ترکی میں پڑھے لکھے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بغاوت پر اتر آئیں، اپنی ہی حکومت کے خلاف آواز کیوں اٹھائی؟ اصل وجہ سامنے آنے پر دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی

میں یہاں رہنا چاہتی ہوں کیونکہ یہ میرا گھر ہے لیکن میں اس چھوڑنا بھی چاہتی ہوں کیونکہ میرا دل کرتا ہے کہ میں انسانوں کی طرح زندگی بسر کر سکوں

ترکی میں پڑھے لکھے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بغاوت پر اتر آئیں، اپنی ہی حکومت کے خلاف آواز کیوں اٹھائی؟ اصل وجہ سامنے آنے پر دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق ترکی میں رہائش پذیر طالبہ کا کہنا ہے کہ میں یہاں رہنا چاہتی ہوں کیونکہ یہ میرا گھر ہے لیکن میں اس چھوڑنا بھی چاہتی ہوں کیونکہ میرا دل کرتا ہے کہ میں انسانوں کی طرح زندگی بسر کر سکوں۔ یہ الفاظ ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں موجود 28 سالہ پی ایچ ڈی کی طالبہ برنا اکڈینز کے ہیں۔ برنا قوتِ سماعت سے محروم ہیں اسی لیے انھیں سننے میں معاونت دینے والے آلے کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ کوکلیئر امپلانٹ ایک ایسا الیکٹرانک آلہ ہوتا ہے جو قوتِ سماعت سے محروم افراد کو آواز سننے میں مدد دیتا ہے تاہم ترکی میں طبی آلات کی درآمدات میں حالیہ کمی کے باعث انھیں یہ خوف محسوس ہونے لگا ہے کہ وہ قوتِ سماعت سے ہمیشہ کے لیے محروم نہ ہو جائیں۔ کوکلیئر سپلائی کرنے والی کمپنی کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ جنوری کے بعد سے وہ اپنی مصنوعات کو ترکی درآمد نہیں کر پائے گی اور اس کی وجہ یہ کہ ملک میں کرنسی لیرا کے زرِ مبادلہ کی شرح اور بڑھتی مہنگائی نے ان کے منافع کی شرح کو کم کر دیا ہے۔ اس لیے اب وہ حکومتی اداروں سے اپنے کاروبار میں معاونت کے لیے مذاکرات کریں گے۔

برنا یہ سوال پوچھتی ہیں کہ اگر وہ (ترک حکومت)کوئی معاہدہ نہیں کر پاتے تو کیا ہو گا۔ اس امکان کے بارے میں سوچتے ہوئے بھی مجھے خوف آتا ہے۔ ترکی چھوڑ کے جایا جائے یا نہیں؟ یہ ایک ایسا تکلیف دہ سوال ہے جو ترکی میں اب بہت سے شہری پوچھ رہے ہیں اور ان میں سے اکثر نوجوان ہیں۔ ترکی کی معیشت بحران کا شکار ہے۔ یہاں کرنسی کی قدر میں بے انتہا کمی واقع ہو چکی ہے اور یہ گذشتہ ایک برس میں آدھی قدر کھو بیٹھی ہے، مہنگائی بہت زیادہ ہے اور قیمتیں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ غریب طبقے کے خاندانوں کے لیے گزارا کرنا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے لیکن ترقی کا متوسط طبقہ بھی پریشان دکھائی دیتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ان افراد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جو بیرونِ ملک زندگی کا دوبارہ آغاز کرنے کے فائدے اور نقصانات ڈھونڈ رہے ہیں اور وہ ان افراد سے مشورے مانگ رہے ہیں جو پہلے ہی بیرون ملک منتقل ہونے کا قدم اٹھا چکے ہیں۔ برنا نے تاحال اپنا ملک چھوڑنے کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا تاہم وہ یورپ جانے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہی ہیں۔ ان کے لیے ایسا کرنے کی اہم وجہ یہ ہے کہ یورپی ممالک میں قوتِ سماعت سے محروم افراد کی معاونت وسیع پیمانے پر کی جاتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ مجھے تحفظ چاہیے۔ مجھے زندگی میں اس بات کی گارنٹی چاہیے کہ میں سن سکوں گی۔ برنا ان متعدد نوجوان اور تعلیم یافتہ ترک باشندوں میں سے ہیں جو شہری متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور اب بیرونِ ملک منتقل ہونے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ یہ ترکی سے یورپ منتقل ہونے والی پچھلی نسلوں کے تارکین وطن افراد سے مختلف اس لیے بھی ہیں کیونکہ ان افراد کا تعلق دیہاتوں سے تھا اور وہ یہاں تعلیم کی ابتر سہولیات اور مواقعوں کے باعث یورپ منتقل ہوئے تھے۔ جنوبی ترکی کے شہر گیزیینٹیپ میں 28 سالہ گریجویٹ ہارون یامان اس نئی نسل میں شامل ہیں جو بیرون ملک منتقلی کے بارے میں سوچ رہی ہے۔ انھوں نے میڈیا کی ڈگری حاصل کی ہوئی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے یورپ منتقل ہونے کے بارے میں ذہن بنا لیا ہے اور اب ان کا آئرلینڈ منتقل ہونے کا منصوبہ ہے۔

ہارون نے سنہ 2018 میں گریجویشن مکمل کی تھی جس کے بعد سے وہ اپنے شعبہ تعلیم میں نوکری ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں اور فی الحال ایک ٹیکسٹائل کمپنی کے گودام میں کام کرتے ہیں۔ ان کا خواب ہے کہ وہ آئرلینڈ کے ورک اینڈ سٹڈی پروگرام کے تحت وہاں ہمیشہ کے لیے منتقل ہو جائیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اس ملک کے مستقبل کے لیے بالکل بھی پرامید نہیں ہوں، اسی لیے میں اسے چھوڑنا چاہتا ہوں۔ اس آئرش پروگرام میں داخلے کے لیے کچھ رقم ادا کرنی ہوتی ہے، جس کا کچھ حصہ وہ ادا کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ تاہم لیرا کی قدر میں اچانک کمی کے باعث ان کا منصوبہ تعطل کا شکار ہو چکا ہے۔ اب انھیں مزید وقت درکار ہے تاکہ وہ مکمل ادائیگی یوروز میں کر سکیں۔ میری ترکی میں کوئی سماجی زندگی نہیں ہے۔ میں دن میں 10 گھنٹے کام کرتا ہوں۔ کرنسی کے بحران کے باعث ہماری قوتِ خرید بھی کم ہو گئی ہے۔ ہمارے بہت زیادہ مسائل ہیں۔ حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث متعدد افراد غربت کا شکار ہیں اور لوگوں میں انتشار پیدا ہو رہا ہے۔

Visit To News Source
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments