تاریخی عمارت وزیر مینشن کراچی(قائداعظم ہاوس)

تحریر: علی رضا رانا (حیدرآباد،سندھ)

آج میں موجود ہوں کراچی کے قدیمی کاروباری علاقے کھارادر میں اور کھارادر کا شمار کراچی کے قدیم اور مصروف ترین علاقوں میں ہوتا ہے، یہ شہر کراچی کا ایک اہم کاروباری مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے، یہاں رِکشوں ، موٹر سائیکلوں اور دیگر چھوٹی بڑی گاڑیوں کے ہجوم کے علاوہ جا بجا قدیمی طرزِ عمل اپنائیں محنت کَش بھی بھاری بھر کم سامان سے لَدی ہتھ گاڑیاں کھینچتے دکھائی دے رہے ہیں ، اس علاقے میں قدیم ترین عمارتوں کی ایک دنیا آباد ہے، میں اس وقت موجود ہوں کھارادر کی چھاگلہ اسٹریٹ (موجودہ نام برکاتی اسٹریٹ) پر جہاں ایک کونے پر ’’وزیر مینشن‘‘ نامی ایک تین منزلہ عمارت واقع ہے، جو بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کی جائے پیدائش کے طور پر مشہور ہے، مذکورہ مقام پر نیو میمن مسجد کی جانب سے با آسانی جایا جاسکتا ہے، میمن مسجد کے دائیں جانب یعنی شمالی دروازے کی طرف بولٹن مارکیٹ سے مغربی سمت میں کچھ فاصلہ طے کرنے پر اخوند مسجد آتی ہے، جس کی دیوار سے جڑی عمارت وزیر مینشن جائے پیدائش حضرت قائداعظم;231; واقع ہے ۔ حضرت قائداعظم محمد علی جناح کے والدین سکینہ بانو اور مسٹر جناح پونجا 1874ء کے بعد اپنے آبائی گاوں پنیلی سے کراچی منتقل ہوئے اور اس طرز تعمیر میں انہیں 2 کمروں کا اپارٹمنٹ ملا یہ 25 دسمبر 1876ء کا ایک شاندار اور تاریخی دن تھا جب قائداعظم محمدعلی جناح بانی پاکستان نے اس دنیا میں قدم رکھا، پیلے پتھروں اور لال جالی والی خوبصورت عمارت جہاں 25 دسمبر1876 کو بانی پاکستان نے اپنی آنکھ کھولی، سادگی میں ڈھلی ہوئی یہ عمارت باہر سے نہیں بلکہ اندر سے بھی خوبصورت ہے اگر بات کی جائے اس فن تعمیر کے مالکان کی تو ان میں گووردھن دھاس بھی تھے جن سے وزیر علی پون والا نے اسے 1940ء کی دہائی میں خریدا تھا، پاکستانی حکومت نے 1953ء میں اس قدیم کمپلیکس کو حاصل کیا، اس عمارت کی اہمیت کو بہتر بنانے اور بڑھانے کے لیے حکومت پاکستان نے اسے وزیر مینشن قائداعظم محمد علی کی جائے پیدائش کا نام دیا تھا ۔ وزیر مینشن میں داخلے کا راستہ نچلی منزل پر گلی کی جانب سے ہے، یہ ایک تین منزلہ پیلے رنگ کی عمارت ہے، نچلی منزل ہال نما ہے، جہاں لائبریری قائم ہے، ایک طرف کتابوں کے قفل زدہ شیلف ہیں اور دوسری جانب میز اور کرسیاں رکھی گئی ہیں ، لائبریری میں قائد اعظم اور پاکستان و ہندوستان کی تاریخ پر مشتمل بڑا ذخیرہ موجود ہے، لائبریری میں بڑی تعداد میں قانون کی 150 سال قدیمی کتابیں موجود ہیں ، اندرونی احاطے میں داخلی دروازے کے سامنے بالائی منزل پر جانے کے لئے لکڑی کی سیڑھیاں ہیں ، جس کے ایک جانب دیوار پر جنوبی افریقہ کے انقلابی رہنما نیلسن منڈیلا کی تصویر لگی ہے، جس کے بارے میں نگران منیر خیال کا کہنا تھا کہ 1992ء میں جب نیلسن منڈیلا پاکستان آئے تھے تو انہوں نے وزیر مینشن کا دورہ بھی کیا تھا، سیڑھیوں کے دوسری جانب دیوار پر قائد اعظم کی تصویر آویزاں ہے، جس میں وہ ڈان اخبار کا مطالعہ کر رہے ہیں ، عمارت کی پہلی منزل، جہاں قائد اعظم کے والد جناح پونجا رہائش پذیر رہے، وہ تین کمروں میں تقسیم ہے، ہر کمرہ دوسرے کمرے میں کھلتا ہے، دروازے کے ساتھ پہلا کمرہ بیٹھک کے طرز پر بنایا گیا ہے، جس میں قائد اعظم کے زیر استعمال رہنے والے صوفے رکھے گئے ہیں ، دوسرے کمرے میں قائد اعظم کی قانون کی کتابوں کے دو بڑے شیلف ہیں ، دیوار کی جانب ایک میز اور کرسی بھی ہے، جنہیں قائد اعظم مطالعہ کے وقت زیر استعمال لاتے تھے، کمرے کے درمیان میں ایک اور کرسی رکھی گئی ہے، جس پر انگریزی میں تحریر ہے کہ اس کرسی پر قائد اعظم بطور گورنر جنرل کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بیٹھا کرتے تھے ۔ تیسرا کمرہ بیڈ روم ہے، جہاں بیڈ، صوفے اور سنگھار میز نفاست سے رکھے گئے ہیں ، یہ فرنیچر بھی قائد اعظم کے زیر استعمال رہا ہے، میوزیم کے نگران منیر خیال کے مطابق یہی وہ کمرہ ہے، جہاں 25دسمبر 1876ء کو قائد اعظم کی ولادت ہوئی تھی عمارت کی دوسری منزل بھی گراءونڈ فلور کی طرح ہال نما ہے، جہاں قائد اعظم محمد علی جناح کی دوسری اہلیہ رتن بائی کا جہیز کا فرنیچر موجود ہے اور قرآن پاک کا نسخہ موجود ہے ساتھ ہی قائد اعظم محمدعلی جناح کے ملبوسات، جوتے و دیگر زیر استعمال اشیا موجود ہیں ، اس سے اوپر تیسری منزل سندھ رینجرز کے پاس ہے، جہاں عمارت کی نگرانی و حفاظت کی غرض سے چوکی قائم کی گئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے قائداعظم محمد علی جناح کے درجات بلند فرمائے، پاکستان زندہ باد آمین یارب العالمین ۔ ۔ ۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments