dekh kar tujhy dukh main


ہم نے چرچا بہت سنا تھا تیری سخاوت کا

کیا معلو م تھا تم درد بھی دل کھول کر دیتے ہو


دل تو میرا اداس ہے ناصؔر

شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے

وہ یونہی مُجھ سے جُدا تو نہیں ہُوا شفقؔ

کِسی نے عرصہ لگایا ہے اِسے مُجھ سے بدگُماں کرتے ہوئے

وہ ناراض بھی نہیں ہے اور بات بھی نہیں کرتا

مُجھ پہ اِک نظر کی خیرات بھی نہیں کرتا

مرا خاموش رہ کر بھی انہیں سب کُچھ سُنا دینا

زُباں سے کُچھ نہ کہنا دیکھ کر آنسو بہا دینا

برسوں چلے قتیلؔ زمانے کی ساتھ ہم

واقف نہ ہوئے پھر بھی زمانے کی چال سے

شام ہوتے ہی چراغوں کو بُجھا دیتا ہوں

اک دل ہی کافی ہے تیری یاد میں جلنے کے لئے

ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اُچھالا دے دوں

میں نہیں کوئی تو ساحل پہ اتر جائے گا

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments