یوکرائن کا تنازعہ، امریکا سے تعلقات بہتر کیے جائیں یا روس سے دوستی نبھائی جائے؟ بھارت بری طرح پھنس گیا، مودی سرکار کی دوڑیں لگا دینے والی خبر آگئی

مریکہ اس معاملے میں ہندوستان کو اپنے ساتھ دیکھنا چاہے گا’ لیکن انڈیا سٹریٹجک طور پر بھی روس کے قریب ہے

یوکرائن کا تنازعہ، امریکا سے تعلقات بہتر کیے جائیں یا روس سے دوستی نبھائی جائے؟ بھارت بری طرح پھنس گیا، مودی سرکار کی دوڑیں لگا دینے والی خبر آگئی ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق امریکہ کی قیادت میں نیٹو ممالک اور روس کے درمیان یوکرین کے معاملے پر بڑھتے ہوئے تنازعے کے باعث انڈیا کی سفارتی حکمتِ عملی کی اب بھرپور آزمائش ہو رہی ہے کیونکہ یہ اپنے دو اہم سٹریٹجک شراکت داروں امریکہ اور روس کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکہ اس معاملے میں ہندوستان کو اپنے ساتھ دیکھنا چاہے گا۔ لیکن انڈیا سٹریٹجک طور پر بھی روس کے قریب ہے۔ نئی دہلی طویل عرصے سے روسی دفاعی ساز و سامان اور ہتھیاروں کا خریدار رہا ہے اس لیے اب بھی ماسکو پر اس کا انحصار برقرار ہے۔ انڈیا کو چین کے جارحانہ رویے کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے روس کا تعاون حاصل کرنا اس کے لیے اور بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ امریکہ اور روس کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش میں انڈیا نے 31 جنوری کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یوکرین کشیدگی پر بحث کے لیے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا لیکن جب بات چیت ہوئی تو وہاں موجود انڈیا کے نمائندے نے اس کشیدگی کو کم کرنے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کی اپیل کی۔

روس اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تنا کے درمیان انڈیا کی یہ بھرپور خواہش ہے کہ اس کے سٹریٹجک شراکت دار آپس میں نہ ٹکرائیں کہ کہیں دلی کو کسی ایک کی طرفداری نہ کرنی پڑ جائے، کیونکہ ایسے میں اس کا طویل عرصے سے قائم سٹریٹجک خود مختاری کا مقف خطرے میں پڑ جائے گا۔ سفارتی ماہرین میڈیا میں اس معاملے میں کھل کر اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ انڈین فوج کے ریٹائرڈ میجر جنرل ہرش ککڑ نے یکم فروری کو ایک مقامی انگریزی اخبار دی سٹیٹسمین میں لکھا کہ انڈیا کے لیے غیر جانبدار رہنا بہترین آپشن ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انڈیا کی غیر جانبداری نے امریکہ کو پریشان کر دیا ہے۔ اگر ہندوستان آکس (امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا کے اتحاد) کا رکن تھا تو اسے لازما امریکہ کا ہی ساتھ دینا ہوتا۔

انڈیا اپنی فوجی ضروریات کے لیے روس پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ انڈیا اپنا 55 فیصد فوجی ساز و سامان روس سے خریدتا ہے۔ انڈیا روس سے S-400 میزائل سسٹم خریدنا چاہتا ہے لیکن امریکہ نے اس پر اعتراض کیا ہے۔ امریکہ اس معاہدے کو منسوخ کرنے کے لیے انڈیا پر دبا ڈال رہا ہے لیکن انڈیا کا مقف ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی آزاد ہے اور وہ ہتھیاروں کی خریداری کے معاملے میں قومی مفاد کو ترجیح دیتا ہے۔

انڈیا بیجنگ کے ساتھ اپنے حل طلب سرحدی تنازعے پر کواڈ گروپ کی حمایت حاصل کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ اتحاد کا بھی خواہاں ہے۔ حکومت کے حامی انڈین نیوز چینل زی نیوز نے اپنے ایک پروگرام میں انڈیا کے اس مخمصے پر بات کی ہے۔ پروگرام میں بحث کی گئی کہ یوکرین کے معاملے میں نریندر مودی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ امریکی صدر جو بائیڈن اور روسی صدر ولادی میر پیوتن دونوں ہی انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے دوست ہیں۔ پروگرام میں کہا گیا کہ ہندوستان اور امریکہ کی بڑھتی ہوئی دوستی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ روس کے ساتھ اس کی پرانی دوستی کہیں سے بھی کمزور پڑ گئی ہے۔

News Source

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments