سیاسی شطرنج

پاکستان کی سیاست شطرنج کے کھیل کی مانند ہے. جس میں کچھ پتہ نہیں چلتا کہ سیاسی کھلاڑی کب کون سی چال چل دے. موجودہ سیاسی صورتحال میں تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما اپنی آخری چال چلنے کو بیتاب بیٹھے ہیں. ہر سیاسی جماعت دوسری سیاسی جماعت کی حرکات وسکنات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں. سب ایک دوسرے کو مات دینے کے چکر میں ہیں.کوئی بھی دوسرے پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں. ہر سیاسی جماعت اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے. اس وقت تک پاکستان پیپلز پارٹی سب سے بہتر چالیں چل رہی ہے. ایک طرف اس نے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کو نشانے پر رکھا ہوا ہے. دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں کو بھی شکست دینے کے لیے بہترین سیاسی حکمت عملی اختیار کی ہوئی ہے. پاکستان مسلم لیگ ن، جمعیت علمائے اسلام ف و دیگر اپوزیشن جماعتوں نے 23 مارچ کو مہنگائی مارچ کا اعلان کیا. تو پاکستان پیپلز پارٹی نے ان سے سیاسی سبقت لے جانے کے چکر میں 27 فروری کو کراچی سے اسلام آباد تک لانگ مارچ شروع کر دیا. پاکستان پیپلز پارٹی اکیلے ہی مقتدر حلقوں کو اپنی سیاسی حیثیت باور کروانا چاہتی تھی. یا پھر مقتدر حلقوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کو آیندہ حکومت سازی کے لیے گرین سگنل دے دیا ہے. جس کی وجہ سے بلاول بھٹو زرداری نے سولو فلائٹ کا پروگرام تشکیل دیا. جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب رہے. انہوں نے اس لانگ مارچ سے بہت سے سیاسی مقاصد حاصل کیے ہیں. ایک طرف صوبہ سندھ میں اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کیا. تو دوسری طرف صوبہ پنجاب میں اپنی جماعت کے مردہ جسم میں نئی روح پھونک دی. ان کا ناراض کارکن ایک بار پھر سے ان کی طرف واپس پلٹ آیا ہے. اس سیاسی چال پر پاکستان پیپلز پارٹی مبارکباد کی مستحق ہے. اس کے مقابلہ میں پاکستان مسلم لیگ ن موجودہ حالات میں کوئی اہم سیاسی کردار ادا نہیں کر پا رہی. یہ گروپنگ میں تقسیم نظر آتی ہے. پاکستان مسلم لیگ ن نے کوئی ایسی سیاسی چال نہیں چلی. جس کی وجہ سے ملکی سیاسی منظر نامہ پر اسے پذیر آرائی ملتی. پاکستان مسلم لیگ ن صرف اور صرف صوبہ پنجاب تک محدود ہو کر رہ گئی ہے. صوبہ سندھ میں اس کے پاس کوئی قد آور سیاسی شخصیت نہیں. جس کا صوبہ سندھ میں سیاسی اثرورسوخ ہو. اگر مسلم لیگ ن نے اپنی سیاسی حکمت عملی تبدیل نہ کی. تو آیندہ الیکشن میں یہ مزید سکڑ جائے گی. وزیراعظم عمران خان عمدہ کھیل پیش کر رہے ہیں. صوبہ پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ق اور جہانگیر ترین گروپ کے ساتھ مل کر عدم اعتماد لانے کی خواہاں ہیں. وزیراعظم عمران خان نے اپنے کھیل کے تجربہ کی روشنی میں صوبہ پنجاب میں جہانگیر ترین گروپ کی سیاسی اہمیت کو کم کرنے کے لیے ایک کامیاب چال چلی ہے. جس میں جہانگیر ترین گروپ پھنس گیا ہے. وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایک تجربہ کار کھلاڑی علیم خان کوجہانگیر ترین گروپ کے پاس بھیجا. جس نے انہیں سبز باغ دکھایا کہ میرے پاس 40 سے زائد ارکان صوبائی اسمبلی ہیں. آپ لوگ مجھے وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے نامزد کرے. جس پر انہیں مثبت اشارہ ملا. اس اعلان کے فوری بعد گورنر سندھ عمران اسماعیل نے وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر ان سے ملاقات کی اور انہیں یقین دہانی کروائی. کہ جلد آپ کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کروائی جائے گی. یہ سب کچھ ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت کیا گیا ڈرامہ ہے. وزیراعظم عمران خان اب بزدار سے بیزار ہو چکے ہیں. اس لیے وہ صوبہ پنجاب میں وزیر اعلیٰ کی تبدیلی چاہتے ہیں. مگر ان کی اس خواہش کی تکمیل میں چوہدری برادران سب سے بڑی رکاوٹ ہیں. علیم خان نے کچھ عرصہ قبل جب وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں سینیئر صوبائی وزیر کے منصب سےاستعفیٰ دیا تھا. یہ منصوبہ اسی وقت تشکیل دیا گیا تھا. اس منصوبہ کے تحت وزیراعظم عمران خان پنجاب میں جہانگیر ترین گروپ کے بڑھتے سیاسی اثر رسوخ کو کم کرنا چاہتے تھے. اور ساتھ ہی ساتھ چویدری برداران اور بزدار سے چھٹکارا بھی چاہتے تھے. وزیراعظم عمران خان نے عین موقع پر درست سیاسی چال چلی ہے. اس سیاسی چال سے جہانگیر ترین گروپ کا وجود ختم ہو کر رہ جائے گا. مگر شاید وزیر اعظم عمران خان بھول گئے. کہ پنجاب میں چوہدری برادران کی سیاست ختم کرنا ان کے بس کی بات نہیں. چوہدری برادران زیرک ساست دان ہیں. وہ ان کی ہر سیاسی چال کا جواب بہت اچھے طریقہ سے دے گے. چوہدری برادران  اس کھیل سے پہلے سے آگاہ تھے. اس لیے انہوں نے فوراً اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے. حکومت پر واضح کر دیا ہے. کہ علیم خان بطور وزیراعلیٰ پنجاب انہیں کسی صورت قبول نہیں. وزیراعظم عمران خان نے اپنے خلاف اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام بنانے کے لیے صوبہ پنجاب کی سیاست میں ہلچل برپا کر دی ہے. اب یہ اپوزیشن جماعتوں کی سیاسی بصیرت کا امتحان ہے. کہ وہ وزیراعظم عمران خان کی اس سیاسی چال کا جواب کیسے دیتے ہیں. وزیراعظم عمران خان نے اب تک تمام تجربہ کار سیاست دانوں کو پریشان کر کے رکھا ہوا ہے. اب ان تجربہ کار سیاست دانوں کے امتحان کا وقت ہے. کہ وہ سب مل کر کیا کرتے ہیں. انہوں نے ایک ناتجربہ کار سیاست دان کے خلاف اپنا سیاسی مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے. موجودہ سیاسی کھیل میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان مسلم لیگ ن کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے. وفاق اور صوبہ پنجاب میں اکثریت میں ہونے کے باوجود اسے قربانی دینی پڑ رہی ہے. پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت کو کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل اپنے سیاسی مستقبل کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے. کہی وزیراعظم عمران خان کی مخالفت میں اپنی سیاسی جماعت کا مستقبل تاریک نہ کر لے. سابق صدر آصف علی زرداری بہترین سیاست کر رہے ہیں. انہوں نے موجودہ سیاسی صورتحال اور مستقبل کے لیے بہترین حکمت عملی اختیار کی ہے.جس کے مقابلہ میں پاکستان مسلم لیگ ن کی کوئی سیاسی حکمت عملی نظر نہیں آتی. بلاول بھٹو زرداری نے اپنی سیاسی اننگ کا بھرپور آغاز کیا ہے.انہوں نے صوبہ سندھ میں طلبہ یونین کی بحالی کے اقدام سے ملک بھر کے طالب علموں کے دل جیت لیے ہیں. پاکستان مسلم لیگ ن میں محترمہ مریم نوازشریف ایک ایسی سحر انگیز شخصیت کی مالک ہے. جو عوام میں کافی پذیرائی رکھتی ہے. مگر کچھ عرصہ سے وہ بھی سیاسی منظر نامہ سے بالکل غائب ہے. لگتا ہے وہ اس سارے سیاسی کھیل سے مطمئن نہیں. مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کو اس موقع پر اپنی سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرنا ہوگا. تاکہ پاکستان مسلم لیگ ن کی گرتی ہوئی ساخت میں اضافہ ہو سکے. مولانا فضل الرحمان بھی اس سیاسی کھیل میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں. پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کو اکٹھے رکھنے میں ان کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں. تمام کھلاڑی بہت ہی عمدہ طریقہ سے شطرنج کی چالیں چل رہے ہیں. دیکھے جیت کس کے مقدر میں آتی ہے. آنے والے دن ملکی سیاست میں بہت اہمیت کے حامل ہیں. لمحہ بہ لمحہ سیاسی صورتحال تبدیل ہو رہی ہے. کسی بھی وقت کوئی اہم خبر عوام کو سننے کو مل سکتی ہے.

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments