عمران خان وقتی تابعداری کی وجہ سے اب زرداری سے بھی زیادہ تابعدار ہو گئے ہیں

وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر سے قدموں کو ہاتھ لگا دئے ہیں۔ سینئیر صحافی و تجزیہ کار سلیم صافی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14 جنوری 2022ء) : ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور منی بجٹ پاس کروانے میں حکومت کی کامیابی سے متعلق بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی و تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا کہ اپوزیشن حکومت کے لیے ایک دن بھی کبھی چیلنج بنی نہ ہی اپوزیشن حکومت کے لیے چیلنج ہے۔ نجی ٹی وی چینل 92 نیوز کے پروگرام میں انہوں نے کہا کہ حکومتی صفوں میں کوئی ہم آہنگی نہیں ہے، اور دوسری طرف اپوزیشن کی بھی کوئی اسٹریٹجی نہیں ہے۔ زرداری صاحب اپنا اُلو سیدھا کرنا چاہتے ہیں۔ مسلم لیگ ن سے متعلق بات کرتے ہوئےسلیم صافی نے کہا کہ مسلم لیگ ن میں شہباز شریف اور مریم نواز کے بیانیے کا مسئلہ ہے۔ موجودہ حکومت سے متعلق انہوں نے کہا کہ عمران خان وقتی طور پر تابعداری کی وجہ سے اب آصف علی زرداری سے بھی زیادہ تابعدار ہو گئے ہیں۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر قدموں کو ہاتھ لگا دئے ہیں۔ مہنگائی ، بے روزگاری اور بد امنی کی وجہ سے عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ سلیم صافی نے وزیر دفاع پرویز خٹک کی وزیراعظم عمران خان سے دوران اجلاس تلخ کلامی کے معاملے پر کہا کہ خیبرپختونخوا میں پرویز خٹک سے زیادہ وزارت اعلیٰ کا مستحق کون تھا ؟ انہوں نے آنے والے دنوں سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ کئی وزرا کے انکشافات خلوتوں میں احمد جواد اور محسن بیگ سے بھی بڑے بڑے ہیں۔ سلیم صافی نے کہا کہ جب زلفی بخاری اور عون چودھری جیسے لوگ وعدہ معاف گواہ بن کر بولیں گے تو پھر دنیا دیکھے گی ۔ دوسری جانب منی بجٹ پر بات کرتے ہوئے پروگرام میں شامل ماہر معاشیات ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے کہا کہ منی بجٹ سے عام آدمی متاثر نہیں ہو گا، اس کا مقصد ٹیکس نیٹ کو بڑھانا ہے، اس کو دستاویزی شکل دی جائے، پہلے ان پٹس پر سیلز ٹیکس نہیں لگا کرتا تھا ، بہت ساری چیزیں ٹیکس سے نکال دیں، اخراجات بڑھنے میں بھی آئی ایم ایف پروگرام کا پورا پورا حصہ ہے۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments