس بھی نہیں دے سکتی اِس کو دم کر یں اِس کا جادو اتاریں تاکہ اِس کو بخار نہ ہو مامتا بیچاری اپنے بچے کی بیماری بخار سے تنگ آچکی تھی اوپر سے غربت کے عفریت نے ادھ موا کر کے رکھ دیا تھا ریاست مدینہ کے دعوے داروں نے مہنگائی کو ساتویں آسمان تک پہنچا کر لوگوں کو بھکاری بنا کر رکھ دیا ہے۔

ایسے میں غریب لوگوں ڈاکٹروں ہسپتالوں کی بجائے ہمارے جیسے بابوں بزرگوں کے پاس شفا کے لیے دھکے کھاتے ہیں میں نے بچے کو دیکھا تو پہلی نظر میں ہی پتہ چل گیا خوراک کی کمی دوا کی کمی اور سردی کی وجہ سے بخار نے طوالت پکڑ لی تھی بچے کے سرد ٹھٹھرے لرزتے ہونٹ زرد آنکھیں بتا رہی تھی کہ بخار اور سردی اُس کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں بچے کی حالت بتا رہی تھی توجہ نہ دی تو زندگی کی کچی ڈور ٹوٹنے والی ہے میں نے پوچھا میاں صاحب تنخواہ اور دوائی کے پیسے نہیں دیتے تو بیچاری ماں بولی صاحب جی تنخواہ سے روٹی پانی پورا ہو تا ہے دوائی کے پیسے نہیں بچتے تو اِس کو سردی سے تو تم بچا سکتی ہو تو بیچاری خوف زدہ لہجے میں بولی آپ نے میاں صاحب کو نہیں بتانا ہمارے پاس گرم بستر رضائی نہیں ہے پرانے پھٹے پرانے کمبل ہیں جو سردی نہیں روکتے اِس لیے میرے بچے کا بخار بھی نہیں اُتر رہا میں کاغذ وغیرہ جلا کر کمرہ گرم کرنے کی کو شش کرتی ہوں لیکن سردی اِس قدر زیادہ ہے کہ کمرہ گرم ہی نہیں ہوتا۔

میاں صاحب کو بہت دفعہ کہا گرم بستر دے دیں لیکن وہ کہتے ہیںپرانے بستروں سے گزارا کرو بیچاری ماں اپنی مجبوریوں اور میاں صاحب کے ناروا سلوک کا رونا رو تی رہی پھر چلی گئی اب میں جب نرم و گداز حرارت آمیز رضائی کی آغوش میں راحت کی تلاش میں تھا تو بیمار بچے کے کانپتے لرزتے ہونٹ زرد آنکھیں ماں کی آہ و بکا پریشانی میرے سامنے آکھڑی ہو ئی تھی میں کافی دیر کروٹیں لیتا رہا آخر ایک خیال جگنو کی طرح میرے دماغ میں چمکا میں نے اپنے دوست کو فون کیا جو اس بچے کے قریب رہتا تھا اُس کو کہا یار دو گرم رضائیاں گدے تکیوں سمیت اِس ایڈریس پر ابھی دے کر آئو ساتھ ہی عورت کا فون نمبر بھی دیا جس سے وہ مجھے پچھلے کئی دن سے بات کر رہی تھی دو گھنٹے بعد اُس دوست کا فون آیا کہ کام کر دیا گیا ہے اب میرے دماغ کو تھوڑا قرار سا آگیا تین دن گزر گئے تو وہی عورت اپنے بچے کے ساتھ میرے سامنے اِس طرح آئی کہ بیمار بچہ گود سے اُتر کر زمین پر کھڑا تھا عورت تیزی سے میری طرف آئی صاحب جی اِس کا بخار اُتر گیا ہے اِس کو ایک اور دم کریں تو میں بولا بیٹی یہ دم کا نہیں رضائی کا کمال ہے پھر بیچاری بہت زیادہ شکریہ کر کے چلی گئی اور میں سوچھنے لگا سرد اور برفیلی راتوں کو جب ہم گرم گرم ریشمی گداز رضائیوں میں نیند کے مزے لیتے ہیں تو بھول جاتے ہیں سرونٹ کوارٹر میں نوکروں کے پاس ہے کہ نہیں گلی میں سیکورٹی گارڈ سردی سے ٹھٹر رہا ہے پارکوں سڑکوں کنارے انڈر پاسوں کے نیچے فٹ پاتھوں پر کتنے غریب مجذوب برفیلی سردی میں موت کی وادی میں خاموشی سے اُتر رہے ہیں جو سردی کے ستائے ہوئے ہیں کیا اِس طرح ہماری عبادتیں قبول ہونگیں جب ہمارے ملازم سردی سے مر رہے ہوں ۔نہیں عبادت تب ہی قبول ہو گی جب ہمارے ملازم بھی سکون میں ہونگے۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments