اومیکرون کے بعد آنے والی کورونا کی نئی قسم کتنی خطرناک ہے؟ ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

اومیکرون کورونا وائرس کا نیا ویرئینٹ بی اے۔ 2 ویرینٹ ڈنمارک اور دوسرے کئی ممالک میں تیزی سے پھیل رہا ہے البتہ اس سے اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ نہیں دیکھنے میں آرہا۔ اس سلسلے میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے کورونا وائرس پر کنٹرول سے تعلق رکھنے والی ٹیم کے ڈاکٹر بورس پاولین کا کہنا ہے کہ جن ملکوں میں نیا ویرئینٹ داخل ہوچکا ہے وہاں اسپتالوں میں اتنا بوجھ نہیں جس کی توقع کی جارہی تھی۔ نئے ویرئینٹ کے مقابلے میں اومیکرون زیادہ سخت ویرئینٹ ہے۔

ڈنمارک میں نیا ویرئینٹ پوری طرح داخل ہوچکا ہے


ویکسین نئے ویرئینٹ کے لئے بھی کارآمد ہے
ڈاکٹر پاؤلین کا کہنا ہے کہ کورونا سے بچاؤ کی ویکسین نئے ویرئنٹ سے تحفظ دینے کے لئے بھی اتنی ہی کارآمد ہے جتنی پہلے والے ویرئینٹس سے بچاؤ میں تحفظ دے رہی تھی۔ البتہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق وہ ممالک جو کورونا وبا کی سنگینی کو اہمیت نہیں دے رہے یا لگائی ہوئی پابندیاں اٹھارہے ہیں وہ درست نہیں کررہے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ یہ پابندیاں ہٹائی جائیں۔ وائرس ابھی بھی خطرناک صورت میں شہریوں کے درمیان موجود ہے۔

News Source

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments