بحر الکاہل میں واقع جزیرہ نما ملک ٹونگا میں زیر سمندر آتش فشاں پھٹنے اور سونامی کے بعد پہلی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے اور امدادی ایجنسیوں نے ’بڑے نقصان‘ کی اطلاع دی ہے۔

بر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سونامی میں بہہ جانے والی ایک برطانوی خاتون کے اہل خانہ نے بتایا کہ ان کی لاش مل گئی ہے۔ ٹونگا میں کم از کم ایک اور شخص کے لاپتہ ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

ہفتے کو آتش فشاں پھٹنے کے تین دن بعد ٹونگا کے ساتھ پیچیدہ سیٹلائٹ فون رابطے، نگرانی کے لیے کی جانے والی پروازوں اور سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے بحران کے ابتدائی اشارے سامنے آرہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی امور کی رابطہ کاری کے دفتر (او سی ایچ اے) نے کہا ہے کہ نگرانی کے لیے کی جانے والی پروازوں نے مینگو اور فونوئی جزیرے پر ’املاک کو کافی نقصان‘ پہنچنے کی تصدیق کی ہے۔

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق آتش فشاں پھٹنے سے بحر الکاہل میں پیدا ہونے والی لہروں سے پیرو کے ساحل سمندر پر دو افراد ڈوب گئے ہیں اور نیوزی لینڈ سے سانتا کروز، کیلیفورنیا تک معمولی نقصان کی اطلاعات ہیں۔

000_9WD9YT.jpg

میکسار ٹیکنالوجیز کی جانب سے جاری تصویر میں ٹونگا کے ساحل پر آتش فشاں کے پھٹنے سے پہلے اور بعد کے مناظر (اے ایف پی، میکسار ٹیکنالوجیز)

جہاں بڑے پیمانے پر نقصان کا اندیشہ ہے وہیں اس زیر آب آتش فشاں کے پھٹنے سے ماحولیات کو پہنچنے والے نقصان پر بھی سائنس دان پریشان ہیں۔ 

روئٹرز کے مطابق مرجان کی چٹانوں کو دیرپا نقصان پہنچ سکتا ہے، ساحلی پٹی ختم ہو سکتی ہے اور ماہی گیری میں خلل پڑ سکتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ اس خطے کی مستقبل کی پیش گوئی کرنے کے لیے سیٹلائٹ تصاویر  اور ماضی کی تاریخ کا مطالعہ کر رہے ہیں۔

تیزابی بارش

آتش فشاں پھٹنے کے بعد اس میں سے سلفر ڈائی آکسائڈ اور نائٹروجن آکسائڈ گیسیں نکل رہی ہیں۔ ان دو گیسوں کے فضا میں پانی اور آکسیجن کے ساتھ ملنے سے تیزابی بارش ہوتی ہے۔

آتش فشاؤں کا مطالعہ کرنے والے یونیورسٹی آف آکلینڈ کے شین کرونین نے کہا کہ ٹونگا کی گرم آب و ہوا کے ساتھ، ’آنے والے کچھ عرصے کے لیے ٹونگا کے ارد گرد تیزابی بارش کا امکان ہے۔‘

تیزابی بارش بڑے پیمانے پر فصلوں کو نقصان پہنچاتی ہے، اور تارو(شکرقندی جیسی خوراک)، مکئی، کیلے اور گھر میں اگائی جانے والی سبزیوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ کرونین نے کہا کہ غذائی اجناس کی کمی کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ دھواں مغرب کی طرف پھیل رہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ٹونگا کو اس تیزابی بارش میں تھوڑا سا بچایا جا سکتا ہے اگرچہ یہ فجی میں ہو سکتی ہے۔

پیر کو ایک بلیٹن میں اقوام متحدہ کے انسانی امور کے دفتر نے کہا کہ فجی اپنی ہوا کے معیار کی نگرانی کر رہا ہے اور انہوں نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے گھریلو پانی کے ٹینکوں کو ڈھانپ لیں اور بارش کی صورت میں گھر کے اندر رہیں۔

مچھلیوں کی اموات

ٹونگا کا تقریباً سات لاکھ مربع کلومیٹر کا سمندری خصوصی اقتصادی زون اس کے زمینی علاقے سے 1,00 ہزار گنا بڑا ہے، اور وہاں کے زیادہ تر باشندے سمندر سے اپنی خوراک اور روزی روٹی حاصل کرتے ہیں۔

نیوزی لینڈ کی یونیورسٹی آف اوٹاگو کے ماہر ارضیات مارکو برینا نے کہا کہ اگرچہ سائنسدانوں نے ابھی تک وہاں جاکر تحقیقات نہیں کی ہیں، ’جو چند تصاویر دستیاب ہیں ان میں زمین پر راکھ کا ایک کمبل نظر آتا ہے۔‘

سمندر میں وہ راکھ سمندری حیات کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔

آتش فشاں پھٹنے سے چند ہفتے قبل ٹونگا جیولوجیکل سروسز نے خبردار کیا تھا کہ قریبی سمندری پانی زہریلے آتش فشاں کے اخراج سے آلودہ ہے اور ماہی گیروں کو ’یہ فرض کر لینا چاہیے کہ ان پانیوں میں مچھلیاں زہر آلود یا زہریلی ہیں۔‘

لامحالہ، آتش فشاں  پھٹنے کے بعد صورت حال مزید خراب ہوگئی ہے۔ آتش فشاں کے قریب دھندلا، راکھ سے بھرا پانی مچھلیوں کو کھانے سے محروم کر دے گا۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کچھ مچھلیاں ہلاک ہو جائیں گی اور بچ جانے والی نقل مکانی پر مجبور ہو جائیں گے۔ سمندر کے فرش کی ساخت میں مزید تبدیلیاں ماہی گیری کے جہازوں کے لیے نئی مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔

ماہر ارضیات مارکو برینا نے کہا کہ ماہی گیری کے لیے استعمال ہونے والے اس یا نئے علاقے کو دوبارہ پہلے جیسی حالت میں واپس آنے میں وقت لگے گا۔

دبے ہوئے مرجان

گرتی ہوئی راکھ مرجان کی چٹانوں کو بھی دبا سکتی ہے، جو ٹونگا میں سیاحت کی صنعت کا بنیادی مرکز ہیں۔ کرونا وائرس وبا سے پہلے ان کی وجہ سے سالانہ 50 لاکھ  ڈالر تک آمدن ہوتی تھی۔

آتش فشاں پھٹنے سے پہلے بھی ٹونگا کی چٹانوں کو بیماریوں کے پھیلنے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات بشمول کورل بلیچنگ اور بڑے طوفانوں سے خطرہ لاحق تھا۔

یونیورسٹی آف گوام کے سمندری حیاتیات دان ٹام شلز، جنہوں نے شمالی ماریانا جزائر میں آتش فشاں پھٹنے اور مرجان کے چٹانوں کا مطالعہ کیا ہے، کا کہنا ہے کہ اب ’ہنگا ٹونگا میں فوری اثرات والے علاقوں میں زیادہ تر چٹانیں شاید آتش فشاں کی راکھ کے بڑے ذخائر کے نیچے دفن ہوگئی اور دب گئی ہیں۔‘

اس طرح کے آتش فشاں پھٹنے سے پانی میں مزید آئرن بھی خارج ہوتا ہے جس سے نیلے سبز کائی اور سپنج کی نشوونما کو فروغ مل سکتا ہے جو مرجان چٹانوں کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے۔

000_9WD89G.jpg

ٹونگا میں آتش فشاں پھٹنے کے بعد تیز سمندری لہروں سے نقصان کی وجہ سے پیرو کی ریفائنری سے بہنے والا تیل ساحل سمندر تک پہنچ گیا (اے ایف پی)

سکرپس انسٹی ٹیوشن آف اوشنوگرافی کے مرجانی چٹانوں کے ماہر ماحولیات برائن زگلیزینسکی نے کہا ہوسکتا ہے کہ مرجان کی چٹانیں دوبارہ سے بننا شروع ہوں۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو انواع ناقص پانی میں رہ سکتی ہیں وہ پہلے واپس آئیں گی جبکہ مچھلیوں کو واپس آنے میں زیادہ وقت لگے گا۔

کھودی ہوئی ساحلی پٹی

مرجان کی چٹانوں کے نقصان سے ٹونگا کی بلند ہوتی ہوئی سمندری سطح اور طوفانوں میں اضافے سے نمٹنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔ 

یہ ٹونگا کے لیے تشویش کا باعث ہے جہاں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سمندر کی سطح تقریبا چھ ملی میٹر (0.2 انچ) سالانہ بڑھ رہی ہے، جو عالمی اوسط سے دوگنا ہے۔

2015 میں ٹونگا نے قدرتی طوفانوں کی شدت کو کم کرنے والے اپنے بفرز کی قیمت بشمول مرجان کی چٹانوں، ساحلی سمندری گھاس اور مینگرووز کی قدر تقریباً 1.1 کروڑ  ڈالر سالانہ کی تھی۔

حالیہ آتش فشاں پٹھنے کے ساتھ ٹونگا  سمندر کی سطح کے ناپنے والی گیج نے بند ہونے سے پہلے 1.19 میٹر (تقریباً چار فٹ) کی سونامی لہر ریکارڈ کی۔

سونامی تیزی سے ساحلی کٹاؤ کا سبب بنتے ہیں۔ مواصلاتی نظام خراب ہونے سے پہلے موصول ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے انسان کی بنائی ہوئی سمندری دیواروں کو نقصان پہنچا ہے۔

یونیورسٹی آف آکلینڈ کے وولکینولوجسٹ شین کرونین نے کہا کہ ساحلی دفاع اور دوبارہ حاصل کی گئی زمین سب سونامی کی لہروں سے سخت متاثر ہو سکتے ہیں جس سے جزائر مزید غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔اسی بارے میں:ویڈیوسمندرسونامیماحولیاتآتش فشاں

Visit To News Source
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments