لاء گیٹ ٹیسٹ


آئین پاکستان ایک جامع دستور ہے. جو ہر قانون ساز ادارے کو قوانین کی تشکیل میں مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے.مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں اپنی منشاء اور کمزوری کے تحت ایسے قوانین بنائے جاتے ہیں. جو آئین پاکستان کے بالکل متصادم ہوتے ہیں.  ان قوانین کو غیر آئینی قوانین کہا جاتا ہے. مگر ان کے دفاع میں قانون کی تشریح کرنے والے ادارے خوف کے سبب انہیں نظریہ ضرورت کا لبادہ اوڑھ کر جائز قرار دینے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں. تاریخ گواہ ہے. کہ ایسے ظالمانہ قوانین کبھی بھی سود مند ثابت نہیں ہوئے. ان قوانین کا بنیادی مقصد فرد واحد کو فائدہ پہنچانا ہوتا ہے. ماضی میں کئی بار آئین شکنی کی گئی. جس پر بجائے ایکشن لینے کے عدالت عظمیٰ نے ہربار اس اقدام کا دفاع کیا. کبھی نظریہ ضرورت کا کہہ کر تو کبھی ملکی مفاد کی بہتری کی گردان آلاپ کر. ان سب اقدامات کے ملک پر ہمیشہ منفی اثرات مراتب ہوئے ہیں. مگر بحیثیت قوم ہم نے ان واقعات سے کوئی سبق نہیں سیکھا. موجودہ دور میں بھی اسی روش کو اپنایا ہوا ہے. آج بھی ملک میں ایسے غیر آئینی اور کالے قوانین تشکیل دیئے جا رہے ہیں. گزشتہ دنوں صدارتی آرڈیننس کے ذریعہ سے پیکا نامی ایک قانون پاس کیا گیا. جس کی روح سے کوئی بھی شخص فیک نیوز نہیں دے سکتا. مگر اس آرڈیننس میں فیک نیوز کی وضاحت نہیں کی گئی. اب کیسے پتہ چلے گا. کہ کون سی خبر سچ پر مبنی ہے اور کون سی جھوٹ پر.اس آرڈیننس کا بنیادی مقصد ملکی میڈیا کی زبان بندی کرنا ہے. تاکہ وہ لوگوں تک سچ نہ پہنچا سکے. ستم ظرفی یہ کہ بغیر کسی تصدیق کے کسی بھی شہری کو حراست میں لیا جاسکتا ہے. اس کی ضمانت بھی نہیں ہو گی اور پانچ سال تک اس کو سزا دی جائے گی. آئین پاکستان ہر شہری کو مکمل طور پر اظہار رائے کی آزادی فراہم کرتا ہے. موجودہ حکومت تو میڈیا کی آزادی کی باتیں کرتی نہیں تھکتی تھی. اب خود اپنے ہاتھوں سے اس کا گلا گھونٹ رہی ہے. اسی طرح کا ایک ظالمانہ اور غیر آئینی قانون لاء گیٹ ٹیسٹ کے نام سے لاء کی ڈگری مکمل کرنے والے طالب علموں پر مسلط کیا گیا ہے. جس کے تحت لاء کی ڈگری کی تکمیل پر لائسنس اسی صورت میں ملے گا. جب وہ اس ٹیسٹ کو پاس کرے گے. لاء گیٹ ٹیسٹ بنانے والے جواز پیش کرتے ہیں. کہ ہم اس کے ذریعہ سے لاء کی ڈگری کی افادیت اور شعبہ وکالت کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں. جو ایک سفید جھوٹ کے سوا کچھ نہیں. اگر شعبہ وکالت کی بہتری مقصود ہوتی.تو اور بھی بہت سے طریقے اختیار کیے جاسکتے تھے. عدالت عظمیٰ کے کندھے پر بندوق رکھ کر لاء کے طالب علموں کا شکار کیا گیا ہے. تین سالہ لاء ڈگری پروگرام کی مدت کو بڑھا کر پانچ سال تک کر دیا گیا. سالانہ فیسوں کی مدد میں بھی طالب علموں سے بے پناہ زیادتی کی جا رہی ہے. 20 ہزار فیس کو بڑھا کر ایک لاکھ کر دیا گیا ہے. ایک غریب طالب علم پہلے تو پانچ سال میں پانچ لاکھ فیس ادا کرے. پھر ڈگری کی تکیمل پر ظالمانہ ٹیسٹ پاس کرے. فیل ہونے کی صورت وہ  کوئی اور کام کرے. یہ سراسر زیادتی ہے. آئین پاکستان ایسے کالے قوانین کی ہرگز اجازت نہیں دیتا. کیا عدالت عظمیٰ نے اس قانون کو بنانے والوں سے استفسار کیا کہ غریب نوجوان اتنی فیس کیسے دے گا. عدالت کی خاموشی عیاں کرتی ہے. کہ وہ غریب پر تعلیم کے دروازے بند کرنا چاہتی ہے. سرمایہ دار طبقہ نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے. سینئر ترین وکلاء کو بھاری بھرقم پیسے دیکر اپنی منشاء کے مطابق لاء کا کورس اور مدت طے کروا لی ہے. اس فیصلہ کے شعبہ وکالت پر منفی اثرات وقوع پذیر ہو گے. ذہین طالب علم غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں وہ موجودہ ظالمانہ فیس ادا نہیں کر سکتے. کہنے کو یہ اقدام وکالت کے پیشہ میں غنڈہ گرد عناصر کی سرکوبی کے لیے اٹھایا گیا ہے. مگر اس کی بدولت غنڈہ گرد عناصر کی زیادہ حوصلہ افزائی ہوگی . کیونکہ غنڈہ صفت لوگوں کے پاس پیسے کی فروانی ہوتی ہے. وہ ہی اب لاء کی ڈگری لیا کرے گے. غریب تو اب وکیل بننے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتا. عدالت عظمیٰ نے اپنی سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے. اس ظالمانہ قانون کی نہ صرف حمایت کی. بلکہ اس کو لازمی قرار دینے میں کلیدی کردار ادا کیا. ایسے کالے قوانین ہی ملک میں طبقاتی نظام کو پروان چڑھاتے ہیں. جو بالآخر انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں . ہمارے ملک میں نظام تعلیم کا اللہ ہی حافظ ہے. وکالت کےمقدس پیشے کی عظمت کے لیے وکلاء برداری نے لازوال قربانیاں دی ہیں. مگر عدالت عظمیٰ نے ان کی قربانیوں کی قدر کرنے کی بجائے. ان کے ہاتھ کاٹ کر HEC کے حوالے کر دیئے ہیں. یہ کمیشن ملک میں تعلیمی نظام کی آبیاری کرتا ہے. مگر بدقسمتی اس کی قابلیت کا اندازہ اس سے لگا لے. کہ حالیہ لاء گیٹ ٹیسٹ میں بہت سے سوالات غلط پوچھے گئے یا پھر ان کے جوابات غلط درج تھے. HEC کا اس میں کوئی قصور نہیں. کیونکہ وہ لاء کا سلیبس نہیں بناتا . یہ کام وکلاء کا ہے. انہیں ہی کرنا چاہیے. پہلے بار کونسلز ہی طالب علموں سے ڈگری کی تکیمل پر ٹیسٹ لیتی تھیں. عدالت عظمیٰ کو ان کی قابلیت پر شاید شک تھا. اس لیے اس نے HEC کو یہ اختیار سونپ دیا ہے. اب اس کی قابلیت کا منہ بولتا ثبوت ٹیسٹ میں ہونے والی غلطیاں بتا رہی ہیں. آئین پاکستان کے متصادم کوئی بھی قانون چاہے جتنی بھی اچھی نیت ہی سے کیوں نہ تشکیل دیا جائے. اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی. یہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ہمیشہ ناکام رہتا ہے. یہی لاء گیٹ ٹیسٹ میں ہو رہا ہے. کیونکہ اس کو بنانے والوں کی نیت اور ارادہ ٹھیک نہیں. انہوں نے بدنیتی پر مبنی اس کالے قانون کو لاء کے طالب علموں پر زبردستی مسلط کروایا ہے. وہ اپنی مرضی کے نتائج بھی چاہتے ہیں. جو انہیں مل رہے ہیں. آیندہ چند سال میں وکالت کے مقدس پیشہ میں قابل افراد کی شدید قلت دیکھنے کو ملے گی. اللہ تعالیٰ اس ملک کے پالیسی سازوں کوعقل سلیم عطا فرمائے . وہ قانون بناتے وقت اس کے نتائج پر بھی نظر رکھا کرے. بڑے بڑے منصوبوں پر براجمان ہو کر انتہائی ناقص فیصلے صادرکیے جاتے ہیں.جن کےمنفی اثرات پوری قوم کو بھگتنا پڑتے ہیں. عدالت عظمیٰ کو اس غیر آئینی اقدام پر فی الفور ایکشن لیتے ہوئے. اسے کالعدم قرار دیکر غریب طالب علموں کی دارسی فرمائے. شعبہ وکالت کی بہتری کے دیگر مثبت اقدامات بارے غوروفکر کرنا چاہیے. سینیر وکلاء اور ججزز پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے . جو شعبہ وکالت کی بہتری کے لیے باہمی مشاورت سے پالیسی تشکیل دے. مقصد وکالت شعبہ کی بہتری ہونا چاہیے نہ کہ غریب طالب علموں پر اس شعبہ کےدروازے بند کرنا. ایسے ظالمانہ اقدامات کی کوئی بھی ذی شعور شخص حمایت نہیں کرے گا. خدارا ذاتی انا کے خول سے باہر نکل کر وسیع تر مفاد میں قانون سازی کی جائے. جس کےمثبت اثرات غریب طالب علموں تک بھی پہنچ سکے. اور وہ جھولیاں اٹھا کر آپ کو دعائیں دے.

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments