اخروی کامیابی ہی اصل کامیابی ہے

تحریر۔مولانا محمد اکرم اعوان
اللہ کریم نے بنی اسرائیل پر بے شمار انعام کیے انھیں مسلسل ہدایت سے نوازا،انبیا علیہم الصلوٰۃ و السلام مبعوث فرمائے، رسول بھیجے،کتابیں بھیجیں لیکن یہ ایسے ناشکرے تھے کہ انھوں نے اسے بوجھ سمجھا۔انھوں نے کہ اس بوجھ کو اتا ر پھینکو ہم مو ج کریں گے لیکن اللہ کی نعمت تھی۔جب اسے پھینک کر دوسری طرف گئے تو دوسری طرف عذاب تھا۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ اللہ کا عذاب مذاق نہیں ہے!اس کے عذاب بھی بڑے سخت ہیں۔ وہ بڑا کریم ہے، بڑا رحیم ہے،اس کی نعمتیں بے پناہ و بے شمار ہیں لیکن اس کے عذاب بھی بہت سخت ہیں۔اس کی طرف سے ایک بہت سزا،ایک بہت بڑا اورعجیب و غریب عذاب ایسا ہے جومحسوس نہیں ہوتا۔یہ بالکل ایسا جیسے کسی کو کینسر ہوجائے۔ اندر اندر کھاتا رہے اور اور خوش رہے لیکن عین اس لمحے اسے پتہ چلے کہ جب کسی ڈاکٹر کے پاس جائے تو وہ کہے کہ اب سوائے موت کے تمہارے پاس کوئی راستہ نہیں ہے،اب تم سارے علاجوں سے گزر چکے ہو،تمہیں مرنا ہے، ایک دن میں مرتے ہو یا دو دنوں میں مرتے ہو۔ان کا بالکل یہی حال ہے قرآن میں اللہ کریم ارشاد فرماتے ہیں جس کا مفہوم ہے کہ ایک عذاب کی نوعیت یہ ہے کہ جب کوئی میرے احکام کو چھوڑ دیتا ہے، میری شریعت کو چھوڑ دیتا ہے،میرے نبی ﷺ کے نقوش کف پا سے ہٹ جاتا ہے تومیں خارزارِ کفر کو اس کی نگاہوں میں خوب صورت کردیتا ہوں اوریہ سب سے درد ناک سزاہے۔گناہ کی تکلیف سے بندہ کبھی تو اس سے توبہ بھی کرسکتا ہے۔ گناہ کرکے دل میں حقارت آئے،گناہ کر کے دکھ ہو کہ میں نے نافرمانی کی ہے تو تو بہ کا سبب بنتی ہے لیکن اگر گناہ کرکے مسرت ملنی شروع ہوجائے!اطباء کہتے ہیں کہ کوئی شخص زہر کھا لے اور اگر اسے قے شروع ہوجائے،پیچش شروع ہوجائیں،اسے ڈائریا ہوجائے تو بظاہر وہ بیمار ہوجاتا ہے لیکن اس کی زندگی بچ جاتی ہے،مرنے سے بچ جاتا ہے۔اگر زہر کھائے اور اسے کوئی تکلیف نہ ہو،ہضم ہوجائے میں اسے یہ سزا دیتا ہوں کہ وہ گناہوں پہ خوش ہوتا ہے۔انھیں دنیا کی زندگی اتنا مسحورکر لیتی ہے کہ پھر وہ میرے اطاعت گزار بندوں کا مذاق اڑاتے ہیں،پھر وہ تمسخر کرتے ہیں،کبھی نمازیوں کے نام طنزاً رکھتے ہیں،کبھی داڑھی رکھنے والوں کاکئی کارٹون بناتے ہیں،کبھی سجدہ کرنے والوں سے مذاق کرتے ہیں،کبھی عبادت کرنے والوں پر فقرے کستے ہیں۔نافرمانی میں انھیں اتنی ڈھیل مل رہی ہوتی ہے کہ وہ غلط فہمی میں مبتلاہوجاتے ہیں اور اپنے آپ کو اتنا بڑا سمجھ لیتے ہیں کہ پھر اللہ کی اطاعت کرنے والوں کو جاہل کہتے ہیں،کبھی کوئی نام دیتے ہیں،کبھی بے وقوف بتاتے ہیں۔فرمایا کہ یہ بھی عذاب کی ایک بڑی بدترین صورت ہے،بڑا سخت عذاب ہے کہ کسی کو احساس گناہ ہی نہ رہے اور وہ کفر کی زندگی میں خوش ہوجائے کہ میں شاید بڑی کامیاب زندگی بسر کررہا ہوں۔میں نے اتنی دولت جمع کرلی،میں نے اتنا پیسہ لوٹ لیا،مجھے اقتدار مل گیا۔وہ اپنی اس کافرانہ زندگی پراتنے خوش ہوجاتے ہیں کہ ایمان والوں کا تمسخر اڑاتے ہیں لیکن یہ بات یادرکھو!یہ طے شدہ بات ہے جب قیامت قائم ہوگی تو انھیں پتہ چلے گا یہ اطاعت گزار بہت بلند مدارج پہ چلے گئے۔
اللہ کی اطاعت کی عظمت کا اندازہ میدانِ حشر میں ہو گا اگرچہ اس کی لذات ہر لمحہ پہنچتی ہیں۔یہاں بھی سکون اسی کو میسر ہے جو اللہ کی اطاعت کرتا ہے، عزت اسی کو میسر ہے جو اللہ کی اطاعت کرتاہے،محبت اسی نصیب ہوتی ہے جو اللہ کی اطاعت کرتاہے۔کسی نافرمان کو بہتر کھانا کھاکر وہ سکون نہیں ملتا جو ایک اطاعت گزار کو روکھا سوکھا کھانے سے ملتا ہے۔ اللہ کا اطاعت گزار بندہ پتھروں پہ سو کر وہ خوب صورت اور پیاری نیندحاصل کرلیتا ہے جو نافرمان اعلیٰ بستروں اور اعلیٰ محلوں میں سو کر حاصل نہیں کرسکتا۔اس سب کے باوجود اصل حقیقت تو قیامت کو سامنے آئے گی کہ آج جنھیں تم پاؤں کی ٹھوکروں پہ رکھتے ہو،تم ان کے پاؤں چھونے کو ترسو گے لیکن وہ تمہاری رسائی سے بہت بلند ہوں گے۔
جو اللہ سے رشتہ استوار رکھتے ہیں، جو اللہ سے محبت کرتے ہیں،جو اللہ کی اطاعت کرتے ہیں،جو اللہ جل شانہ‘ کی رضا کے لیے زندگی بسر کرتے ہیں،میدان حشر میں وہ بڑے بڑے شہنشاہوں سے جو اللہ کے نافرمان ہیں، بہت بلند مرتبے پہ ہوں گے۔اللہ انھیں اتنا کیوں دیتا ہے! فرمایا:میری اپنی مرضی،میں جسے چاہوں،جتنا چاہوں عطا کردوں۔دنیا میں بھی اپنی پسند سے عطا کرتا ہے۔اگر کوئی نافرمانی بھی کرے اور اس پر وہ اسے اقتدار بھی دے، روزی بھی دے،دولت بھی دے تو اس کامطلب ہے کہ اس کے لیے اس نے دنیا کا دروازہ کھول دیا کہ اگر بھاگنا چاہتا ہے تو بھاگ کر دیکھ لے،کہاں تک جاتا ہے لیکن آخر تونے پلٹ کر میری ہی بارہ گاہ میں آناہے تو دنیا کی جتنی بھی نعمتیں ہیں یہ تب ہی خوش گوار ہیں کہ اللہ کی اطاعت کے ساتھ ہوں۔ دنیا کا رزق بھی،صحت بھی، اس کا رزق ہے۔علم اس کا رزق ہے،حکومت و اقتدار اس کا رزق ہے،دولت اس کا رزق ہے،اولاد اس کا رزق ہے،اللہ کی عطا ہے لیکن یہ عطا بھی تب ہی مزا دیتی ہے جب اس کی اطاعت کے ساتھ ہو۔اگر نافرمانی پر بھی یہ چیزیں مل رہی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ بندہ ماراگیا،اس کی باگ ڈھیلی چھوڑ دی گئی۔وہ اس نافرمانی میں آگے بھاگتا ہی چلا جائے گا کہ شاید میں بڑے صحیح راستے پرہوں لیکن جب موت آئے گی،جب ظاہر کی آنکھ کھلے گی اس وقت پتہ چلے گا کہ میں تو کتنی غلط سمت میں نکل گیا۔اللہ بادشاہ ہے،وہ جسے چاہتا ہے جو چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔میدانِ حشر میں اپنے اطاعت گزار بندوں کو جو عطاکرے گا وہ انسانی دماغ نہیں سوچ سکتا کہ انھیں کیا کیا نعمتیں دے گا اور کس عظمت پہ،کن بلندیوں پہ،کہاں لے جائے گا۔
جب زمین پہ پہنچے تو سارے لوگ ایک ہی طرح کے تھے۔ازل میں جب ارواح پہ سوال ہوا کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں تو سب نے کہا بے شک تو ہی ہمارا رب ہے۔فرمایا پھر اس بات پہ قائم رہنا،دنیا میں جاکے بھول نہ جانالیکن جب دنیا میں آئے تو سارے بھول بھلیوں میں پڑ گئے۔لوگ سارے ہی ایک جیسے ہوگئے۔جو جس سے بن پڑتا ہو کرلیتا۔فرمایاپھرمیں نے ان پر رحم فرمایا،میں نے انھیں چھوڑ نہیں دیاکہ جو کرتے ہو کرتے رہو،آخر میرے پاس آنا ہے،سب کو سزا ملے گی۔فرمایا:ایسا نہیں ہے،میں نے ان پر کرم کیا۔اللہ نے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام مبعوث فرمائے جنھوں نے بھلائی،برائی اور اس کے نتائج سے بھی آگاہ کردیا۔بشارت بھی دی،خطرے کی خبر بھی دی اور نیکی اور بدی کو الگ الگ کردیا۔نیکی کے بہتر نتائج کی خوش خبری بھی سنائی اور اگر کوئی برائی کرتا ہے تو اس کے جو بھیانک نتائج ہوں گے اس سے بروقت مطلع بھی فرمایا۔اللہ کریم ہم سب کو توفیق ِ عمل عطافرمائیں۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments