فارن فنڈنگ و سول عسکری تعلقات

الیکشن کمیشن آف پاکستان عرصہ دراز سے پاکستان تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کی سماعت کر رہا ہے. فارن فنڈنگ کے معاملہ میں ناجائز ذرائع سے فنڈنگ کے انکشافات پاکستان تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے کیے تھے. وہی اس کیس کو الیکشن کمیشن آف پاکستان میں لیکر گئے تھے. جس سے یہ بات تو واضح ہوتی ہے. کہ کسی مخالف سیاسی جماعت نے ان پر الزامات نہیں لگائے. بلکہ ان کے اپنے ہی بانی رکن نے چونکا دینے والے انکشافات سے پردہ اٹھایا ہے . جس کی تصدیق کےلیے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ایک سکروٹنی کمیٹی تشکیل دی . جس سے تعاون کی بجائے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان مختلف حیلے بہانوں سے کام لیتے رہے. کبھی انہوں نے عدالت سے سٹے آرڈر لیا. تو کبھی الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا. بالآخر تمام کاوشوں میں ناکام ہونے پر سکروٹنی کمیٹی کو کچھ شواہد فراہم کیے. جن کی جانچ پڑتال کے بعد اس کمیٹی نے اپنی حتمی رپورٹ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو جمع کروا دی. اب اس رپورٹ کی اشاعت کو رکوانے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں نے عجیب منطق اپنائی ہے. کہ اس رپورٹ کی اشاعت کو پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی فنڈنگ رپورٹ آنے تک روکا جائے. اور سب رپورٹس کو ایک ساتھ شائع کیا جائے. سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ میں ایسے ایسے انکشاف کا ذکر ہیں. جن کی بنیاد پر پاکستان تحریک انصاف کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کالعدم قرار دے سکتا ہے. پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ لیکر گھوم رہے ہیں. اس پر سوالیہ نشان اٹھ کھڑے ہوئے ہیں. اگر آپ کی تمام فنڈنگ جائز ذرائع سے حاصل کردہ ہے. تو پھر آپ کو اپنے بینک اکاؤنٹس چھپانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی. دال میں کچھ تو کالا ہے. بات یہی تک محدود نہیں. اکبر ایس بابر کے بقول فارن فنڈنگ میں ان ممالک سے بھی فنڈنگ لی گئی ہے. جس کی اجازت آئین پاکستان نہیں دیتا. ان ممالک میں بھارت اور اسرائیل سرفہرست ہیں. لامحالہ بات ہے. کہ اگر کوئی دشمن ملک آپ کی مالی معاونت کر رہا ہے. تو اس کے پیچھے اس کے مذموم مقاصد لازمی ہو گے. یہ تو چند اکاؤنٹس ہیں. جو ظاہر ہوگئے ہیں. اس کے علاوہ بھی بیشمار طریقہ سے آپ کو فنڈنگ ہوتی رہی ہے. انہیں غیر ملکی طاقتوں نے آپ کو وزیراعظم کے منصب پر براجمان کروایا ہے. الیکشن کمیشن میں جیسے جیسے فارن فنڈنگ کیس اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے. عمران خان کی پریشانیوں میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے. وہ اور ان کے حواری اب ملکی اسٹیبلشمنٹ پر الزام تراشی پر اتر آئے ہیں. خیبر پختون خواہ کے بلدیاتی انتخابات کی شکست نے بھی انہیں بد حواس کر کے رکھ دیا ہے. قومی اسمبلی میں جب صحافی نے وزیراعظم عمران خان سے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور اپوزیشن لیڈر میاں محمد شہباز شریف کے بارے میں پوچھا. تو اس پر ان کا یہ کہنا تھا . کہ میاں محمد شہباز شریف کی ہر تقریر نوکری کی درخواست ہوتی ہے. وہ نوکری کس سے مانگ رہے ہے. یہ بھی عوام کو بتا دیتے. انہیں کہ ایک معاون خصوصی شہباز گل نے لاھور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکہا .کہ میاں محمد نواز شریف کو واپس لانے کے لیے چوکیدار چور سے مل کر کھیل کھیلنا چاہتا ہے. جس کو ہم کامیاب نہیں ہونے دے گے. پھر پاکستان مسلم لیگ ن اور اسٹیبلشمنٹ کی ڈیل کی باتیں بھی حکمران جماعت کے لوگوں نے کرنا شروع کی تھیں. تاکہ پاکستان مسلم لیگ ن اور اس کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کو عوام کی نظروں میں بدنام کیا جائے. مگر یہ اپنی ہر چال میں ناکام ہوتے جاریے ہیں. میاں محمد نواز شریف ان تمام چالوں سے بے نیاز ہو کر صرف اور صرف عوام کی حق حکمرانی کی جدوجہد میں مصروف عمل ہیں. گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کی. جس میں صحافی نے ان سے میاں محمد نواز شریف سے ڈیل بارے سوال کیا. جس کے جواب میں ان کا کہنا تھا. کہ ایسی کوئی بات نہیں. جو لوگ ایسی افواہیں پھیلا رہے ہیں. ان سے استفسار کیا جانا چاہیے. کہ ان کے پاس یہ معلومات کہاں سے آئی ہیں. ساتھ ہی انہوں نے مزید کہا. کہ اسٹیبلشمنٹ کو سیاست سے دور رکھا جائے. یہ حکمران جماعت کو واضح اشارہ تھا. کہ آپ اپنی غلطیوں میں ہمیں شامل نہ کرے. ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان نے عمران خان اور اس کے حواریوں کے منہ بند کردیئے ہیں. جو ہر وقت ایک پیج کی بات کرتے رہتے تھے. اسٹیبلشمنٹ کا کام حکومت کو دفاعی معاملات میں رہنمائی دینا ہوتا ہے. ناکہ ہراچھے برے کام میں اس کے ساتھ رہنا. امید ہے اب حکمران اسٹیبلشمنٹ سے پوچھنے کی کوشش نہیں کرے گے. کہ آپ ڈیل کیوں کررہے ہیں. حکومت دبے دبے لفظوں میں اسٹیبلشمنٹ سے شکایت کر رہی تھی. کہ آپ میاں محمد نواز شریف سے ڈیل کیوں کر رہے ہیں. جس کا جواب انہیں مل گیا ہے. صحافی بغیر اجازت یہ سوال پوچھ نہیں سکتا تھا. اس سوال کے ذریعہ سے بہت سے لوگوں کی زبان بندی کروا دی گئ ہے. سول ملٹری تعلقات ہر دور میں ہی کشیدگی کا شکار رہے ہیں. کیونکہ طاقت کی لڑائی میں کوئی بھی ہتھیار ڈالنے کو تیار نہیں. اس لیے ہر منتخب وزیراعظم اور اسٹیبلشمنٹ میں حالات ابتر ہی رہے ہیں. اسٹیبلشمنٹ نے ہر دور میں تجربات کیے ہیں. عمران خان بھی انہیں تجربات کی پیداوار ہے. مگر یہ تجربہ کامیاب نہیں ہو سکا. اس لیے اسٹیبلشمنٹ کو اپنے فیصلہ پر نظرثانی کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے. پس پردہ آصف علی زرداری اور عمران خان مل کر میاں محمد نواز شریف کا راستہ روکنا چاہتے ہیں. آصف علی زرداری کسی نہ کسی طرح وفاقی حکومت میں آنا چاہتے ہیں. اس لیے وہ کہتے ہیں. کہ پہلے انہیں فارغ کرو. پھر ہم سے بات کرو. ہم اپنا فارمولہ آپ کو دے گے. مطلب کہ ہم سے سیدھی طرح سے بات کرو. اور ہم سے کچھ لو. ان کے مقابلہ میں میاں محمد نواز شریف وہ واحد شخصیت ہے. جو اسٹیبلشمنٹ کے سامنے اپنے اصولی موقف پر ڈٹے ہوئے ہے. وہ ہر صورت ملکی سیاست سے اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو ختم کرنا چاہتے ہیں. ان کے نزدیک حق حکمرانی صرف اور صرف عوام کا حق ہے. عوام کو اجازت ہونی چاہیے. کہ وہ بلاخوف خطرہ اپنے من پسند نمائندوں کو منتخب کرے. اسٹیبلشمنٹ بھی کسی حد تک ان کے اصولی موقف سے اتفاق کرتی نظر آتی ہے. اس لیے وہ ان سے بیک ڈور رابطے کر رہی ہے . جس پر آصف علی زرداری اور عمران خان کو فکر لاحق ہو رہی ہے. میاں محمد نواز شریف کو بیرون ملک اسٹیبلشمنٹ نے ہی بھیجا تھا. یا پھر وہ سب کو ماموں بنا کر چلے گئے. ڈیل کی بنیاد تو میاں محمد نواز شریف کو بیرون ملک بھیج کر رکھ دی گئی تھی. حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے. کہ کسی نہ کسی طرح اسٹیبلشمنٹ اور میاں محمد نواز شریف کے درمیان دوریاں پیدا کی جائے. مگر ایسا ہو نہیں رہا. جیسے ہی پاکستان تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ کیس کی رپورٹ منظر عام پر آتی ہے. ساتھ ہی حکومت پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر محترمہ مریم نواز شریف کی ایک آڈیو ٹیپ ریلیز کرتی ہے. جس میں وہ سابق وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید سے گفتگو کر رہی ہے.وہ کسی مسئلہ پر ان سے مشاورت کر رہی ہے . اس وڈیو کو ریلیز کرنے کا کوئی بھی مقصد نہیں. کیونکہ محترمہ مریم نواز شریف پرویز رشید سے اس لیے مشاورت کر رہی ہے. کیونکہ وہ وزیر اطلاعات رہے ہیں. اور صحافت کو بہتر طریقہ سے سمجھتے ہے. یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے. کہ ہر حکومت کے خلاف چند صحافی ہر دور میں ہوتے ہیں. کیونکہ وہ حکومت کے نقطہ نظر سے اتفاق نہیں رکھتے. حکومتی ترجمان میڈیا پر آکر مسئلہ کو اچھال رہے ہیں. مگر میڈیا نمائندگان بہت ہی ذمہ دار لوگ ہیں. وہ ان کی باتوں پر یقین نہیں کرتے . وزیراعظم وزارت مواصلات کو آمدن کم کرنے پر مبارکباد رہے ہیں. شاید انہوں نے کبھی موٹروے پر سفر نہیں کیا. اکثر ٹول پلازہ پر کمپیوٹر کی جگہ ہاتھ سے پرچیاں بنا کر گاڑیوں کو دی جاتیں ہیں. کیا یہ ترقی اور آمدن میں کمی کا فارمولہ ہے. سرخی پاؤڈر لگانے سے مسائل حل نہیں ہوتے. وقتی طور پر چھپ جاتے ہیں. آنے والا وقت عمران خان اور ان کے حواریوں کے لیے مشکلات لیکر آ رہا ہے. الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کیس میں ان کی جماعت کو کالعدم قرار دے کر اس کی رجسٹریشن منسوخ کر سکتا ہے. عمران خان کوتاحیات نااہل بھی کر سکتا ہے. اس بار اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مدد نہیں کرے گی. کیونکہ وہ بظاہر سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کر چکی ہے.اس لیے تو کہا جاتا ہے. کہ سول ملٹری تعلقات ہر دور میں مثالی رہے ہیں. جتنے مثالی رہے. یہ عوام بہتر جانتی ہے. اب بھی جب کہا جاتا ہے. کہ سول ملٹری تعلقات اچھے ہیں. تو سمجھ جائے. کہ بات کچھ اور ہے. 

جناب شیخ یہ کیا ماجرا ہوا آخرسنا ہے آپکو کعبے میں بھی خدا نہ ملا

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments