آئین پاکستان کی جیت

پاکستانی سیاست ہر دور میں اضطراب کا شکار رہی ہے. مگر گزشتہ چند ماہ سے تو سیاسی صورتحال اس قدر گھمگیر ہو گئی تھی. کہ کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا. کہ کیا ہونے والا ہے. ہماری ملکی سیاست میں اخلاقی روایات کا بھی جنازہ نکلتا جا رہا ہے. اس کی بڑی وجہ خاندانی لوگوں کا سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنا ہے. خاندانی لوگ اپنے سیاسی حریف کی مخالفت کرتے ہوئے. اپنی خاندانی روایات کا پاس رکھتے ہیں. موجودہ سیاسی صورتحال میں گالم گلوچ و عدم برداشت حد سے بڑھ چکی ہے. ہماری سیاسی جماعتیں حکومت سازی کے لیے جو جو حربے استعمال کرتی ہیں. ان کی بدولت ان کے کارکنوں میں عدم برداشت کا کلچر پروان چڑھتا ہے. وزیراعظم عمران خان اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں. وہ سب کو چور ڈاکو کہتے ہیں. گزشتہ دو ماہ سے تو انہوں نے عوامی اجتماعات میں اپوزیشن کے رہنماؤں کے نام بگاڑنا شروع کر دیئے تھے. یہ کسی بھی طرح سے درست فعل نہیں تھا. کیونکہ ایسا کرنا ان کے منصب کے شایان شان نہیں تھا. دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں کے رہنما جو کہ کئی دہائیوں سے سیاست کے میدان میں کھیل رہے ہیں. انہوں نے آپس میں سر جوڑ لیا. اور اس حکومت سے نجات کے لیے تگ و دو کرنے کا پروگرام تشکیل دیا. اسی مقصد کے لیے تمام اپوزیشن جماعتوں نے ایک گرینڈ الائنس پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے تشکیل دیا. اس میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے کچھ نکات پر اتفاق کیا. کہ ان پر مرحلہ وار عمل کیا جائے گا. پاکستان پیپلز پارٹی ایوان میں رہ کر جمہوری طریقہ سے حکومت کے خلاف محاز کھولنا چاہتی تھی. مگر پاکستان مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام ف جارحانہ کھیل کھیلنا چاہتی تھیں . وہ اس موجودہ اسمبلیوں سے فی الفور مستعفی ہونے اور تمام ضمنی الیکشن کا بائیکاٹ کرنے پر بضد تھیں . مگر سابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری اس کے خلاف تھے. انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو قائل کیا. کہ ضمنی الیکشن میں بھرپور حصہ لے. جس کے نتیجہ میں ملک بھر میں جتنے بھی ضمنی الیکشن منعقد ہوئے سب میں اپوزیشن نے بھرپور طریقہ سے فتح حاصل کی. مگر اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے معاملہ پر ان میں اتفاق نہ ہو سکا. جس کی وجہ سے پاکستان پیپلز پارٹی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے الگ ہو گئی. جس پر حکومت وقت نے خوشی کے شادیانے بجائے. مگر اس کی یہ خوشی عارضی ثابت ہوئے.  وزیراعظم عمران خان اس موقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے. انہوں نے اپنے جارحانہ رویہ کی بدولت انہیں پھر سے ایک سیاسی پلیٹ فارم پر یکجا کر دیا. سابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے ایک بار پھر سے اپوزیشن جماعتوں کو موجودہ اسمبلی کے اندر رہتے ہوئے اس حکومت سے آئینی طریقہ سے نجات حاصل کرنے پر آمادہ کیا. جس کے بعد اس حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر غور شروع کیا گیا. مگر اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں بھی وزیراعظم عمران خان کا بھر پور کردار ہے. انہوں نے عوامی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے. اپوزیشن جماعتوں کو طیش دلایا. کہ اگر ان میں ہمت ہے تو میرے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لازمی لیکر آئے. شاید انہیں قوی یقین تھا کہ یہ ایسا نہیں کر پائے گی مگر اس دفعہ ان کی امید اور سوچ کے برخلاف سابق صدر آصف علی زرداری نے فرنٹ پر آتے ہوئے ان کے چیلنج کو قبول کیا. اور تحریک عدم اعتماد پر پاکستان مسلم لیگ ن، جمعیت علمائے اسلام ف و دیگر جماعتوں کو یکجا کیا. اور تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی میں پیش کر دی. دیگر سیاسی جماعتیں خوف زدہ تھیں. کہ اگر یہ عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہو گئی تو ہماری سیاست ختم ہو جائے گی. اس غیر یقینی صورتحال میں مرد آہن سیاست کے شہنشاہ آصف علی زرداری نے سر دھڑ کی بازی لگانے کا پختہ ارادہ کیا. اور کمر کس کر اس حکومت کے خلاف میدان میں اتر گئے. انہوں نے اپنی سیاسی فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے. ایک ایک کرکے حکومتی اتحادی جماعتوں کو الگ الگ کرتے رہے.  وزیراعظم عمران خان اپنے غرور اور تکبر کی وجہ سے اس مرحلہ پر ناکام ہو گئے. انہوں نے اپنی جماعت کے ممبران کے ساتھ ساتھ اپنے سیاسی حلیفوں کو بھی منانے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی. وہ صرف اور صرف اپنی عوامی مقبولیت پر اکتفادہ کر رہے تھے.. جب انہیں اپنے ہاتھ سے کھیل نکلتا دیکھائی دیا. تو انہوں نے غیر آئینی اقدام کے ذریعہ سے موجودہ اسمبلی کو تحلیل کر دیا. جس پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے از خود نوٹس کی کاروائی کا آغاز کیا. کیونکہ سپریم کورٹ آف پاکستان نہیں چاہتی تھی کہ ملک میں کوئی غیر جمہوری طاقت مسلط ہو جائے. اس لیے عدالت عظمیٰ نے آئین پاکستان کی سربلندی کے لیے اس غیر یقینی صورتحال پر ایکشن لیتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں پانچ رکنی لاجر بینج تشکیل دیا . جس نے ملک پاکستان کو اس غیر یقینی صورتحال سے نکالنے کے لیے انتھک محنت کی. وزیراعظم عمران خان ایک مراسلہ کا سہارا لیکر اس سیاسی سیٹ اپ کو لپیٹنا چاہتے تھے. عدالت عظمیٰ نے تمام فریقین کو اپنا اپنا نقطہ نظر بیان کرنے کا تفصیلی موقع فراہم کیا. پانچ دن کی مسلسل سماعت کے بعد بالآخر گزشتہ شب عدالت عظمیٰ نے ایک تاریخ ساز فیصلہ سنایا. جس کی روشنی میں قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے. تحریک عدم اعتماد کو بحال قرار دیا گیا. اور وزیراعظم عمران خان کی طرف سے اسمبلی کی تحلیل کے عمل کو بھی غیر آئینی قرار دیتے ہوئے. قومی اسمبلی کو بحال کر دیا گیا . اس تاریخ ساز فیصلہ کے بعد ملک بھر میں بحث کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا . کوئی اس کو اپوزیشن کی جیت تو کوئی حکومت کی شکست سے تشہبی دے رہا ہے. مگر ایسا کچھ نہیں اس میں کسی کی ہار جیت نہیں ہوئی. عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کے مطابق آئین پاکستان کی جیت ہوئی ہے. جس کے تحت حکومت اور اپوزیشن دونوں نے سیاست کرنی ہے. اگر ملک کا آئین مضبوط ہو گا. تو ہی سیاسی جماعتوں کو حکومت سازی کا موقع میسر آئے گا. حکومت کو کھلے دل سے اس فیصلہ کو قبول کرتے ہوئے. عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کروانی چاہیے. اگر عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جاتی ہے تو عمران خان کی سیاست ختم نہیں ہو جانی. انہیں اسمبلی میں اپنا بھرپور سیاسی کردار ادا کرنا چاہیے. اپوزیشن جماعتوں کو بھی چاہیے کہ کامیابی کی صورت میں انتقامی کارروائیوں سے گریز کرتے ہوئے. ملک و قوم کی بہتری کے لیے مل جل کر کام کرے. عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس سمیت بینچ کے دیگر ججوں کے نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جانے گے. جہنوں نے آئین پاکستان کی سربلندی کے لیے قانون کے مطابق فیصلہ صادر کیا ہے. سب فریقین کو اسے کھلے دل سے تسلیم کرتے ہوئے. ملک کی بہتری کے لئے مل جل کر کام کرنا ہوگا. ملک میں سیاسی غیر یقینی کسی کے حق میں نہیں. یہ ملک ہے. تو سب کچھ ہے. خدارا اپنی اپنی ذاتی انا سے باہر نکل کر ملکی مفاد کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے. مل جل کر چلنے کا عہد کرے. کسی شر پسند کے بہکاوے میں آکر اپنا اور ملک کا نقصان ہرگز مت کریں.

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments