ہم ویلنٹائن ڈے کیوں مناتے ہیں 

تحریر ۔ مولانامحمداکرم اعوان

ڑی عجیب بات ہے لوگوں کو عشق ہو جاتا ہے اوریہ عشق ہمیشہ جنس مخالف سے ہی ہوتا ہے عشق کے لیے یہ ضروری نہیں کہ جنس مخالف ہو جنس مخالف ہماری ضرورت ہے ہم ضرورتوں کو محبت کا نام دے دیتے ہیں ۔ عشق کا نام دے دیتے ہیں ۔ یہ ہماری ضرورت ہے اور بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ شادی سے پہلے تو بڑا عشق ہوتا ہے اور چند ہفتے گزرتے ہیں تو نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے یعنی ایک دوسرے کو صحیح جانتے نہیں ہوتے جب ایک دوسرے پر کھلتے ہیں توکہتے ہیں کہ ہمارا تو گزارا نہیں ہو سکتا یہ کہاں کا عشق;238;عشق ایک کیفیت کانام ہے کہ جب آپ کو احساس ہو کہ کوئی میرا بہت ہی خیال رکھنے والا ہے مجھے خود اپنا اتنا خیال نہیں جتنا میری بہتری چاہنے والا میرا خیال رکھتا ہے اس کے جواب میں جوآپ کو اس ہستی سے محبت ہو گی ایک کیفیت آپ کے دل پر آئے گی آپ اس سے پیار کریں گے اسے اچھا جانیں گے اس کا احترام کریں گے اسی کا نام عشق ہے اور سوائے اللہ کے کوئی دوسرا اس کا مستحق ہی نہیں کہ سب سے زیادہ ہماراخیال وہی رکھتا ہے جو آنکھ کے ایک ایک ذرّے، باڈی کے ایک ایک سیل کی نشو نما کررہا ہے ہم اسے مانیں یا نہ مانیں ، ہم جانیں یانا جانیں وہ چلا رہا ہے پھر عشق ہے اس ذات کے ساتھ جس نے ہ میں اللہ سے آشنا کردیا اگر درمیان میں وہ ذات نہ ہو تو ہم اپنی سوچ، اپنی فکر سے اللہ تک نہیں پہنچ سکتے تو عشق وہ ہے جو آپ کو اپنے نبی ﷺ سے ہو گا جس نے آپ کی ہرضرورت کی خوبصورت راہ متعین کردی اگر آپ ان راہوں پرچلیں تو اس دنیا میں بھی آپ معزز و معتبراور آخرت میں بھی آپ معزز اور معتبر اور اللہ کی بارگاہ میں سرخرو ۔ انسانوں کا اتنا زیادہ بھلا چاہنے والاکون ہے;238; لوگوں نے پتھر برسائے،تلواریں چلائیں ، جنگیں کیں ، مخالفت کی لیکن اس ہستی نے ان کا بھی بھلا چاہا اللہ کریم نے فرشتوں کو فرمایا کہ میرے نبیﷺ سے اجازت لے لو اور طاءف والوں پر پہاڑ الٹ دوتوآپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ انہیں تباہ نہ کران کو ہدایت دے اور اگر یہ ہدایت نہیں پائیں گے تو شاید ان کی اولادیں ہدایت پا جائیں پتھر مارنے والوں کی بہتری چاہی حالانکہ خون مبارک نعلین مبارک میں جم گیا تھا، زخموں سے چور تھے اور اگرکوئی کسی شہر،کسی گاؤں جاتا ہے اور وہ اس کو پتھر مارنے لگ جائیں تو وہ کتنا صبر کرے گا;238; دل کی کیسی کیفیت ہو گی;238;پھر وہ بندہ ان پتھر مارنے والو ں کی بہتری چاہے تو کیسی کریم ذات ہے;238;اگر ہم ان کے کرم سے محروم ہیں تو اس کا مطلب ہے ہم نے رشتہ توڑا ہوا ہے وہ تو ان پر بھی کرم برساتے ہیں جنہوں نے انہیں پتھر برسائے تو اگر یہ نسبتیں پیدا ہو جائیں تو یہ عشق ہے باقی ہماری ضرورتیں ہیں بھائی پیسے سے محبت نہیں ہے پیسہ ہماری ضرورت ہے اقتدار سے محبت نہیں ہے اقتدار ہماری ضرورت ہے ہم خود کو بڑا بنانا چاہتے ہیں جنس مخالف سے محبت نہیں ہے ہماری ضرورت ہے ۔ ہاں کسی میں انسانیت ہو تو وہ محض اسے ضرورت نہیں سمجھتا پھر وہ اس کا احترام بھی کرتا ہے ۔ جنس مخالف جب ایک دوسرے کے قریب ہو جاتے ہیں تواگر دونوں کے رشتے میں خلوص ہو تودونوں ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں اسے محبت کہتے ہیں لیکن یہ بہت ادنیٰ درجہ ہے محبت کا یہ ضرورتوں کی محبت ہے ہم اولاد سے محبت کرتے ہیں بچوں سے پیار چھوٹے چھوٹے بچے راتوں کو جاگ کر پالتے ہیں کما کر کھلاتے ہیں بڑا ہو کر اگر کمائی نہ کرے نافرمان ہو جائے کہا ں جاتی ہے محبت;238; محبت ہوتی تو ختم نہ ہوتی ضرورت تھی پوری نہیں ہوئی تم ہم ڈس ہارٹ ہوگئے توقعات پوری نہیں ہوئیں اس کو ہم نے محبت کا نام دے رکھا

ہے کیونکہ یہ دولت سے محبت یا عورت سے محبت یہ ساری خرافات ہیں یہ ضرورتیں ہیں اور ضرورت کہیں سے بھی پوری ہوجاتی ہے کوئی ہ میں پیار سے پانی پلا دے تو ہ میں اس کا شکریہ تو ادا کرنا چاہیے لیکن یہ محبت کا ادنیٰ درجہ ہے اورعشق تو بہت بڑا جذبہ ہے جو میں نہیں سمجھتا کہ رسول ﷺ کے سوا کسی ہستی سے ہو سکتا ہے;238;

ملکوں میں آئین و دستوربنتے ہیں لیکن خود ان کے ملک میں اس پر عمل نہیں ہوتا کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک کے آئین کو تسلیم ہی نہیں کرتا انہیں وہ فٹ بھی نہیں بیٹھتا اور اس پروہ عمل کر بھی نہیں سکتے ان کے موسم الگ ہوتے ہیں لباس، رہائش اوربودوباش الگ ہوتی ہے طریقے الگ ہوتے ہیں لیکن فرمایا یہ زمانہ گواہ ہے اہل علم گواہ ہیں خود قلم گواہ ہے اور تمام وہ باتیں جو قلم سے لکھی گئیں وہ اس بات پر گواہ ہیں کہ یہ آپ ﷺ کا معجزہ عظیم ہے کہ آپ نے ایسا کردیا اور صرف اس وقت کے لیے نہیں تب سے لے کر قیامت تک یہ انقلاب جاری رہے گا تو دو طبقے بن گئے دو جماعتیں بن گئیں دوفریق بن گئے ایک اسلامی نظام کو مٹانے کے درپے ہے دوسرا اسلامی نظام کو زندہ قائم کرنے پر جانیں لٹا رہا ہے یادرکھیں جو لوگ اسلامی نظام کے حق میں ہیں وہ اس بات پر نہیں رہتے کہ حکومت نظام لائے توہم اختیار کریں گے وہ اپنی زندگی پہلے ہی اس نظام کے مطابق ڈھال لیتے ہیں اور حضور ﷺ کی معیت اسی کو نصیب ہو گی جو عقیدے عبادت سے لے کر عمل تک کو سنت کے مطابق ڈھال لے اگر کوئی چاہتا ہے مسلمان ہے کلمہ پڑھتاہے نمازیں پڑھتا ہے اچھی بات ہے زکوٰۃ دیتا ہے اور حج کرتا ہے اچھی بات ہے اللہ کریم اس کا قبول کرے صدقہ،خیرات کرتا ہے اچھی بات ہے لیکن اپنے روز مرہ کے لین دین، معامالات،عدالتیں ، سیاست،نظام تعلیم، معاشی اور معاشرتی نظام میں کہتا ہے یہ میں کافروں جیسے کروں گا انہیں ناراض نہیں کرنا جیسے بھی ہیں ان کے ساتھ دنیا میں رہنا ہے تو ان کو خفا نہیں کرنا اسے منافقت کہتے ہیں منافقت کفر کی بدترین قسم ہے اللہ ہ میں پناہ دے ۔ آج کے مسلمان ماسوائے چند خوش نصیب ریاستوں کے ساری حکومتیں اس میں پھنسی ہوئی ہیں کوئی امریکہ کی خوشنودی کے لئے کوئی روس کی رضامندی کے لیے کوئی یورپ کی خوشنودی کے لئے کافرانہ نظامِ معیشت،کافرانہ نظام عدالت، کافرانہ نظام تعلیم، کافرانہ لباس،کافرانہ حلیے، کافرانہ انداز، کافرانہ رسومات اپنائے ہوئے ہیں آپ نے کبھی سوچا ۔

الحمد للہ میں روئے زمین پر پھرا ہوں اللہ نے مجھے توفیق دی شلوار قمیض ویسٹ کوٹ اور پگڑی پسند کرتے تھے تعریف کرتے تھے عزت کرتے تھے یہ زرعی کھسے جو ہم پہنتے ہیں یہاں مجھ سے برطانوی اور امریکی نو مسلم لے کر گئے میں نے ایک امریکی سے پوچھا بھئی تم وہ کھسہ لائے تھے اس کا کیا ہوا;238;اس نے کہا وہ کھسہ میں نے ڈرائنگ روم میں دیوار سے ٹانگا ہوا ہے یعنی اتنا اسے وہ تحفہ نادر لگا لیکن کبھی آپ نے دیکھا کسی انگریز نے کھسہ پہنا ہوا ہو;238; کبھی دیکھا کسی انگریز نے شلوار قمیض پہنی ہو;238; روئے زمین پر کسی کافر کو دیکھا اس نے شیروانی پہنی ہو;238; تو پھرآپ کس خوشی میں ٹائی تک درست کررہے ہوتے ہیں ;238; آپ پتلون کوٹ اور ٹائی لگا کر مونچھ داڑی صاف کرکے اور ٹیڑھے بال کر کے انگریز بننے کی کس خوشی میں کوشش کر رہے ہیں ;238;کسی امریکن، کسی یورپین،کسی خاتون کو دیکھا اس نے برقعہ پہنا ہو، پردہ کیا ہو;238; کوئی اسلامی رسم جس کی وہ تعریف بھی کرتے ہیں ،پسند بھی کرتے ہیں ، کسی نے اپنائی;238; کسی کافر ملک نے رمضان کی یا قربانی کی عید منائی;238; کسی کافر ملک میں عید کے ایک دن پر چھٹی کی گئی;238; تو پھر وہاں جو خرافات ہوتی ہیں وہ آپ کیوں اپنا لیتے ہیں ;238; شرم نہیں آتی آپ کس

خوشی میں ویلنٹائن ڈے مناتے ہیں ;238; آپ کسی خوشی میں اپریل فول مناتے ہیں ;238; آپ کسی خوشی میں بلیک فرائی ڈے مناتے ہیں ;238; ہفتہ یہودیوں کا متبرک دن تھا اتوار عیسائیوں کا متبرک دن تھا جمعہ مسلمانوں کو متبرک دن کے طور پر عطا ہواہفتے کے دنوں میں سب سے مبارک دن اسے کافروں نے کہہ دیا یہ سیاہ دن ہے اور اس دن یہ یہ کام کرنے ہیں وہی کام اب آپ پاکستان میں کر رہے ہیں ہم مسلمان ہیں ;238; مسلمان دنیا سے گزر جاتا ہے تو مسلمان جمع ہو کر اس کی مغفرت کی دعا کرتے ہیں عیسائی، یہودی، کافرمرجاتا ہے تو وہ موم بتیاں جلاتے ہیں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرتے ہیں ان کے پاس کرنے کو کچھ نہیں آپ بھی اب موم بتیاں جلاتے ہیں اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرتے ہیں کبھی انہوں نے فاتحہ خوانی کی جس طرح آپ کرتے ہیں ;238; کبھی انہوں نے مرنے والے کے لئے دعا کی;238; کبھی انہوں نے مرنے والے کے لیے اپنی کتاب ہی بیٹھ کر پڑھی;238; قرآن نہ پڑھتے یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس کتاب ہے تورات و انجیل کبھی انہوں نے انہیں پڑھنے کا اہتمام کیا;238; تو پھر آپ کو شرم نہیں آتی آپ کس خوشی میں ان کے تہوار مناتے ہیں ;238; اور کیا یہ اسلام ہے;238; یہ منافقت ہے جو بدترین کفر ہے ۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments