اعصاب کا امتحان

پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال سیاسی رہنماؤں کے اعصاب کا کڑا امتحان ہے. حکومت اور اپوزیشن دونوں ایک دوسرے کے اعصاب کو مفلوج کرنے کے لیے تابڑ توڑ حملے کر رہی ہے . ان کے اعصاب کی مضبوطی کا اندازہ عوام ان کے بیانات سے بخوبی لگا رہی ہے. حکومت کی جانب سے عوام سے رابطہ مہم کے سلسلہ میں جلسوں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے. جن سے وزیراعظم عمران خان خطاب کر رہے ہیں. اور عوام کو اب تک کی اپنی حکومتی کارگردگی سے آگاہ کر رہے ہیں . شاید ان کے پاس اپنی کارگردگی بتانے کے لیے معقول الفاظ نہیں. یا ان کے نزدیک ان کی حکومتی کارگردگی ایسی نہیں. جس کو عوام میں پذیرائی مل سکے. اس لیے وہ عوامی اجتماعات میں اپنے سیاسی مخالفین کے نام بگاڑتے ہیں. جس سے ان کی ذہنی صلاحیتوں کا پتہ چلتا ہے. کاش یہ اس بات کو سمجھ پاتے. کہ وہ ملک کے وزیراعظم ہے. کسی ایک سیاسی جماعت کے نہیں. وہ جب بات کرتے ہیں. تو یہ عمران خان نہیں بولتا . بلکہ وزیراعظم پاکستان بولتا ہے. اس لیے انہیں اپنے منصب کا تو کچھ پاس کرنا چاہیے. بیرونی دنیا میں بحیثیت قوم ہمارا پہلے ہی جو مقام ہے. وہ سب جانتے ہیں. اب اگر ہمارا سربراہ حکومت ایسی زبان بولے گا. تو پیچھے کیا رہ جائے گا. بقول ان کے اپوزیشن جماعتوں کے سارے رہنما چور ڈاکو ہیں. تو عوام نے آپ کو انہیں چوروں کا احتساب کرنے کے لیے حکومت سازی کا موقع دیا تھا. مگر آپ کے ارد گرد بیٹھے ہوئے لوگوں نے احتساب کے نام پر مال بنانا شروع کر دیا. جس کی وجہ سے مہنگائی، بے روزگاری غربت میں بے پناہ اضافہ ہوا. آپ کے ناقص احتسابی عمل کی وجہ سے عوام کو یہ احتساب کا نعرہ محض ایک ڈرامہ لگنا شروع ہو گیا ہے. آپ کی صفوں میں موجود لوگوں پر اربوں روپے کی کرپشن کے کیس ہیںمگر انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں. دوسری طرف چن چن کر اپوزیشن جماعتوں کے لوگوں کو احتساب کی آڑ میں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس لیے اب عوامی اجتماعات میں جب آپ کی طرف سے چور ڈاکو کے طعنے دیئے جاتے ہیں تو عوام اس پر دھیان نہیں دیتی . کیونکہ وہ سمجھ گئی ہے. کہ یہ محض ایک سیاسی نعرہ ہے. جو ہر دور حکومت میں سیاسی مخالفین کے خلاف لگایا جاتا ہے. مولانا فضل الرحمان سربراہ جمعیت علمائے اسلام ف کی جتنی تذلیل آپ نے کی ہے. شاید ہی کسی اور دور حکومت میں کی گئی ہو. مولانا فضل الرحمان ایک مذہبی شخصیت ہے. ان کی سیاسی سوچ سے اختلاف کیا جا سکتا ہے. مگر ان کے مذہبی علم سے کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا.ان کے لاکھوں کی تعداد میں طالب علم ہیں. جو ان کے قائم کردہ مذہبی ادارہ جات سے فارغ التحصیل ہو کر ملک بھر میں دینی خدمات سرانجام دے رہے ہیں. جب آپ مولانا فضل الرحمان کی تذلیل کرتے ہیں. تو اس کا مطلب ہے. کہ آپ ایک مذہبی فقہ کی تذلیل کر رہے ہیں. جس کے ملکی سیاست پر مثبت اثرات رونما نہیں ہو گے. سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے بارے میں آپ کے الزامات بھی صداقت پر مبنی نہیں. آپ نے ان کو جیلوں میں قید رکھا. مگر نکلا کچھ نہیں. اب آپ کو ان الزامات سے کنارہ کشی کرتے ہوئے. اپنی حکومتی کارکردگی کو بہتر کرنا ہوگا. کیونکہ عوام کو اپوزیشن کی کرپشن سے سروکار نہیں. اس کو آپ کی طرز حکومت سے غرض ہے. اگر آپ کی طرز حکومت اچھی اور بہتر ہو گی. تو عوام کو بہترین معیار زندگی میسر آئے گا . حکومت کا کام اپنے سیاسی مخالفین کی کردار کشی کرنا نہیں ہوتا. بلکہ اپنے طرز حکومت سے عوام کی زندگیوں کو آسان بنانا ہوتا ہے. ماضی میں جو کچھ ہوتا رہا. اسے چھوڑ کر آگے بڑھے. کب تک ماضی کو روتے رہے گے. اس وقت کی سیاسی صورتحال میں تمام سیاسی جماعتوں کا امتحان ہے. عوام دیکھ رہی ہے. کہ کون  اپنے ذاتی مفادات کو ملکی مفادات پر ترجیح دے رہا ہے. کچھ سیاسی رہنما اور جماعتیں اپنی بولی زیادہ سے زیادہ لگوانے کے چکر میں ہیں. کوئی وزارت اعلیٰ تو کوئی گورنر شپ کے پیچھے بھاگ رہی ہے. عوام کے مفادات سے انہیں کوئی غرض نہیں. وزیراعظم عمران خان کی ہٹ دھرمی نے انہیں سیاسی طور پر تنہائی کا شکار کر دیا ہے. آپ اپنے سیاسی حلیف اور حریف کسی پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں. آپ کا یہی رویہ ملک کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے. اسی رویہ کی وجہ سے ملک بیرونی دنیا میں تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے. آپ فرشتہ ہے. مگر یہ دنیا گناہ گار انسانوں سے بھری پڑی ہے. آپ کا یہاں گزارہ مشکل ہے. آپ کو ان کی غلطیوں، کوتاہیوں کو درگزر کرنا سیکھانا ہو گا. ہر سیاسی جماعت اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے. دوسری سیاسی جماعت کے اعصاب سے کھیل رہی ہے. دیکھے کون مضبوط اعصاب کا مالک ثابت ہوتا ہے. اس سارے سیاسی کفیل میں جو کھلاڑی سب سے بہترین کھیل رہا ہے. وہ سابق صدر آصف علی زرداری ہے.انہوں نے اپنے متعلق حکومتی بیانات کا کوئی جواب نہیں دیا. بلکہ خاموش رہ کر حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں. ایم کیو ایم پاکستان کو بھی انہوں نے کمال مہارت سے اپنے ساتھ چلنے پر آمادہ کر لیا ہے. پاکستان مسلم لیگ ق اور باپ پارٹی سے بھی کافی حد تک معاملات طے پا گئے ہیں. یہ سب کچھ سابق صدر آصف علی زرداری کی دور اندیشی کی بدولت ممکن ہو پا رہا ہے. دوسری طرف وزیراعظم عمران خان اپنی ذاتی انا کے خول سے باہر نکلنے کو تیار نہیں. آنے والے چند دن ملکی سیاست میں انتہائی اہم ہیں. حکومت وقت مکمل طور پر بوکھلاہٹ کا شکار نظر آتی ہے. اپوزیشن جماعتوں نے اس کے اعصاب کو بڑی حد تک مفلوج کر کے رکھ دیا ہے. اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت جواب دے گئ ہے. حکومتی وزراء کی مایوسی ان کے بیانات سے عیاں ہوتی ہے. وہ اپنی اتحادی سیاسی جماعتوں پر الزامات کی بوچھاڑ کر رہے ہیں. اپوزیشن کے پاس حکومتی اتحادی جماعتوں کو دینے کے لیے بہت کچھ ہے.اس کے مقابلہ میں حکومت انہیں کچھ نہیں دے سکتی. اس لیے اب سیاسی کھیل کے نتائج اپوزیشن جماعتوں کے حق میں جاتے نظر آ رہے ہیں. حکومت نے اپنا آخری پتہ کھیلتے ہوئے. عدم اعتماد سے ایک روز قبل ڈی چوک میں عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا پروگرام تشکیل دیا ہے. جبکہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے اپوزیشن جماعتوں نے بھی مہنگائی مارچ کا اعلان کر رکھا ہے.  مہنگائی مارچ 24 مارچ کو اسلام آباد میں داخل ہو گا اور 28 مارچ تک وہی پڑاؤ ڈالے گا. جس سے حکومت اور اپوزیشن کے کارکنوں کے درمیان خونی تصادم کا خطرہ ہے. اگر ایسا ہوا تو یہ ملک اور جمہوری نظام  کے لیے زہرہ قاتل ثابت ہو گا. حکومت اور اپوزیشن کو ہوش کے ناخن لینا ہوگے. ان کی آپسی لڑائی میں عوام کا کوئی مفاد نہیں. وزیراعظم عمران خان پر زیادہ ذمہ داری ہے. انہیں موجودہ حالات میں تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنا ہوگا. اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک ایک آئینی حق ہے. جس سے اسے کسی صورت نہیں روکا جاسکتا. اعصاب کی لڑائی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے. دیکھے اس کا کیا نتیجہ برآمد ہوتا ہے. اللہ تعالیٰ ملک پاکستان اور عوام پر اپنا رحم فرمائے.

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments