جو چیز دوسرے بازاروں میں 10 ہزار کی ملتی ہے وہ یہاں 3 ہزار کی مل جاتی ہے۔۔ سستی خریداری کرنا چاہتے ہیں تو ان بزاروں سے اچھی جگہ کوئی نہیں ہوسکتی

“ بچوں کے کپڑے بہت جلدی چھوٹے ہوجاتے ہیں اس لئے مہنگے اور برانڈڈ کپڑے خریدنا صرف پیسے ضائع کرنے کے برابر ہے۔ میں بچوں کے کپڑے اور کھلونے ہمیشہ ان سستے بازاروں (لنڈا بازار) سے خریدتی ہوں اور انھیں دھونے کے بعد استعمال کرتی ہوں“

یہ کہنا ہے ایک ایسی خاتون کا جو اپنی خریداری خاص طور پر سردیوں کے کپڑے وغیرہ لنڈا بازار سے خریدنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ ڈان کو انٹرویو دیتے ہوئے شہناز کا کہنا تھا کہ لنڈا بازاروں میں معیاری چیزیں سستے داموں ملتی ہیں جو بازار میں موجود مہنگی اور لوکل چیزوں سے معیار میں کہیں زیادہ بہتر بھی ہوتی ہیں۔

اسی طرح بشریٰ بھی کہتی ہیں کہ انھوں نے کڑھائی والی جینز صرف 750 میں خریدی ہے۔ واضح رہے کہ کڑھائی والی جینز کی قیمت بازاروں میں زیادہ ہے اور اگرا جینز برانڈڈ بھی ہو تو بات کئی ہزاروں تک جاپہنچتی ہے۔

دکان داروں کے رویے میں بھی فرق آیا ہے

لنڈا بازار سے شاپنگ کرنا اگرچہ پہلے زیادہ اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا لیکن اب ہوشربا مہنگائی اور غیر معیاری چیزوں کو دیکھتے ہوئے غریب کے علاوہ امیر طبقے کے لوگ بھی سستے لنڈا بازاروں کا رخ کرنے لگے ہیں. یہاں خریداری کرنے والوں کا کہنا ہے کہ پچھلے کئی سالوں کی نسبت لنڈا بازاروں میں دکان دار اب بات بھی اچھے انداز میں کرتے ہیں اور چیزیں بھی صاف ہی فروخت کرتے ہیں۔

گھر کے استعمال اور الیکٹرانکس کی چیزیں بھی ملتی ہیں

کراچی میں مختلف مقامات پر لنڈا بازار موجود ہیں جہاں صرف باہر کی استعمال شدہ چیزیں ہی نہیں بلکہ باہر سے آئی ہوئی نئی اور ٹیگ لگی ہوئی چیزیں بھی سستے داموں میں مل جاتی ہیں۔ ان چیزوں میں قیمتی مہنگے بیگز، جوتے، کپڑے، سوئیٹر، جیکٹس، ہوم اپلائنسز، گھریلو استعمال کی چیزیں اور آرٹ سے منسلک چیزں بھی مل جاتی ہیں۔ کراچی کے مشہور لنڈا بازاروں میں گلشن اقبال، زمزمہ اور کلفٹن میں موجود لنڈا بازار شامل ہوتے ہیں جن میں اچھی چیزیں چھانٹنے کے لئے لوگ دور دراز کے علاقوں سے صبح صبح ہی پہنچ جاتے ہیں۔

چیزوں پر کم ٹیکس کی وجہ سے یہ سستی ملتی ہیں

ایک دکان دار کے مطابق باہر سے آنے والی ان چیزوں پر ٹیکس بہت کم لگتا ہے اس لئے یہ سستے داموں بیچی جاتی ہیں۔ شہریوں کے مطابق ایسے مشہور برانڈ کے بیگز جن کی اصل قیمت 10 ہزار یا اس سے زائد ہے وہ یہاں صرف 3 ہزار میں مل جاتے ہیں۔

News Source
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments