فیصلہ کن جنگ کی تیاری ؟ ؟ ؟

تحریر۔۔۔ اوصاف شیخ

جنوبی پنجاب کے اہم ڈویژن ملتان کے ضلع وہاڑی کی ایک تحصیل میلسی جو کہ پاکستان کی مرکزی ریلوے لائن ، موٹر وے ۔اور جی ٹی روڈ سے دور برانچ لائن پر واقع ہے اس تحصیل میں پی ٹی آئی کے چئیرمین اور وزیر اعظم پاکستان نے جو جلسہ کیا اس میں دنیا نے دیکھ لیا کہ اپوزیشن کی گیارہ جماعتیں مل کر بھی کسی بڑے شہر میں ایسا جلسہ نہیں کر سکیں ۔ میلسی کے جلسہ نے ان چند اینکرز ، چند تجزیہ نگاروں اور اپوزیشن کے اس دعوی’ کو جھوٹا ثابت کر دیا کہ پاکستانی عوام عمران خان کی حکومت سے تنگ ہیں  اس سے چند روز قبل بھی وزیر اعظم نے  ایک کامیاب جلسہ کیا ۔ چند روز قبل وزیر اعظم نے کہا تھا کہ وہ اب عوام کے پاس جائیں گے ۔ جلسے کریں گے اور عوام کو حقیقت بتائیں گے اس اعلان کے بعد یہ دوسرا جلسہ ہے جو ایک چھوٹے سے شہر میں کیا گیا اور عوام کی کثیر تعداد میں شمولیت حکومتی دعووں کو سچ ثابت کرتی نظر آتی ہےمیلسی کے جلسہ کی اہم بات یہ ہے کہ جلسہ سے قبل ہی اندازے لگائے جا رہے تھے کہ اس جلسہ میں عمران خان زیادہ بولڈ ہوکر آئیں گے میں نے بھی یہی لکھا تھا اور ہوا بھی وہی ۔ وزیر اعظم کی باتوں اور ان کی باڈی لینگویج سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ اب ایک فیصلہ کن جنگ کے لیئے تیار ہیں ۔ جلسہ کے آخری چند سیکنڈز میں کہے گئے الفاظ سب سے اہم ہیں جو انہوں نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہے کہ آپ لائیں تحریک عدم اعتماد لیکن یہ بھی سوچ رکھیں کہ اس تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد میں آپ سے کیا کروں گااس سے قبل انہوں نے میلسی، وہاڑی، بوریوالہ کی ترقی کے لیئے چند اعلانات کرنے کے ساتھ ساتھ جنوبی پنجاب کے عوام سے کہا کہ ہم اسمبلی میں جنوبی پنجاب صوبہ کا بل لا رہے ہیں اب دیکھتے ہیں اپوزیشن کی جماعتیں جنوبی پنجاب کے عوام کے لیئے اس کی حمایت کرتی ہیں یا مخالفت ۔۔۔ یہ وزیر اعظم کا ایک چھکا ہے  یہ حکومت جنوبی پنجاب سے کیئے گئے صوبائی حیثیت دینے کے وعدے کی تکمیل کے لیئے جنوبی پنجاب میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور ایڈیشنل آئی جی کے دفاتر کے ساتھ ساتھ دیگر محکموں کے دفاتر بھی بنا چکی ہے جبکہ جنوبی پنجاب کو باقاعدہ صوبہ بنانے کے لیئے اسمبلی سے پاس کروانا ضروری ہے اور اس کے لیئے وزیر اعظم نے آج اعلان کیا کہ ہم جنوبی پنجاب صوبہ کا بل اسمبلی میں لا رہے ہیں عوام دیکھیں گے کہ اپوزیشن اس کے لیئے تیار ہوتی ہے یا نہیں ۔۔۔۔ یہ تو سبھی کو علم ہے کہ اپوزیشن کسی بھی حکومتی اقدام کی مخالفت کرے گی اور اگر ایسا کیا تو جنوبی پنجاب سے بری طرح اکھڑ جائے گی ۔ اپوزیشن جنوبی پنجاب صوبہ کی مخالفت کرے یا حمایت دونوں صورتوں میں فائدہ تحریک انصاف کو ہوگا یہ ہے اس وزیر اعظم کا سیاسی چھکا جسے اپوزیشن کہتی کہ سیاست نہیں آتی۔جلسہ میں وزیر اعظم نے امریکہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ صرف اپنا مطلب نکالتا ہے ۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اسی ہزار جانوں کی قربانی دی اربوں ڈالر کا نقصان اٹھایا لیکن امریکہ تعریف کرنے کی بجائے ڈو مور کا مطالبہ کرتا ہے اب یہاں سے امریکی جنگ نہیں لڑی جائے گی ہم کوئی امریکہ کے نوکر نہیں ہیں ۔۔۔ وزیر اعظم کا یہ بیان عالمی تناظر میں بہت اہمیت کا حامل ہے اس سے قبل وزیر اعظم امریکی مطالبات پر یکسر انکار کر چکے ہیں وزیر اعظم کا عالمی تناظر میں یہ بیان دنیا کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی واضع پالیسی کا اشارا ہے  کہ اب پاکستان کسی کی جنگ نہیں لڑے گا ماضی میں امریکہ کی جنگ لڑی اور امریکہ نے ہم پر ہی ڈرون حملے کئیے سابق حکمرانوں نے اس کے عوض ہیسے تو کمائے ہیں جو خاموش رہے لیکن موجودہ وزیر اعظم عمران خان جو وعدے اور دعوے کر کے آئے تھے ان پر عمل کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں ضروری تو یہ تھا کہ ملک کے اندر اپوزیشن چاہے حکومت کی مخالفت کرتی لیکن عالمی سطع پر پاکستان  کے وقار کے لیئے پالیسی پر مل بیٹھتی لیکن یہاں تو کچھ اور ہی نظر آ رہا ہے جیسے جیسے عمران حکومت مسائل پر قابو پا رہی ہے عالمی سطع پر پاکستان کے وقار میں اضافہ کی کوشش ہو رہی ہے جیسے جیسے عالمی سطع پر پاکستان کی ایک واضع پالیسی بنتی نظر آ رہی ہے ویسے ہی اپوزیشن کے کیمپوں میں تیزی آ رہی ہے کہ عمران خان کو اس کام سے روکا جائے ظاہر ہے یہ عمران خان کو روکنا نہیں بلکہ پاکستان کا نقصان کرنے کی کوشش ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کو صاف جواب ملنے کے بعد اب امریکہ ماضی کی طرح پاکستان میں اپوزیشن کو استعمال کر رہا ہے جن میں دینی جماعتیں بھی شامل ہیں اور سیاسی جماعتیں بھی ۔۔۔                      انہی تمام حالات کے ہیش نظر جہاں ایک طرف عالمی سطع پر محاذ گرم ہےاور دوسری طرف ملک کے اندر ایک انارکی پھیلانے کی کوشش جاری ہے تو وزیر اعظم عمران خان بھی شاید ایک فیصلہ کن جنگ کے لیئے تیار ہو چکے ہیں ۔ وہ اپنے دعوے کے مطابق ابھی تک کسی کو این آر او نہیں دے رہے نہ ان سے کسی سمجھوتے کے لیئے تیار ہیں اب عدالتیں فیصلے نہ دیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت غلط ہے ۔۔۔ سو عمران خان اپوزیشن کی کسی بھی دھمکی کسی بھی بلیک میلنگ میں آنے کی بجائے مقابلے کے لیئے تیار ہیں میلسی جلسہ کے اخری سیکنڈوں کی بات اس سلسلہ میں بہت اہم ہے جو انہوں نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہی کہ آپ شوق سے تحریک عدم اعتماد لائیں اس کی ناکامی کے بعد دیکھنا میں آپ کے ساتھ کیا کرتا ہوں 

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments